Posts

Showing posts from January, 2026

بلوچستان کے خون آلود صبح — 31 جنوری 2026 کا ایک دردناک دن

Image
31 جنوری 2026 ایک ایسے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے ایک منظم، وسیع اور خونریز حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ صبح سویرے سے ہی کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی، گوادر اور دیگر 12 مقامات پر مسلح افراد نے پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر سیکیورٹی تنصیبات پر حملے کیے۔  سرکاری ذرائع کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 10 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ شدت پسندوں کے متعدد گروہ بھی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 37 سے لے کر 58 تک دہشت گرد مارے جانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔  یہ حملے بلوچ علیحدگی پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے “Herof 2.0” جیسے آپریشنز سے منسوب کیے جا رہے ہیں—جو نہ صرف سیکیورٹی چوکیوں بلکہ قیدیوں کی رہائی، انفراسٹرکچر تباہی اور عوامی خوف و ہراس پھیلانے کی کوششیں بھی شامل تھے۔  حملوں کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے سخت ردعمل دیا اور کئی مقامات پر شدت پسندوں کو ناکام بنا دیا۔ حکام نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی اور عوامی تحفظ پر زور دیا، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہ کرن...

کراچی سے لاہور تک: ایک ہی کہانی، قومی ناکامی۔

Image
  حالیہ بارش کے بعد لاہور اور کراچی میں جو کچھ ہوا، وہ کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ واضح انتظامی ناکامی تھی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عمومی جملوں سے نکل کر نام لے کر بات کی جائے۔ سب سے پہلے بات لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) اور واسا لاہور (WASA) کی۔ ہر مون سون سے قبل یہی ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ نالے صاف ہیں، مشینری تیار ہے اور فیلڈ اسٹاف الرٹ ہے۔ مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ مال روڈ، نشتر ٹاؤن، سبزہ زار اور نشیبی علاقوں میں گٹر اُبلتے رہے۔  سوال یہ ہے کہ اگر نالے صاف تھے تو پانی کہاں سے آیا؟ یا صفائی صرف کاغذوں میں ہوتی ہے؟ کراچی میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ یہاں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC)، کے ایم سی (KMC)، ڈی ایم سی اور سندھ حکومت سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ لیاری ندی اور ملیر ندی برسوں سے تجاوزات کی زد میں ہیں، مگر نہ بلدیہ حرکت میں آتی ہے، نہ صوبائی حکومت۔ نتیجہ یہ کہ ہر بارش میں یہی ادارے ایک دوسرے کی نااہلی چھپانے کے لیے بیانات جاری کرتے ہیں۔ اہم سوال پاکستان میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD) سے بھی بنتا ہے۔ بارش کی پیشگی وارننگ د...

​سید الایام: جمعہ کا دن

Image
   جمعہ المبارک مسلمانوں کے لیے ہفتے کا سب سے اہم اور بابرکت دن ہے۔ اسے "سید الایام" یعنی تمام دنوں کا سردار کہا جاتا ہے۔ اس دن کی اہمیت دینی، سماجی اور روحانی اعتبار سے بہت زیادہ ہے۔ ​اسلام میں جمعہ کے دن کو ایک "مومنین کی عید" کا درجہ حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اس دن کے نام سے ایک مکمل سورت "سورہ الجمعہ" موجود ہے، جس میں نمازِ جمعہ کی پکار سنتے ہی تمام کاروبار چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔  ​قبولیت کی گھڑی: احادیث کے مطابق جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں مانگی گئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔  ​گناہوں کی معافی: جو شخص اچھی طرح وضو کر کے جمعہ کی نماز کے لیے جاتا ہے، اس کے ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے صغیرہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔  ​درود پاک کی کثرت: نبی کریم ﷺ نے اس دن اپنے اوپر کثرت سے درود بھیجنے کا حکم دیا ہے کیونکہ یہ آپ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے ​جمعہ کی برکات سمیٹنے کے لیے چند اعمال کو سنت قرار دیا گیا ہے۔  ​غسل کرنا: جمعہ کے دن غسل کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔  ​صاف لباس اور خوشبو: نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہننا اور میسر ہو تو خوش...

