زندگی محض گنتی کے دن یا ایک مقصدیت کا سفر

 


---روما محمود---



​کیا زندگی واقعی محض سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے درمیان کا وقفہ ہے؟ کیا ہم محض کلینڈر کے اوراق پلٹنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں، یا ان اوراق پر کوئی ایسی تحریر بھی درج کرنی ہے جو وقت کے گزر جانے کے بعد بھی باقی رہے؟ یہ سوال جتنا قدیم ہے، اتنا ہی تلخ بھی۔



​اکثر اوقات انسان زندگی کو ایک مکینیکل عمل سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتا ہے۔ ہم صبح اٹھتے ہیں، اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور رات کو تھکن سے چور ہو کر سو جاتے ہیں۔ یہ 'دن گزارنا' تو ہے، مگر کیا یہ 'جینا' ہے؟ زندگی اور محض سانس لینے کے درمیان ایک باریک مگر گہرا فرق ہے۔ سانس لینا ایک حیاتیاتی عمل ہے، جبکہ جینا ایک تخلیقی عمل ہے۔

​زندگی کا فلسفہ۔ کیفیت یا کمیت؟

​ہم اپنی زندگی کو اکثر 'کمیت' (Quantity) سے ناپتے ہیں۔ ہم سالوں کو گنتے ہیں، عمر کے ہندسوں میں خوشی یا غم تلاش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا معیار دنوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ ان لمحات کی گہرائی سے متعین ہوتا ہے جنہیں ہم نے 'محسوس' کیا ہو۔ ایک دن جو دوسروں کے کام آ کر گزرا، وہ ان برسوں سے کہیں زیادہ وزنی ہے جو محض اپنی ذات کے گرد چکر کاٹتے ہوئے بیت گئے۔

​"زندگی دنوں کا نام نہیں، بلکہ ان نقوش کا نام ہے جو ہم اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔"


​معاشرتی ذمہ داری اور مقصدیت

​اگر زندگی کا مقصد صرف دنوں کو گزارنا ہوتا، تو انسان کی تخلیقی صلاحیتیں اور اس کا شعور بے معنی ہو جاتے۔ معاشرے میں رہتے ہوئے ہماری زندگی دوسروں کے لیے ایک سہارا، ایک روشنی یا ایک مثال بننی چاہیے۔ جب ہم اپنے ذاتی مفادات سے نکل کر کسی اجتماعی بہتری یا کسی مقصد کی جستجو میں وقت صرف کرتے ہیں، تب ہی ہمیں زندگی کی اصل حرارت محسوس ہوتی ہے۔

​دنیا کی تاریخ ان لوگوں کی ہے جنہوں نے 'دن نہیں گزارے'، بلکہ 'وقت کو تسخیر کیا'۔ انہوں نے اپنے ہر لمحے کو ایک مقصد سے جوڑا۔ جب مقصد سامنے ہو، تو مشکلات کی کڑواہٹ کم ہو جاتی ہے اور ناکامی بھی ایک سبق بن کر سامنے آتی ہے۔

​وقت کا ضیاع یا تعمیر؟

​ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وقت گزر رہا ہے تو ہم بوڑھے ہو رہے ہیں۔ حقیقت میں، وقت کے ساتھ ہم 'ارتقاء' (Evolution) کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم آج بھی وہی ہیں جو ہم کل تھے، تو ہم نے وقت ضائع کیا ہے۔ اگر ہم نے کچھ سیکھا، کوئی ہنر پایا، کسی دل کو خوش کیا، یا کسی مسئلے کا حل نکالا، تو ہم نے اس دن کو زندگی میں شمار کیا ہے۔


​آخر میں، یہ سوال خود سے پوچھنا ضروری ہے: کیا ہم نے آج اپنے ہونے کا حق ادا کیا؟

​زندگی دنوں کے گزرنے کا نام نہیں، بلکہ ان دنوں کو ایک 'معنویت' دینے کا نام ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر دن کوئی بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا جائے۔ کبھی کسی مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر خوش ہونا، کسی کی مدد کر دینا، یا اپنی ذات میں کوئی ایک اچھی تبدیلی لانا بھی زندگی کو 'گزارنے' سے نکال کر 'جینے' کی سطح پر لے آتا ہے۔

 کلینڈر کے پتے تو گرتے ہی رہیں گے، مگر ان پتوں کے گرنے کے بعد جو زمین تیار ہوگی، وہ آپ کے کردار کی فصل سے پہچانی جائے گی۔ زندگی کو صرف گزاریں مت، اسے تعمیر کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