Posts

Showing posts from June, 2026

پارکو بورڈ کی تشکیلِ نو مہارت یا مراعات کا کھیل؟

Image
---روما محمود--- ​پاکستان کے توانائی کے شعبے میں 'پارکو' (Pak-Arab Refinery Company) جیسے اہم ادارے کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حال ہی میں اس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیلِ نو کی خبر سامنے آئی ہے، جو صحافی شہباز رانا نے اپنے پلیٹ فارم پر شیئر کی ہے۔ یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک شدید معاشی بحران اور توانائی کے مہنگے نرخوں کی چکی میں پس رہا ہے۔ یہ تشکیلِ نو اصلاحات کے دعووں پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کرتی ہے۔ ​تخصص کا فقدان بیوروکریٹس یا انرجی ماہرین؟ ​کسی بھی بڑی کارپوریٹ اینٹیٹی یا قومی اہمیت کے حامل ادارے کے بورڈ کا بنیادی مقصد پالیسی سازی میں رہنمائی اور تکنیکی مہارت فراہم کرنا ہوتا ہے۔ توانائی کا شعبہ، جو ٹیکنالوجی، عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ اور پیچیدہ سپلائی چینز پر منحصر ہے، وہاں ایسے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو انرجی سیکٹر کی باریکیوں سے واقف ہوں۔ ​تاہم، پارکو بورڈ کی حالیہ تشکیل میں ایک بار پھر وہی روایتی طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ انرجی ماہرین کو شامل کرنے کے بجائے، وفاقی وزراء اور پہلے سے تعینات بیوروکریٹس کو ہی بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ سوال یہ...

پاکستان میں ایپکس کمیٹی قومی سلامتی، پالیسی سازی اور پیچیدہ چیلنجز

Image
  ---روما محمود--- یہ رہا پاکستان میں 'ایپکس کمیٹی' (Apex Committee) کے کردار، اس کی تشکیل اور قومی سلامتی کے تناظر میں اس کی اہمیت پر ایک تفصیلی اور تجزیاتی تحریر۔ ​ ​پاکستان کی تاریخ میں قومی سلامتی کے معاملات ہمیشہ سے ایک مرکزی حیثیت کے حامل رہے ہیں۔ مملکت کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات، دہشت گردی، انتہا پسندی اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ایسے فورم کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے جہاں عسکری اور سیاسی قیادت ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کر سکے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر 'ایپکس کمیٹی' کا تصور وجود میں آیا۔ ایپکس کمیٹی، جو بظاہر ایک انتظامی کمیٹی معلوم ہوتی ہے، درحقیقت پاکستان کی داخلی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کا مرکزِ ثقل ہے۔ ​ایپکس کمیٹی کا پس منظر اور ارتقاء ​ایپکس کمیٹی کا باقاعدہ تصور اور اس کی فعالیت میں تیزی سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) 2014 کے بعد آئی۔ اس دلخراش واقعے نے ریاست کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سکیورٹی ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ایک صفحے پر نہیں ہوں گی، تب تک دہشت گردی ...

زندگی محض گنتی کے دن یا ایک مقصدیت کا سفر

Image
  ---روما محمود--- ​کیا زندگی واقعی محض سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے درمیان کا وقفہ ہے؟ کیا ہم محض کلینڈر کے اوراق پلٹنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، یا ان اوراق پر کوئی ایسی تحریر بھی درج کرنی ہے جو وقت کے گزر جانے کے بعد بھی باقی رہے؟ یہ سوال جتنا قدیم ہے، اتنا ہی تلخ بھی۔ ​اکثر اوقات انسان زندگی کو ایک مکینیکل عمل سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔ ہم صبح اٹھتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور رات کو تھکن سے چور ہو کر سو جاتے ہیں۔ یہ 'دن گزارنا' تو ہے، مگر کیا یہ 'جینا' ہے؟ زندگی اور محض سانس لینے کے درمیان ایک باریک مگر گہرا فرق ہے۔ سانس لینا ایک حیاتیاتی عمل ہے، جبکہ جینا ایک تخلیقی عمل ہے۔ ​زندگی کا فلسفہ۔ کیفیت یا کمیت؟ ​ہم اپنی زندگی کو اکثر 'کمیت' (Quantity) سے ناپتے ہیں۔ ہم سالوں کو گنتے ہیں، عمر کے ہندسوں میں خوشی یا غم تلاش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا معیار دنوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان لمحات کی گہرائی سے متعین ہوتا ہے جنہیں ہم نے 'محسوس' کیا ہو۔ ایک دن جو دوسروں کے کام آ کر گزرا، وہ ان برسوں سے کہیں زیادہ وزنی ہے جو محض اپنی ...