پانی: آنکھ سے ٹپکتا سوال

Image
  کبھی شبنم بنی، کبھی صدف میں ڈھل گیا پانی آنکھ سے ٹپکا تو آنسو کہا گیا۔ پانی کی کہانی صرف دریا اور نہروں تک محدود نہیں۔ یہ کہانی آنکھ سے ٹپکتے آنسو تک پھیلی ہوئی ہے۔ جو پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، وہی جب آنکھ میں جمع ہو جائے تو دکھ بن جاتا ہے۔ شاید یہی فرق ہے ضرورت اور محرومی کا۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں پانی کی قلت صرف اعداد و شمار نہیں رہی، بلکہ احساس بن چکی ہے۔ کہیں پیاس ہے، کہیں سیلاب—اور دونوں صورتوں میں پانی انسان سے سوال کرتا ہے۔ کبھی شبنم کی طرح نرمی سے اترتا ہے، اور کبھی آنسو بن کر آنکھوں سے بہہ جاتا ہے۔ پاکستان میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا، یہ معاشرتی ناانصافی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ امیر کے لیے بوتل میں بند، غریب کے لیے خواب میں۔ وہی پانی جو زندگی دیتا ہے، غلط تقسیم اور بدانتظامی کے باعث زندگی چھیننے لگتا ہے۔ ہم نے پانی کو صرف استعمال کی شے سمجھا، امانت نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دریا کمزور ہو گئے اور آنکھیں نم۔ اگر شبنم کو صدف میں قید کر دیا جائے تو موتی بنتا ہے، مگر اگر پانی کو بے دردی سے بہنے دیا جائے تو آنسو۔ اب وقت ہے کہ ہم پانی کو آنکھ سے پہ...

وقت: سب سے تیز رفتار حقیقت

Image
   یہ دنیا ایک مستقل دوڑ میں ہے، مگر اس دوڑ کا سب سے تیز کھلاڑی وقت ہے۔ انسان دوڑتا ہے، معاشرے دوڑتے ہیں، ریاستیں ترقی کے پیچھے بھاگتی ہیں، مگر وقت سب سے آگے ہے۔ وہ نہ کسی کا انتظار کرتا ہے، نہ کسی کے لیے رکتا ہے۔ انسان ہمیشہ اس کے پیچھے پیچھے ہے—کبھی ہانپتا ہوا، کبھی امید میں، کبھی حسرت میں۔ انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھاگ یا دوڑ انسان کی قدیم ترین سرگرمیوں میں شامل ہے۔ ابتدا میں یہ دوڑ بقا کے لیے تھی—شکار کے حصول یا خطرات سے بچنے کے لیے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ دوڑ محض جسمانی نہیں رہی، بلکہ ذہنی، معاشی اور سماجی شکل اختیار کر گئی۔ آج کوئی روزی کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے، کوئی ترقی کے زینے چڑھنا چاہتا ہے، مگر ان سب کے درمیان وقت خاموشی سے سب پر سبقت لے جاتا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وہ کبھی رکتا نہیں۔ دن رات میں بدل جاتا ہے، رات دن کو جنم دیتی ہے۔ زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں، نئی زندگیاں شروع ہو جاتی ہیں، مگر وقت کی رفتار ایک جیسی رہتی ہے۔ انسان اکثر یہ گمان کرتا ہے کہ وہ وقت کو قابو میں کر لے گا، مگر درحقیقت وہ خود وقت کے ...

جہاں اتنے دھوکے کھائے، وہاں ایک اور سہی

Image
کسی نے کیا خوب کہا ہے: جہاں اتنے دھوکے کھائے، وہاں ایک اور سہی۔ حال ہی میں سامنے آنے والا مبینہ سرمایہ کاری فراڈ محض ایک مالی معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جو پاکستانی کرکٹ، اس کے نظام اور اس سے جڑی دولت پر لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق کپتان انضمام الحق سمیت چند موجودہ اور سابق قومی کرکٹرز ایک ممکنہ Investment Fraud میں متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ فی الحال یہ معاملہ الزامات اور دعوؤں تک محدود ہے، نہ کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی مکمل تحقیقات۔ خبروں کے مطابق ایک کاروباری شخص نے کئی کرکٹرز سے کروڑوں روپے سرمایہ کاری کے نام پر حاصل کیے اور ماہانہ 8 سے 9 فیصد منافع کا وعدہ کیا۔ ابتدا میں چند ماہ منافع دیا گیا، جس سے اعتماد مضبوط ہوا، مگر بعد ازاں نقصان کا بہانہ بنا کر وہ شخص رابطے سے غائب ہو گیا۔ اس کا نام عبدالرحمان بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق متاثر ہونے والوں میں انضمام الحق، بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان، سلمان علی آغا اور چند دیگر افراد شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ رقم ہنڈی کے ذریعے دبئی منتقل کی گئی، جس کے باعث ...

