وقت: سب سے تیز رفتار حقیقت

  



یہ دنیا ایک مستقل دوڑ میں ہے، مگر اس دوڑ کا سب سے تیز کھلاڑی وقت ہے۔ انسان دوڑتا ہے، معاشرے دوڑتے ہیں، ریاستیں ترقی کے پیچھے بھاگتی ہیں، مگر وقت سب سے آگے ہے۔ وہ نہ کسی کا انتظار کرتا ہے، نہ کسی کے لیے رکتا ہے۔ انسان ہمیشہ اس کے پیچھے پیچھے ہے—کبھی ہانپتا ہوا، کبھی امید میں، کبھی حسرت میں۔

انسانی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بھاگ یا دوڑ انسان کی قدیم ترین سرگرمیوں میں شامل ہے۔ ابتدا میں یہ دوڑ بقا کے لیے تھی—شکار کے حصول یا خطرات سے بچنے کے لیے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ دوڑ محض جسمانی نہیں رہی، بلکہ ذہنی، معاشی اور سماجی شکل اختیار کر گئی۔ آج کوئی روزی کے پیچھے بھاگ رہا ہے، کوئی اقتدار کے خواب دیکھ رہا ہے، کوئی ترقی کے زینے چڑھنا چاہتا ہے، مگر ان سب کے درمیان وقت خاموشی سے سب پر سبقت لے جاتا ہے۔

وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ وہ کبھی رکتا نہیں۔ دن رات میں بدل جاتا ہے، رات دن کو جنم دیتی ہے۔ زندگیاں ختم ہو جاتی ہیں، نئی زندگیاں شروع ہو جاتی ہیں، مگر وقت کی رفتار ایک جیسی رہتی ہے۔ انسان اکثر یہ گمان کرتا ہے کہ وہ وقت کو قابو میں کر لے گا، مگر درحقیقت وہ خود وقت کے ہاتھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کا ضیاع دراصل زندگی کا ضیاع بن جاتا ہے۔

اسی تناظر میں اگر دوڑ کو دیکھا جائے تو یہ صرف ایک ورزش نہیں بلکہ وقت سے جڑی ایک علامت بھی ہے۔ باقاعدہ دوڑ انسان کو نظم و ضبط سکھاتی ہے—وقت پر اٹھنا، وقت نکالنا اور اپنے جسم و ذہن کو متحرک رکھنا۔ بھاگنے سے جسم کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں، دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور انسان بیماریوں سے کسی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق روزانہ کی دوڑ موٹاپے، بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل میں نمایاں کمی لاتی ہے۔

ذہنی سطح پر بھی دوڑ انسان کو وقت کے دباؤ سے نجات دلاتی ہے۔ چند لمحوں کی دوڑ انسان کو خود سے جوڑ دیتی ہے، سوچ کو واضح کرتی ہے اور ذہنی بوجھ ہلکا کر دیتی ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو لوگ وقت کو سمجھ لیتے ہیں، وہی زندگی کی دوڑ میں متوازن رہ پاتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ وقت کیوں بھاگ رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہم محض اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں یا اس سے سیکھ بھی رہے ہیں؟ اگر انسان وقت کو دشمن نہیں بلکہ رہنما سمجھ لے، تو یہی وقت اس کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

وقت سب سے تیز ہے، یہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم اس دوڑ میں اندھا دھند بھاگنے کے بجائے، ہوش اور شعور کے ساتھ قدم اٹھائیں—کیونکہ جو وقت کو سمجھ گیا، وہی زندگی کی اصل رفتار کو پا گیا۔

 

پاکستان اس وقت ایک عجیب دوڑ میں شامل ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوڑ رہے ہیں یا صرف ہانپ رہے ہیں—یہ طے نہیں۔ وقت یہاں بھی بھاگ رہا ہے، دنیا کی طرح، مگر فرق یہ ہے کہ باقی دنیا وقت کے ساتھ قدم ملا رہی ہے اور ہم اب بھی یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ دوڑنا ہے یا بیٹھ کر حالات کا انتظار کرنا ہے۔

ہمارے ہاں فرد روزگار کے پیچھے بھاگ رہا ہے، نوجوان مستقبل کی تلاش میں سرگرداں ہیں، کسان موسم اور منڈی کے درمیان پستا جا رہا ہے، تاجر غیر یقینی صورتحال سے خوف زدہ ہے اور ریاست فیصلوں کی تاخیر میں الجھی ہوئی ہے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی دوڑ میں ہے، مگر وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھتا رہتا ہے اور ہم پیچھے رہ جانے کا نوحہ لکھتے رہتے ہیں۔

دنیا نے وقت کو سرمایہ بنا لیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے منصوبہ بندی، نظم و ضبط اور تسلسل کے ذریعے وقت کو اپنا ساتھی بنایا، جبکہ ہمارے ہاں وقت اکثر فائلوں میں دب جاتا ہے، کمیٹیوں میں ضائع ہو جاتا ہے اور وعدوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ فیصلے ہوتے ہیں، مگر وقت پر نہیں؛ منصوبے بنتے ہیں، مگر مکمل نہیں ہوتے؛ اصلاحات کا اعلان ہوتا ہے، مگر عمل ندارد۔

پاکستانی معاشرے میں وقت کی قدر نہ کرنے کی قیمت سب سے زیادہ نوجوان ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد برسوں انتظار، مقابلے کے امتحانات میں تاخیر، بھرتیوں کا تعطل—یہ سب دراصل وقت کا زیاں ہے، اور وقت کا زیاں زندگی کا زیاں بن جاتا ہے۔ نوجوان توانائی رکھتے ہیں، مگر سمت نہیں؛ جذبہ رکھتے ہیں، مگر موقع نہیں۔

ایسے میں دوڑ بطور ورزش ہمیں ایک علامتی سبق دیتی ہے۔ دوڑ سکھاتی ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے رفتار کے ساتھ توازن بھی ضروری ہے، اور سب سے بڑھ کر تسلسل۔ باقاعدہ دوڑ نہ صرف جسم کو صحت مند رکھتی ہے بلکہ ذہن کو بھی منظم کرتی ہے—وہی نظم جو ہمیں بطور قوم درکار ہے۔ اگر ایک فرد وقت پر اٹھنا، وقت نکالنا اور اپنے جسم و ذہن پر کام کرنا سیکھ لے، تو یہی رویہ اجتماعی سطح پر بھی تبدیلی لا سکتا ہے۔

وقت پاکستان کا سب سے بڑا امتحان ہے۔ ہمارے پاس وسائل محدود ہو سکتے ہیں، حالات مشکل ہو سکتے ہیں، مگر وقت سب کو برابر ملتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وقت ہمارے ہاتھ سے کیوں نکل رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اسے سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہے۔

قومیں وقت سے لڑ کر نہیں، وقت کو سمجھ کر آگے بڑھتی ہیں۔ اگر ہم نے آج بھی وقت کی قدر نہ کی تو آنے والی نسلیں یہی سوال کریں گی کہ جب وقت موجود تھا، تب ہم کہاں تھے؟

وقت رکنے والا نہیں۔ دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم شکایت چھوڑ کر تیاری کریں—کیونکہ جو قوم وقت کے ساتھ چلنا سیکھ لیتی ہے، وہی تاریخ میں اپنا مقام بناتی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