محبت کا کرشمہ پیار سے تو جانور بھی سدھر جاتا ہے

Image
  ---روما محمود--- ​یہ ایک پرانی کہاوت ہے جسے ہم سب نے اپنی زندگی میں بارہا سنا ہے: "پیار سے تو جانور بھی سدھر جاتا ہے، انسان کیا چیز ہے۔" یہ جملہ بظاہر تو بہت سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر اس کے اندر انسانی نفسیات اور کائنات کے سب سے طاقتور جذبے، یعنی 'محبت'، کا ایک گہرا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ ​  غور کریں تو قدرت نے ہر جاندار کے اندر محبت اور شفقت کو پہچاننے کی صلاحیت رکھی ہے۔ ایک خونخوار جانور بھی اگر اسے مسلسل پیار اور اپنائیت ملے، تو اپنی درندگی چھوڑ کر وفادار بن جاتا ہے۔ تو پھر انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، جذبات اور احساسات کا ایک سمندر رکھتا ہے، وہ کیوں اس پیار کی زبان کو نہیں سمجھ پائے گا؟ ​ ​ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے 'سختی' اور 'تنقید' کو اپنی اصلاح کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم کسی پر چیخیں گے، اسے نیچا دکھائیں گے یا اس پر دباؤ ڈالیں گے، تو وہ ٹھیک ہو جائے گا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سختی سے انسان کے اندر 'انا' (Ego) بیدار ہوتی ہے۔ جب آپ کسی کو ڈراتے یا دباتے ہیں، تو وہ اندر سے ٹوٹتا نہیں، بلکہ باغی ہو جاتا...

اونٹ کا کینہ اور انسانی دل کا بوجھ

Image
  ---روما محمود--- عربوں میں ایک ضرب المثل مشہور ہے کہ "اونٹ کینہ پرور ہوتا ہے۔" کہا جاتا ہے کہ اگر آپ اونٹ پر بلاوجہ سختی کریں یا اسے ماریں، تو وہ اس وقت تو خاموش رہ سکتا ہے، لیکن وہ اس زیادتی کو اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ہے۔ وہ موقع ڈھونڈتا ہے، کئی سال انتظار کرتا ہے، اور جب اسے لگتا ہے کہ اب اسے بدلہ لینے کا بہترین موقع ملا ہے، تو وہ اپنی انتقامی کارروائی کر گزرتا ہے۔ ​ ​سنا ہے کہ اونٹ صحرا کا وہ باوقار اور صبر کرنے والا جانور ہے جو بلاوجہ کسی کو تنگ نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی اس کے ساتھ زیادتی کرے تو وہ اسے کبھی نہیں بھولتا۔ وہ اپنی یادداشت کے صندوقچے میں اس زیادتی کو بند کر لیتا ہے اور برسوں تک موقع کا منتظر رہتا ہے۔ اسے ہم 'کینہ' کہتے ہیں۔ ​یہ محض ایک جانور کی فطرت کا ذکر نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی انسانی فطرت کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ​ کیا ہم اونٹ سے بھی گئے گزرے ہیں ؟ ​انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے، اسے عقل و شعور کی دولت دی گئی ہے تاکہ وہ جذباتی ردعمل سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اکثر ہم اپنے اندر 'کینہ...

