کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​



جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔

کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔

  اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔

 2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔

  کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔

اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔

اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔

 وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔

جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم لوگ حیران رہ گئے اس کے بعد پھر بعد میں وہاں پر نمل یونیورسٹی بھی بنی تھی ۔

 ایک اور بات وہاں پر  یہ ہوئی کہ اس دن جس دن ہم وہاں کالا  گئے تھے اس دن وزیراعظم بھی وہاں پر آئے تھے۔

  وہاں پر سکھر بیراج اور گدو بیراج ہم نے دونوں دیکھے کہ وہ بھی دریائے سندھ کے اوپر ہی بنے ہوئے ہیں۔

پوری آب و تاب سے بہہ رہے تھے کالا باغ ڈیم والوں کو رد کرنے والوں کو ایک بار کالا باغ جا کر ضرور دیکھنا چاہیے اس سے ان کو پتہ چلے گا کہ یہاں پر ڈیم کس قدر آسانی سے  اور  دریائے سندھ کا  پانی ذخیرہ کرنے کا ڈیم بنایا جا سکتا ہے اور وہاں پر  نیچرل ایک ڈیم کی جگہ بنی ہوئی ہے ۔

یہ ان سب کے لیے  عین یقین ہو گا ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

اسلام آباد۔

3- 9- 2025۔





---روما محمود---


 

​پاکستان کی تاریخ میں چند موضوعات ایسے ہیں جو دہائیوں سے بحث و مباحثے کا مرکز بنے ہوئے ہیں، لیکن ان پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انھی میں سے ایک انتہائی اہم، مگر بدقسمتی سے سیاسی تنازعات کی نذر ہو جانے والا منصوبہ "کالا باغ ڈیم" ہے۔ اس منصوبے پر دانشوروں، سیاست دانوں اور ٹیکنوکریٹس نے لاکھوں صفحات سیاہ کر دیے، پریس کانفرنسز ہوئیں، اور ٹی وی ٹاک شوز میں طوفان کھڑے کیے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کاغذوں پر نقشے بنانے اور ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اعتراضات اٹھانے والوں نے کبھی اس دھرتی کا رخ نہیں کیا جہاں قدرت نے خود پاکستان کی تقدیر بدلنے کا سامان کر رکھا ہے۔

​میرا یہ کالم کسی کتابی نظریے یا سیاسی وابستگی پر مبنی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی عینی شاہد کی گواہی ہے جس نے خود اپنی آنکھوں سے قدرت کے اس شاہکار کو دیکھا اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ ہم بطور قوم کس قدر بے حس ہیں کہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں۔ جو لوگ کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض کرتے ہیں، میری ان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ صرف ایک بار سیاست کے چشمے اتاریں اور خود جا کر کالا باغ کے اس مقام کا نظارہ کریں۔ ان کے تمام اعتراضات سحر کی طرح چھٹ جائیں گے۔

​اسلام آباد سے میانوالی: ایک یادگار اور سحر انگیز سفر

​یہ ستمبر 2005 کی بات ہے، جب زندگی میں تجسس بھی تھا اور کچھ نیا دیکھنے کی جستجو بھی۔ ہم نے اسلام آباد سے میانوالی کی طرف سفر کا پروگرام بنایا۔ ہمارے محترم والد صاحب اس سفر کے محرک تھے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ہم نے والد صاحب سے ضد کر کے یہ روٹ چنا تھا کیونکہ ہم اس علاقے کی خوبصورتی اور کالا باغ کے چرچے سن چکے تھے۔

​اسلام آباد سے جب ہم فتح جنگ کے راستے آگے بڑھے تو وہاں سے دو سڑکیں نکلتی تھیں۔ ایک سڑک کوہاٹ کی طرف نکل جاتی تھی اور دوسری میانوالی کو جاتی تھی۔ ہم نے میانوالی کا روٹ پکڑا۔ جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھ رہی تھی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع اس علاقے کی ثقافت اور جغرافیہ بدل رہا تھا۔ راستے کے مناظر اتنے دلکش تھے کہ سفر کی تھکن کا احساس ہی نہیں ہو رہا تھا۔

