سقوطِ ڈھاکہ: تاریخ، انا کی جنگ اور ہمارا اجتماعی ضمیر
میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے، یہی سنتی آئی ہوں کہ بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا حصہ تھا، جو 1971ء کی جنگ کے بعد الگ ہو گیا۔ مگر میں نے ہمیشہ لوگوں کو اس موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتے دیکھا ہے۔
جب میں نے اخبارات پڑھنا شروع کیے تو قصوروار فوج کو ٹھہرایا گیا۔ وقت گزرا تو یہ بیانیہ سامنے آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے شیخ مجیب الرحمن کو وزیرِاعظم بننے نہیں دیا، اسی لیے بغاوت ہوئی۔ پھر مزید وقت کے ساتھ یہ سمجھ بنی کہ مجرم کوئی ایک نہیں تھا؛ سیاست دان بھی قصوروار تھے اور ادارے بھی۔
اصل میں یہ انا کی جنگ تھی—اقتدار کی کشمکش۔ دونوں حلقے طاقت چاہتے تھے، اور اس کشمکش کا فائدہ بھارت نے بھرپور انداز میں اٹھایا، ہر عالمی فورم پر پاکستان کو بے عزت کیا۔
میرے پاس جو تاریخ پہنچی ہے وہ مختلف کتابوں کے ذریعے پہنچی ہے۔ ابو اور امی نے ہمیشہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کی وجوہات بتانے سے احتراز کیا۔ چند سال پہلے یہ بات سمجھ میں آئی کہ کسی بڑے سانحے میں مجرم ایک نہیں ہوتا؛ پسِ منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
مجھے صدر نکسن کی ایک تقریر بے حد پسند ہے:
“We will fight over the oceans. We will fight on the mountains. We will fight in the farms. We will never surrender.”
آج بھی ایک عجیب سا خیال دل میں ابھرتا ہے۔ سوچوں کو کون روک سکتا ہے، ان پر کب بند باندھے جا سکتے ہیں۔ اگر آرمی چیف نے سرنڈر کا حکم دے ہی دیا تھا تو ایک اور حکمتِ عملی بھی اپنائی جا سکتی تھی: اسی لمحے اجتماعی استعفے دے دیے جاتے، مجاہدین کی طرح سرنڈر نہ کیا جاتا۔
آج بھی سقوطِ ڈھاکہ کا ماتم ہوگا، اخبارات اور ٹی وی پر پیغامات نشر ہوں گے کہ ہمیں بڑا دکھ ہوا۔
میرا سوال یہ ہے: کیا واقعی ہمیں دکھ ہے ؟

Comments