History’s Courtroom: Today’s Worldعالمی صورتحال، ٹرمپ کی سیاست اور سلگتی دنیا: ایک تجزیہ

Image
  Today’s world is passing through a strange and frightening phase. It feels as though the season of wars has returned. Every country, every region, and every human being is gripped by anxiety and unease. Even unwillingly, a fear has settled in our hearts—that what is happening today may turn into a major tragedy tomorrow, and that some dreadful moment may suddenly confront us. Former U.S. President Donald Trump, because of his prominent personality, remains a constant topic in global politics. He dresses well, delivers lengthy statements, and is often seen speaking to the media while traveling on aircraft. In his recent remarks, he has expressed readiness for negotiations with Iran on one hand, while on the other he has hinted at possible military action. Iran’s military leadership spokesperson, Munir Khadeh, has stated that Iran is prepared for both war and negotiations. Meanwhile, Ayatollah Khamenei, speaking in a stern tone, warned that Trump should remember the fate of Pharaoh...

تاریخ کے کٹہرے میں آج کی دنیا

Image
    آج کی دنیا ایک عجیب اور خوفناک کیفیت سے گزر رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنگوں کا موسم لوٹ آیا ہو۔ ہر ملک، ہر خطہ اور ہر انسان بے چینی اور اضطراب میں مبتلا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ اندیشہ دل میں گھر کر چکا ہے کہ جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ کل کسی بڑے سانحے کی شکل اختیار نہ کر لے، اور کہیں کوئی بھیانک لمحہ اچانک ہمارے سامنے آ کھڑا نہ ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بہترین شخصیت کے باعث عالمی سیاست میں مسلسل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ وہ عمدہ لباس پہنتے ہیں، طویل گفتگو کرتے ہیں اور اکثر جہاز میں سفر کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے نظر آتے ہیں۔ اپنے حالیہ بیانات میں وہ ایک طرف ایران سے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہیں، تو دوسری جانب فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیتے ہیں۔ ایرانی عسکری قیادت کے ترجمان منیر خادے کا کہنا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات، دونوں کے لیے تیار ہے۔ ادھر آیت اللہ خامنہ ای نے سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے انجام کو یاد رکھنا چاہیے۔ ایران میں جاری کشیدگی کے نتیجے میں اب تک 648 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب امریکی بیانات ...

Islamabad’s Falling Trees and the Sign of Changing Times

Image
Tree cutting is continuing in Islamabad with full force. When the capital was shifted to Islamabad, these trees were planted at the same time. Entire forests were deliberately grown so that this city could remain close to nature—peaceful and balanced. Today, the sudden cutting down of those very trees is not merely an administrative decision; it is a clear sign of changing times. When trees are cut, it is not just wood that is lost. Birds migrate, animals are displaced, and insects are forced to abandon their habitats. And this process will not stop here. Interference with nature ultimately affects human beings as well. When the environment deteriorates, human peace, behavior, and way of life are also disturbed. I have not visited Islamabad for the past six years. I live close to Islamabad, yet during this period our entry into the city has been made almost impossible. Except for a few limited occasions, access has remained closed. Places that were once open to everyone are now marked ...

اسلام آباد کے کٹتے درخت اور بدلتے وقت کی علامت

Image
 اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی پورے زور و شور سے جاری ہے۔ جب دارالحکومت اسلام آباد منتقل کیا گیا تھا تو یہ درخت اسی وقت لگائے گئے تھے۔  باقاعدہ جنگل اُگائے گئے تھے تاکہ یہ شہر فطرت کے قریب، پُرسکون اور متوازن رہے۔ آج انہی درختوں کا یوں یک دم کٹ جانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ وقت کے بدل جانے کی ایک واضح علامت ہے۔ درختوں کے ساتھ صرف لکڑی نہیں کٹتی، بلکہ پرندے ہجرت کرتے ہیں، جانور بے گھر ہوتے ہیں اور کیڑے مکوڑے بھی اپنا مسکن چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا۔  فطرت میں مداخلت کا اثر انسان تک بھی پہنچتا ہے۔ جب ماحول بگڑتا ہے تو انسانوں کا سکون، رویے اور طرزِ زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ میں گزشتہ چھ برس سے اسلام آباد نہیں گئی۔ اسلام آباد کے قریب رہتی ہوں، مگر اس عرصے میں ہمارا وہاں جانا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے۔  چند گنتی کے مواقع کے سوا ہمارا داخلہ بند رہا۔ جو جگہیں کبھی سب کے لیے کھلی تھیں، آج وہاں رکاوٹیں ہیں، پابندیاں ہیں، اور خاموشی ہے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ شکر پڑیاں اور دیگر علاقوں میں بھی مکمل درختوں کی صفائی کی جا رہی ہے۔  درختو...