دو کا فلسفہ کائنات کا متضاد توازن
---روما محمود-- کائنات جس اصول پر قائم ہے، وہ وحدت سے نکل کر "دو" کی طرف جاتا ہے۔ عددی اعتبار سے دو کا ہندسہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر فلسفیانہ اور وجودی اعتبار سے یہ کائنات کی بنیاد ہے۔ ہم جس دنیا میں سانس لیتے ہیں، وہ جوڑوں (Pairs) کے بغیر ادھوری ہے۔ دن اور رات، روشنی اور تاریکی، خوشی اور غم، مرد اور عورت، خیر اور شر—یہ سب "دو" کے اسی فلسفے کی مختلف جہتیں ہیں۔ فلسفے کی نظر میں "دو" کا مطلب صرف تعداد نہیں، بلکہ توازن ہے۔ اگر دنیا میں صرف روشنی ہوتی تو ہم اندھیرے کی قدر نہ جانتے۔ اگر صرف خوشی ہوتی تو غم کی گہرائی کا ادراک ممکن نہ ہوتا۔ دو کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک وجود دوسرے کے وجود کا محتاج ہے۔ اندھیرا، روشنی کے ہونے کی دلیل ہے۔ موت، زندگی کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ یہ تضاد دراصل تصادم نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرنے کا عمل ہے۔ قدیم فلسفیوں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ چینی فلسفے کا ین اور یانگ (Yin and Yang) کا تصور اسی فلسفے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بھی مکمل طور پر سیاہ یا سفید نہیں ہے۔ ہر چیز میں اپ...