کل کی بے خبری انسان، تقدیر اور سرابِ مسلسل

Image
  ---روما محمود--- ​ لمحہِ موجود اور کل کا دھندلا خاکہ ​انسان کی پوری تاریخ دراصل ایک مسلسل جدوجہد ہے—ایک ایسی جدوجہد جو اس نے وقت کے بے رحم دھارے اور مستقبل کے اندھیروں کے خلاف لڑ رکھی ہے۔ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کی آخری سانس تک، ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں، اس کے پیچھے ایک مفروضہ ہوتا ہے کہ "کل" بھی ویسا ہی ہوگا جیسا "آج" تھا، یا شاید اس سے بہتر ہوگا۔ لیکن حقیقت کی بے رحم عدالت میں جب اس مفروضے کا ٹرائل ہوتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا سب سے بڑا سچ یہی ہے: "کوئی نہیں جانتا کہ کل  اس کے ساتھ کیا ہوگا!" ​یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر بہت سادہ، شاید کچھ حد تک روایتی یا فلسفیانہ لگتا ہے، لیکن جب اس کی گہرائی میں اترا جائے تو یہ انسانی تکبر کی دیواروں کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ انسان نے زمین کے سینے کو چاک کیا، سمندروں کی گہرائیوں کو ناپا، اور ستاروں پر کمندیں ڈالیں، لیکن وہ وقت کی اس باریک لکیر کو عبور کرنے میں ہمیشہ ناکام رہا جو ’آج‘ کو ’کل‘ سے جدا کرتی ہے۔ ​ہم سب ایک ایسے سفر کے مسافر ہیں جہاں راستے دھندلے ہیں، منزل کا نقشہ ادھورا ہے اور اگلا موڑ ک...

پھل دار درخت اور سفارت کاری کی ایک نئی فصل

Image
  ---روما محمود--- میں( روما محمود) نے ایک سادہ سی تجویز پیش کی ہے جو دیکھنے میں معمولی لگتی ہے مگر اس کے اندر ایک انقلابِ سوچ چھپا ہوا ہے۔ جب کوئی غیر ملکی سربراہ پاکستان آتا ہے تو روایت کے مطابق ایک چیڑ (دیودار) کا درخت لگایا جاتا ہے۔ یہ درخت خوبصورت ہے، لمبا، سیدھا اور تاریخی طور پر متاثر کن۔ مگر کیا یہ صرف ایک تقریب کا حصہ ہے یا ہماری قومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے؟ چیڑ کا درخت صدیوں تک کھڑا رہ سکتا ہے، مگر اس سے کسی کو ایک دانہ بھی نہیں ملتا۔ نہ پرندوں کو، نہ مسافر کو، نہ بچوں کو۔ یہ صرف ایک یادگار بن کر رہ جاتا ہے — ایک فوٹو آپ، ایک پلیت، اور پھر خاموشی۔   اس کی جگہ اگر پھل دار درخت لگائے جائیں تو کیا ہو؟ ایک ایسا درخت جس سے نہ صرف ہوا صاف ہو، بلکہ لوگ بھی کھائیں، پرندے بھی، کیڑے مکوڑے بھی۔ ایک درخت جو زندگی دیتا رہے، نہ کہ صرف کھڑا رہے۔ یہ تجویز صرف ماحولیاتی نہیں، یہ اخلاقی، مذہبی اور سفارتی بھی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ ایک پھل دار درخت تو گویا مسلسل صدقہ ہے۔ جب تک وہ پھل دیتا رہے گا، لگانے والے کے نامہ اعمال میں برکت بڑھتی رہے گی۔ چیڑ کا درخت ش...

