Posts

Showing posts from December, 2025

Islamabad — A City of Names, a City of Memories

Image
  Islamabad is the capital of Pakistan. The city has been systematically divided into different sectors: E for Excellent / Excellence, F for Fair / Fresh, G for General / Government, and I for Industrial / Investment. The names of Islamabad have been chosen with great foresight, affection, and sensitivity. Those who planned and built this city did not merely construct roads and buildings; they lovingly named places in a way that reflects nature, beauty, and meaning. Each name stands as a unique example in itself. Daman-e-Koh—meaning the foothills of the mountain. Aabpara—a drop of water. Shakarparian—a lump of sugar. Zero Point—the place where all four main roads of Islamabad meet. Jasmine Garden—the garden of jasmine. On both sides of the road, jasmine plants once bloomed. White and yellow jasmine filled the air with a soft, delicate fragrance at night, perfuming the entire surroundings. My father loved this place so much that he named his daughter Yasmin. We were often taken here...

اسلام آباد — ناموں میں چھپی کہانی، یادوں میں بسا شہر

Image
  اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ E یعنی Excellent / Excellence، F یعنی Fair / Fresh، G یعنی General / Government، اور I یعنی Industrial / Investment۔ اسلام آباد کے نام بڑی دور اندیشی، محبت اور حسنِ ذوق سے رکھے گئے ہیں۔ جن لوگوں نے اس شہر کی بنیاد رکھی، انہوں نے صرف عمارتیں نہیں بنائیں بلکہ احساسات، فطرت اور خوبصورتی کو بھی ناموں میں سمو دیا۔ یہاں ہر نام اپنی مثال آپ ہے۔ دامنِ کوہ—یعنی پہاڑ کا دامن۔ آب پارہ—پانی کا قطرہ۔ شکر پڑیاں—شکر کی ڈلی۔ زیرو پوائنٹ—وہ مقام جہاں اسلام آباد کی چاروں بڑی سڑکیں آ کر ملتی ہیں۔ جاسمین گارڈن—چنبیلی کا باغ۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف چنبیلی کے پودے لگے ہوتے تھے۔ سفید اور پیلی چنبیلی، جن کی بھینی بھینی خوشبو رات کے وقت پورے ماحول کو معطر کر دیتی تھی۔ ابو کو یہ جگہ اتنی پسند تھی کہ انہوں نے اپنی بیٹی کا نام ہی یاسمین رکھ دیا۔ ہمیں بچپن میں خاص طور پر یہاں سیر کے لیے لے جایا جاتا تھا، اور وہ خوشبو آج بھی یادوں میں بسی ہوئی ہے۔ بلو ایریا—نیلا آسمان۔ یہ اسلام آباد کا کمرشل ایریا ہے، جو ک...

The Fall of Dhaka: History, Ego Clashes, and Our Collective Conscience

Image
Since I first became aware of the world, I have always heard that Bangladesh was once a part of Pakistan, which separated after the war of 1971.  Yet, I have consistently observed people avoiding open discussion on this subject. When I began reading newspapers, the blame was placed on the military. As time passed, another narrative emerged—that Zulfikar Ali Bhutto did not allow Sheikh Mujibur Rahman to become Prime Minister, which led to rebellion. With further passage of time, a broader understanding developed: there was no single culprit.  Politicians were responsible, and institutions were responsible as well. In reality, it was a war of ego—a struggle for power. Both sides sought authority, and India took full advantage of this conflict, humiliating Pakistan at every international forum. The history that reached me came through various books. My father and mother always avoided explaining the reasons behind Bangladesh’s separation. Only a few years ago did I come to unders...