​نمل جھیل: حیرت اور مسرت کا سنگم

​اس سفر کے دوران ہمارے لیے سب سے پہلا اور بڑا سرپرائز میانوالی کے قریب "نمل جھیل" کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ ہمارے لیے ایک بالکل نیا اور اچھوتا تجربہ تھا۔ حیرت اور خوشی کی وجہ یہ تھی کہ ان دنوں ہم خود اسلام آباد میں "نمل یونیورسٹی" (National National University of Modern Languages - NUML) میں زیرِ تعلیم تھے۔ جب ہم نے راستے میں اس خوبصورت جھیل کا نام سنا اور اسے دیکھا، تو ہم دنگ رہ گئے کہ ہمارے تعلیمی ادارے کا ہم نام یہ کتنا خوبصورت مقام ہے۔

​اس وقت یہ صرف ایک پرسکون اور قدرتی جھیل تھی، لیکن قدرت کا کرنا دیکھیے کہ بعد میں اسی نمل جھیل کے کنارے ایک عظیم الشان نمل یونیورسٹی اور نمل نالج سٹی بھی قائم ہوئی، جس نے اس پورے علاقے کی تقدیر بدل دی۔ اس جھیل کے ٹھنڈے پانی اور اردگرد کے پہاڑی منظر نے ہمارے دلوں پر ایک گہرا نقش چھوڑا۔

​کالا باغ قدرت کی بنائی ہوئی نیچرل ڈیم سائٹ

​جب ہم بالاخر کالا باغ کے اس مخصوص مقام پر پہنچے جہاں ڈیم کی سائٹ تجویز کی گئی ہے، تو وہاں کا منظر دیکھ کر عقل دنگ رہ گئی۔ جو لوگ کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے ہیں، انھیں معلوم ہی نہیں کہ قدرت نے یہاں ڈیم بنانے کے لیے کتنے سازگار حالات پیدا کر رکھے ہیں۔

​کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے، وہاں کا جغرافیہ دنیا کے دیگر حصوں سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں دریا کے دونوں طرف بلند و بالا، مضبوط اور سنگلاخ چٹانیں اور پہاڑ کھڑے ہیں۔ قدرت نے ان پہاڑوں کو ایک قدرتی دیوار کی شکل دے رکھی ہے۔ ان دونوں پہاڑوں کے درمیان سے دریائے سندھ، جو کہ میدانی علاقوں میں میلوں چوڑا ہو کر بہتا ہے، یہاں ایک تنگ ندی کی صورت میں انتہائی تیز رفتاری سے گزرتا ہے۔

​پہاڑوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا کم ہے اور دریا کی گہرائی اس قدر زیادہ ہے کہ یہاں پانی کو روکنا اور اس پر بند باندھنا دنیا کا آسان ترین کام محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کوئی بڑا انجینئرنگ کا معجزہ دکھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ قدرت نے خود ایک "نیچرل ڈیم" کی جگہ بنا کر انسان کو دعوت دی ہے کہ آؤ اور میرے اس تحفے سے فائدہ اٹھاؤ۔ اس تنگ گزرگاہ کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک تاریخی لوہے کا پل موجود ہے، جو آج بھی اپنی مضبوطی اور ماضی کی انجینئرنگ کی داستان سناتا ہے۔

​ثقافت اور سادگی کا گہوارہ: کالا باغ بازار

​ڈیم کی سائٹ دیکھنے کے بعد ہم کالا باغ کے مقامی بازار میں گئے۔ وہ بازار جدت کی چمک دمک سے دور، اپنی قدیم اور خوبصورت ثقافت کو سمیٹے ہوئے تھا۔ 2005 میں بھی وہاں زندگی کی رفتار پرسکون تھی۔ اس دور میں بھی وہاں سائیکل رکشے چل رہے تھے، جو کہ اب بڑے شہروں سے ناپید ہو چکے ہیں۔ ان رکشوں کی گھنٹیاں اور مقامی لوگوں کا دیسی لہجہ کانوں میں رس گھولتا تھا۔