چوری ایک کائناتی جرم، سماجی ناسور اور انسانی نفسیات کا تاریک رخ

Image
  ---روما محمود--- ​انسان نے جب شعور کی دہلیز پر قدم رکھا اور "میرا" اور "تیرا" کے تصورات نے جنم لیا، تو اسی دن سے ایک ایسی برائی نے بھی جنم لیا جس نے انسانی تاریخ کے ہر دور میں امن، انصاف اور سماجی توازن کو تہہ و بالا کیا۔ اس برائی کو ہم چوری کہتے ہیں۔ بظاہر چوری ایک انتہائی سادہ سا عمل معلوم ہوتی ہے—کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت پر قبضہ کر لینا—لیکن اگر اس کے فلسفیانے، نفسیاتی، معاشی  پہلوؤں کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چوری محض ایک فرد کا دوسرے فرد کے خلاف جرم نہیں، بلکہ یہ پورے سماجی معاہدے (Social Contract) پر ایک کاری ضرب ہے۔ ​آج کے جدید دور میں چوری نے اپنے روایتی روپ بدل لیے ہیں۔ اب یہ صرف اندھیری راتوں میں تالے توڑنے یا جیب کاٹنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ڈیجیٹل کوریڈورز، کارپوریٹ دفاتر، اور دانشورانہ محفلوں میں ایسے ایسے نفیس روپ دھار لیے ہیں کہ بعض اوقات چور خود کو مسیحا ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ کالم چوری کے اسی کثیر جہتی روپ، اس کے نفسیاتی محرکات، معاشرتی اثرات اور جدید دور میں اس کی بدلتی ہوئی شکلوں کا احاطہ کرتا ہے۔ ...

ابنِ الوقت معاشرہ ضرورت کے خدا اور مفادات کے پجاری

Image
  ---روما محمود--- ​دنیا کا قدیم ترین اصول "ضرورت" ہے۔ یہ ضرورت ہی ہے جو جنگل کے اصول کو انسانی بستیوں پر نافذ کرتی ہے، اور یہ ضرورت ہی ہے جو انسان کو کبھی فرشتہ اور کبھی شیطان بنا کر پیش کرتی ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ معاشرے کا ضمیر کبھی بھی مستقل اخلاقی اصولوں پر قائم نہیں رہا، بلکہ اس کی ڈوریاں ہمیشہ "مفاد" کے ہاتھوں میں رہی ہیں۔ ​ایک تلخ حقیقت جس کا سامنا ہر دور میں حساس انسانوں کو کرنا پڑا، اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ ​"جب دنیا آپ سے چھیننے پر آئے تو آپ کا کیا ہوا ہر کام، نام، اور شناخت تک چھین لیتی ہے۔ لیکن جب اسی دنیا کو آپ سے کام ہو، تو آپ کی ہر بدی کو لوگوں کے سامنے ایک خوبصورت تعریف بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔" ​ اسی معاشرتی منافقت، ابن الوقتی (Opportunism)، اور مفادات کے اس بازار کا ایک تفصیلی احاطہ میں نے کیا ہے جہاں انسان کی قیمت اس کی ذات نہیں، بلکہ اس کی افادیت (Utility) طے کرتی ہے۔ اس کو چھے حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ​حصہ اول: جب دنیا چھیننے پر آتی ہے — شناخت کی پامالی ​معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ ایک بے رحم جج ہے۔ جب ت...

سوئٹزرلینڈ میں امریکہ-ایران امن مذاکرات: ایک تاریخی سفارتی لمحہ  موجود۔

Image
  ---روما محمود--- سوئٹزرلینڈ، جو طویل عرصے سے عالمی سفارت کاری کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ برگن شٹوک (Bürgenstock) کے پہاڑی تفریحی ریزورٹ میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات نہ صرف خطے کی سیاست بلکہ عالمی استحکام کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ "کانفرنس" یا سمٹ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہو رہا ہے، جس میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کلیدی کردار ادا کیا۔ چند ماہ قبل شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ طے پایا، جس پر پاکستان کی ثالثی میں دستخط ہوئے۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ کے اس پر سکون پہاڑی مقام کو منتخب کیا گیا، جہاں 2024 میں یوکرین امن سمٹ بھی ہو چکا تھا۔ سوئس حکومت نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے، نو فلائی زون نافذ کیا، اور رازداری کو یقینی بنایا تاکہ حساس بات چیت بغیر دباؤ کے جاری رہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جن کے ساتھ خصوصی ایلچی سٹیون وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ ایرانی جانب سے پارلیمنٹ کے ...