سقوطِ ڈھاکہ: تاریخ، انا کی جنگ اور ہمارا اجتماعی ضمیر

Image
 میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، یہی سنتی آئی ہوں کہ بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا حصہ تھا، جو 1971ء کی جنگ کے بعد الگ ہو گیا۔ مگر میں نے ہمیشہ لوگوں کو اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتے دیکھا ہے۔ جب میں نے اخبارات پڑھنا شروع کیے تو قصوروار فوج کو ٹھہرایا گیا۔ وقت گزرا تو یہ بیانیہ سامنے آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن کو وزیرِاعظم بننے نہیں دیا، اسی لیے بغاوت ہوئی۔ پھر مزید وقت کے ساتھ یہ سمجھ بنی کہ مجرم کوئی ایک نہیں تھا؛ سیاست دان بھی قصوروار تھے اور ادارے بھی۔ اصل میں یہ انا کی جنگ تھی—اقتدار کی کشمکش۔ دونوں حلقے طاقت چاہتے تھے، اور اس کشمکش کا فائدہ بھارت نے بھرپور انداز میں اٹھایا، ہر عالمی فورم پر پاکستان کو بے عزت کیا۔ میرے پاس جو تاریخ پہنچی ہے وہ مختلف کتابوں کے ذریعے پہنچی ہے۔ ابو اور امی نے ہمیشہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کی وجوہات بتانے سے احتراز کیا۔ چند سال پہلے یہ بات سمجھ میں آئی کہ کسی بڑے سانحے میں مجرم ایک نہیں ہوتا؛ پسِ منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ مجھے صدر نکسن کی ایک تقریر بے حد پسند ہے: “We will fight over the oceans. We will fight on the mou...

ماں کی جدائی اور وقت کا منجمد لمحہ"

Image
  15 دسمبر کا دن ہمیشہ میرے لیے ایک  انتہائی اداس دن ہوتا ہے۔"ماں کے بغیر ایک اور 15 دسمبر"۔  ایسا دن جو صرف مجھے دکھی کر دیتا ہے ۔ 15 دسمبر کا دن امی کی وفات کا دن ہے۔ "یادوں میں ٹھہرا ایک دن ہے ۔  15 دسمبر 2001 کے صبح نو بجے امی اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں ۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے 15 دسمبر کی صبح میں نے فجر کی نماز پڑھی ، دن کافی روشن تھا نیلا اسمان اور گولڈن سورج چمک رہا تھا اود سردی کی شدت کافی حد تک کم تھی۔ سرد دھوپ کا زخم" نیلا آسمان، خالی آغوش لیے ہوئے تھا ۔  رمضان کا مہینہ تھا 29 روزہ تھا میں نے کچن میں جا کر چائے بنائی اور امی کے لیے یخنی بنائی اور اسے تھرمس میں بھر لیا۔ خاموش تھرمس میں قید ماں کی خوشبو بس گی اس دن ۔  امی پچھلے تین مہینے سے ہسپتال میں تھیں۔  ٹیسٹ پر ٹیسٹ ہو رہے تھے اور بیماری کا پتہ نہیں چل رہا تھا ویسے تو چھ مہینے سے بیمار تھی ہیضہ وغیرہ کا مسئلہ تھا۔  پھر آخر میں برین کا اپریشن کروایا تھا ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہو جاتے تھے گردن اکڑ جاتی تھی اور یہ سب کچھ دوائی کھانے کے بعد ہوتا تھا ، دوائی اور انجیکشن کی کثرت کی وجہ سے نظر ب...

“A Mother’s Separation and a Frozen Moment of Time”

Image
The 15th of December has always been, for me, an extremely sorrowful day— “another 15th of December without my mother.” A day that leaves only me in grief. The 15th of December is the day my mother passed away, “a day forever suspended in memories.” On the morning of 15 December 2001 , at nine o’clock, my mother left this world. As far as I remember, on the morning of 15 December I offered the Fajr prayer . The day was quite bright—the sky was blue, the golden sun was shining, and the severity of the cold had eased. “The wound of cold sunlight.” The blue sky stood there, holding an empty embrace. It was the month of Ramadan , a 29-day Ramadan. I went into the kitchen, made tea, prepared broth for my mother, and poured it into a thermos. “That day, the fragrance of a mother was sealed inside a silent thermos.” My mother had been in the hospital for the past three months. Test after test was being conducted, yet the illness could not be identified. In fact, she had been ill for six mont...

One Tree, the Memories of Many Generations

Image
  From my life’s experiences, I have learned that when a tree you have seen grow before your own eyes is cut down from the earth, it feels as if not just a tree has been removed, but your own roots have been torn out. It is not merely a tree; it is an entire bygone era. It has witnessed the rise and fall of countless people, a silent yet magnificent storyteller, an eyewitness to many ages. Within its chest lie countless buried secrets. How many travelers must have rested in its cool shade, and how many birds must have built their nests in its branches. At my father’s house in Lahore, there used to be a very large and dense rubber plant tree. Whenever I went to Lahore, I would make it a point—especially—to go to the back of the house and ask after it. That tree was a part of our home, but unfortunately, adversaries had it cut down. I felt immense sorrow, because it was not just a tree. It carried with it the memories of my grandmother, my maternal grandmother, my mother, my father, ...