​سفر کی یادگار کے طور پر میں نے کالا باغ کے بازار سے ایک خوبصورت دوپٹہ خریدا۔ وہ کوئی عام دوپٹہ نہیں تھا، بلکہ وہ "سات رنگوں" (قوسِ قزح کے رنگوں) سے سجا ہوا ایک روایتی دوپٹہ تھا، جو وہاں کی مقامی دستکاری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ وہ دوپٹہ آج بھی جب میری نظروں کے سامنے آتا ہے، تو مجھے کالا باغ کی مٹی، وہاں کے مخلص لوگ اور دریائے سندھ کا وہ شور یاد دلا دیتا ہے۔

​ایک یادگار اتفاق

​جس دن ہم کالا باغ میں موجود تھے، وہاں ایک اور اہم واقعہ بھی پیش آیا۔ معلوم ہوا کہ اسی دن ملک کے وزیرِ اعظم بھی کالا باغ کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔ اس وجہ سے وہاں سیکیورٹی اور سیاسی ہلچل بھی دیکھنے کو ملی۔ اس اتفاق نے ہمارے اس سفر کو اور زیادہ یادگار اور تاریخی بنا دیا۔

​سکھر اور گدو بیراج کا مشاہدہ: ایک موازنہ

​اپنے اسی طویل سفر اور مشاہدات کے دوران ہم نے سندھ میں واقع "سکھر بیراج" اور "گدو بیراج" بھی دیکھے۔ یہ دونوں بیراج بھی اسی دریائے سندھ کے اوپر بنے ہوئے ہیں اور کئی دہائیوں سے پاکستان کے زرعی نظام کی لائف لائن بنے ہوئے ہیں۔ جب ہم نے ان بیراجوں کو دیکھا تو دریائے سندھ وہاں پوری آب و تاب اور وسعت کے ساتھ بہہ رہا تھا۔

​ان بیراجوں کو دیکھ کر میرے ذہن میں یہ سوال بار بار اٹھا کہ اگر دریائے سندھ پر نیچے سکھر اور گدو بیراج بن سکتے ہیں، جن سے سندھ کی لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو رہی ہے اور وہاں کے کسان خوشحال ہو رہے ہیں، تو پھر اسی دریا کے اوپر کالا باغ کے مقام پر ڈیم بنانے سے سستی بجلی اور پانی کا ذخیرہ کرنے پر اعتراض کیوں؟ اگر نیت صاف ہو تو پانی کا ذخیرہ سب کے فائدے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔

​اعتراض کرنے والوں کے نام ایک پیغام

​پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران، پانی کی قلت اور مہنگی بجلی کے عذاب سے گزر رہا ہے۔ ہمارے کسان پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں، اور دوسری طرف سیلاب کے دنوں میں یہی پانی ہمارے شہروں اور دیہاتوں کو ڈبوتا ہوا سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے۔

​کالا باغ ڈیم پر سیاست چمکانے والوں نے ہمیشہ عوام کو گمراہ کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ اس سے نوشہرہ ڈوب جائے گا، تو کسی نے کہا کہ سندھ بنجر ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر یہ ڈیم بن جاتا ہے تو:

  1. پانی کا بہت بڑا ذخیرہ حاصل ہوگا جس سے سندھ، پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر زمینیں آباد ہوں گی۔
  2. ہزاروں میگاواٹ سستی ہائیڈرو بجلی پیدا ہوگی، جس سے غریب عوام کو سستی بجلی ملے گی اور انڈسٹری چلے گی۔
  3. سیلابوں سے مستقل نجات ملے گی، جو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان کرتے ہیں۔

​جو لوگ اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، میں روما محمود، اسلام آباد کی رہائشی، اپنے اس مشاہدے کی روشنی میں ان سے کہتی ہوں کہ خدارا! ایک بار کالا باغ جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ جب آپ اپنی آنکھوں سے وہ چٹانیں، وہ گہرائی اور وہ قدرتی لوکیشن دیکھیں گے، تو آپ کا یہ دیکھنا "عین الیقین" میں بدل جائے گا۔ آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ہم نے سیاسی ضد کی وجہ سے ملک کا کتنا بڑا نقصان کیا ہے۔

​قدرت نے ہمیں سب کچھ دیا ہے، بس ایک سچی قیادت اور قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ کاش ہم کالا باغ ڈیم کی حقیقت کو سمجھیں اور اسے ذاتی و سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک کی بقا کا ضامن سمجھ کر قبول کریں۔


Comments

Popular posts from this blog

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