​مشترکہ اعلامیہ: ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

Image
  ترجمہ : روما محمود ​ ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا لیک لوسرن سربراہی اجلاس کے اختتام، اور ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی شرکت کے ساتھ پہلی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ ​اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ میں اختتام پذیر ہو گیا ہے، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، ریاستہائے متحدہ امریکہ، اور دونوں ثالث فریقین، ریاستِ قطر اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ​لیک لوسرن سربراہی اجلاس ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوا۔ اس دوران حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے جس میں مزید تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک طریقہ کار (مکینکزم) کی تشکیل بھی شامل ہے۔ ​مفاہمتی یادداشت (MoU) کو بنیاد بناتے ہوئے، فریقین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جو ثالثی پر سیاسی نگرانی فراہم کرے گی۔ چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو رپورٹ کریں گے اور ایٹمی امور، پابندیوں، اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ اور تنازعات کے حل...

روشنی کا طویل ترین جشن جب سورج الوداع کہنے میں جلدی نہیں کرتا

Image
  ---روما محمود--- ​آج 21 جون ہے۔ کیلنڈر پر یہ محض ایک عام سی تاریخ ہو سکتی ہے، لیکن کائنات کے عظیم نظام میں یہ ایک انتہائی خوبصورت اور اہم سنگِ میل ہے۔ آج سال کا سب سے لمبا دن اور مختصر ترین رات ہے۔ سورج آج زمین کے شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے، جیسے وہ زمین کو الوداع کہنے میں بالکل جلدی میں نہ ہو۔ ​سائنسی زبان میں اسے 'سمر سولسٹس' (Summer Solstice) یا انقلابِ صیف کہا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زمین کا اپنے محور پر جھکاؤ سورج کو ہمارے سب سے زیادہ قریب لے آتا ہے۔ لیکن سائنس کے خشک اعداد و شمار سے ہٹ کر، اگر ہم ایک عام انسان کی نظر سے دیکھیں، تو یہ دن کائنات کے حسن اور وقت کی رفتار پر غور کرنے کا ایک بہترین بہانہ ہے۔ ​گرمی، یادیں اور طویل دوپہریں ماضی کی بھولی بھٹکی یاد ​ہمارے ہاں، خاص طور پر پاکستان میں، طویل دن کا ذکر آتے ہی ذہن میں تپتی ہوئی دھوپ، شدید گرمی اور سستانے کی خواہش ابھرتی ہے۔ لیکن اس دن کا ایک رومانوی پہلو بھی ہے۔ یہ دن ہمیں بچپن کی ان گرمیوں کی چھٹیوں کی یاد دلاتا ہے جب دن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا، ج...

مچھر ایک چھوٹا دشمن، ایک بڑا قاتل

Image
  ---روما محمود--- مچھر۔ ایک ایسا جاندار جو barely ایک سینٹی میٹر کا ہوتا ہے، پھر بھی پوری انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ اس کے کاٹنے سے مرتے ہیں۔ پاکستان، بھارت، افریقہ اور جنوبی امریکہ جیسے علاقوں میں تو یہ موسموں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ رات کو جب لائٹس بجھ جاتی ہیں تو اس کی بھن بھناتی آواز ایک خوف کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ نہ صرف خون چوستا ہے بلکہ مہلک وائرس، بیکٹیریا اور پرجیویوں کا بھی کیریئر ہے۔ آج کا یہ کالم مچھر کی دنیا، اس کی حیات، انسانی صحت پر اثرات، روک تھام کے طریقوں اور اس کے خلاف جاری جنگ پر مشتمل ہے مچھر ایک حشرات الارض ہے جو Diptera آرڈر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی تقریباً 3500 سے زائد اقسام دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ سب سے عام Anopheles، Aedes اور Culex ہیں۔ مچھر کی زندگی چار مراحل میں تقسیم ہوتی ہے۔  انڈا، لاروا، پوپا اور بالغ۔ مادہ مچھر پانی میں انڈے دیتی ہے۔ ایک مادہ مچھر ہزاروں انڈے دے سکتی ہے۔ لاروا پانی میں رہ کر کھاتا ہے اور سانس لیتا ہے۔ یہ مرحلہ 5 سے 14 دن تک چل سکتا ہے۔ پھر پوپا بنتا ہے جو متحرک ہوتا ہے مگر کھاتا ن...