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

Image
  میں نے زندگی کے تجربے سے یہی سیکھا  ہے کہ جس درخت کو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتے دیکھا ہو، اگر وہ درخت زمین سے کاٹ دیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہاں سے صرف ایک درخت نہیں، بلکہ آپ کی اپنی جڑیں اکھڑ گئی ہوں۔ وہ محض ایک درخت نہیں ہوتا، بلکہ ایک پورا گزرا ہوا زمانہ ہوتا ہے۔ اس نے نہ جانے کتنے لوگوں کے عروج و زوال دیکھے ہوتے ہیں، وہ ایک خاموش مگر عظیم قصہ گو ہوتا ہے، کئی ادوار کا چشم دید گواہ۔ اس کے سینے میں ان گنت راز دفن ہوتے ہیں۔ کتنے ہی مسافر اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں سستا چکے ہوتے ہیں اور کتنے ہی پرندوں نے اس کی شاخوں میں اپنے گھونسلے بسائے ہوتے ہیں۔ ابو کے لاہور والے گھر میں ایک بہت بڑا اور گھنا ربڑ پلانٹ کا درخت ہوا کرتا تھا۔ جب بھی میں لاہور جاتی، خاص طور پر گھر کے پچھلے حصے ضرور جا کر اس کا حال پوچھتی۔  وہ درخت ہمارے گھر کا حصہ تھا، مگر پھر بدقسمتی سے مخالفین نے اسے کٹوا دیا۔  مجھے اس کا بے حد دکھ ہوا، کیونکہ وہ محض ایک درخت نہیں تھا۔ اس کے ساتھ دادی، نانی، امی، ابو اور بے شمار لوگوں کی یادیں جڑی ہوئی تھیں۔ اس لمحے مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہمارا کوئ...

"Winter Mornings and the Warm Memories of the Past

Image
  Winter is at its peak, and an atmosphere of autumn seems to blanket everything. The cold is so intense that it feels as if it seeps into the bones. Warm clothes have been taken out all over the house—blankets and quilts are being wrapped around, and warm socks, coats, sweaters, and thick shawls are keeping the body protected from the chill. And in such a season, who can forget dry fruits? Even today, when I wake up in the winter mornings and step back into the lanes of the past, the cold breeze from the window brings with it a whole film of memories of my mother and father. My mother would prepare warm clothes and have new quilts made for the winter, while my father would bring us freshly warmed eggs and dry fruits—pine nuts, pistachios, almonds, walnuts, and more. In our home, no one really ate peanuts, and cashews were not particularly liked either. My father loved pistachios and almonds, whereas I, since childhood, always preferred pine nuts. I would even fill the pockets of m...

سردیوں کی صبحیں اور ماضی کی گرم یادیں"

Image
 "سردیوں کی صبحیں اور ماضی کی گرم یادیں" سردی اپنے عروج پر ہے، ہر طرف خزاں کا سماں چھایا ہوا ہے۔  ٹھنڈ ایسی ہے کہ ہڈیوں تک اترتی محسوس ہوتی ہے۔ گھر بھر میں گرم ملبوسات نکال لیے گئے ہیں؛ کمبل اور رضائیاں اوڑھی جا رہی ہیں، گرم جرابیں، کوٹ، سویٹر اور موٹے شال بدن کو حرارت دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔  ایسے میں خشک میوہ جات کو کون بھلا سکتا ہے؟ آج بھی سردیوں کی صبح جب میں ماضی کی گلیوں میں جاگتی ہوں تو سرد ہوا کی کھڑکی سے امّی اور ابو کی یادوں کی ایک پوری فلم چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ امّی سردیوں کے لیے گرم ملبوسات اور نئی رضائیاں بنواتی تھیں، اور ابو ہمیں تازہ گرم انڈے اور ڈرائی فروٹس کھلایا کرتے تھے—چلغوزے، پستہ، بادام، اخروٹ وغیرہ۔ ہمارے گھر میں مونگ پھلی کوئی نہیں کھاتا تھا، اور کاجو بھی کسی کو خاص پسند نہیں تھا۔ ابو کو پستہ اور بادام بہت پسند تھے، جبکہ مجھے بچپن سے چلغوزہ ہی سب سے زیادہ بھاتا تھا۔ اسکول جاتے ہوئے میں کوٹ کی جیبیں چلغوزوں سے بھر کر لے جایا کرتی تھی۔ میری سہیلیاں میرے کوٹ کے جیب سے چلغوزے نکال نکال کر کھاتی تھیں۔  سردیوں میں گرم دودہی رات کو پیتے تھ...