قانون کی زبان اور گونگی عوام ایک دیرینہ قومی تضاد.

Image
  ---روما محمود--- یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ آئینی، سماجی اور عوامی معاملہ ہے۔ پاکستان میں سالہا سال سے یہ تضاد موجود ہے کہ ملک کی اکثریت انگریزی زبان سے نابلد ہے، جبکہ تقدیر بدلنے والے قوانین اسی زبان میں تیار اور پاس کیے جاتے ہیں۔ ​ ​ ​کسی بھی آزاد اور خودمختار ملک میں پارلیمنٹ کا بنیادی مقصد عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ جس عوام کے لیے قانون بنایا جا رہا ہو، وہ اس قانون کا ایک لفظ بھی پڑھنے یا سمجھنے سے قاصر ہو؟ پاکستان میں بدقسمتی سے گزشتہ پون صدی سے یہی تماشہ جاری ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی انگریزی زبان نہیں سمجھ سکتی، مگر حیرت انگیز طور پر ہماری پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) میں پیش ہونے والے، بحث کا حصہ بننے والے اور پاس ہونے والے تقریباً تمام قوانین اور بلز انگریزی زبان میں ہی ڈرافٹ کیے جاتے ہیں۔ ​یہ صورتحال نہ صرف معنی خیز ہے بلکہ عوام کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں نہیں   پارلیمنٹ میں کسی بھی بل کو پاس کرنے سے پہلے...

اسلام آباد یادداشتِ معاہدہ (Memorandum of Understanding

Image
ترجمہ - روما محمود-   ​اسلام آباد یادداشتِ معاہدہ (Memorandum of Understanding) ​بہ میان ​اسلامی جمہوریہ ایران ​اور ​ریاست ہائے متحدہ امریکہ ​اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے مشترکہ طور پر، نیک نیتی کے ساتھ، مورخہ ........ 2026 کو، بمقام ......................، درج ذیل امور پر اتفاق کیا ہے: ​ 1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ، اور موجودہ جنگ میں ان کے اتحادی، اس یادداشتِ معاہدہ (MoU) پر دستخط کر کے، لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، اور اب سے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی جنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہ کرنے، اور ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے، اور لبنان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کو یقینی بنانے کا عہد کرتے ہیں۔ حتمی معاہدہ تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، جنگ کے مستقل خاتمے اور اس پیراگراف کی دیگر شقوں کی توثیق کرے گا۔ ​ 2۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے اندرونی معامل...

قرآنِ حکیم کی ایک جامع اصطلاح "صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ" اور ہمارا اجتماعی المیہ

Image
  ​ ---روما محمود---  لفظوں کی حرمت اور خاموشی کا زہر ​قرآنِ مجید جہاں انسان کی فلاح اور رہنمائی کی کتاب ہے، وہاں یہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویوں اور تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان بھی بیان کرتی ہے۔ کتابِ الٰہی کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 18 میں ایک ایسی جامع اور لرزہ خیز اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو کسی بھی دور کے زوال پزیر معاشرے کا احاطہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہ الفاظ ہیں  "صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ" یعنی "یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس یہ  (راہِ راست کی طرف) لوٹ کر نہیں آئیں گے۔" ​بظاہر یہ الفاظ چودہ سو سال قبل کے منافقین اور حق کے منکرین کے لیے نازل ہوئے تھے، لیکن اگر آج ہم اپنے اردگرد کی دنیا، بالخصوص اپنے مسلم اور ملکی معاشرے کا گہرا مائیکروسکوپک مطالعہ کریں، تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ تین الفاظ آج ہمارا سب سے بڑا اجتماعی المیہ بن چکے ہیں۔ ہم نے جسمانی طور پر تو آنکھیں، کان اور زبانیں سلامت رکھی ہیں، لیکن فکری، اخلاقی اور ضمیری طور پر ہم اسی "صمٌ بکمٌ" کی تصویر بن چکے ہیں۔ ​ "صُمٌّ" (بہرے): حق کی آواز سے...