Posts

Showing posts from July, 2026

جنگ، حقیقت اور ضمیر کی بیداری کچھ معرکے ہارنے کے لیے نہیں، سچ دکھانے کے لیے ہوتے ہیں

Image
  ---روما محمود--- ​انسانی تاریخ فتح و شکست، غلبے اور تسلط، اور عروج و زوال کے لاتعداد ابواب سے بھری پڑی ہے۔ روایتی عسکری اور سیاسی نظریات میں جنگ کا واحد مقصد فتح حاصل کرنا، حریف کو مادی طور پر زیر کرنا اور زمین یا وسائل پر قبضہ کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اس مادی تناظر میں ہر وہ جنگ ناکام اور بے معنی قرار پاتی ہے جس کا انجام شکست، پسپا دستی یا جانی و مالی نقصان کی صورت میں نکلے۔ لیکن کیا زندگی اور تاریخ کا دائرہ کار صرف مادی نفع و نقصان کے حساب کتاب تک محدود ہے؟  کیا کچھ ایسی جنگیں بھی ہوتی ہیں جن کا مقصود تخت و تاج جیتنا نہیں بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے؟ ​اس سوال کا اثبات میں جواب ہی انسانی تہذیب کی بقا اور فکری ارتقاء کا راز ہے۔ زندگی کے کئی موڑ اور نظریاتی معرکے ایسے ہوتے ہیں جہاں فتح و شکست کے مادی پیمانے اپنی تمام تر اہمیت کھو دیتے ہیں اور اصل مقصد اصول، خودداری اور حقیقت کی بقا بن جاتا ہے۔ ​مادی دنیا میں طاقتور ہمیشہ حق پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس فتح کی سند ہوتی ہے۔ فاتح کا سچ ہمیشہ بلند آواز ہوتا ہے اور مقہور کی آواز کو وقت کی گرد میں دبانے کی کوشش کی ج...

فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہونے والے 33ویں آسیان ریجنل فورم (اے آر ایف) وزرای اجلاس میں نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ پاکستان کا بیان

Image
  ترجمہ ---روما محمود--- ​ 23 جولائی 2026 ​ معزز چیئرپرسن، محترم وزرائے کرام، معزز مندوبین، خواتین و حضرات، صبح بخیر، ​میں اپنی بات کا آغاز فلپائن کی جانب سے شاندار مہمان نوازی اور 33ویں اے آر ایف وزرای اجلاس کی صدارت کے ساتھ ساتھ فلپائن کے شہر سيبو میں منعقد ہونے والے 48ویں آسیان سربراہی اجلاس اور اس اہم اجلاس کے انعقاد میں ان کی شاندار قیادت پر دلی تشکر اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کرتا ہوں۔ ​جیسا کہ ہم جنوب مشرقی ایشیا میں دوستی اور تعاون کے معاہدے کی 50ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں، پاکستان بات چیت، باہمی احترام، اور پُرامن بقائے باہمی کے اپنے بنیادی اصولوں کے ساتھ مضبوطی سے پرعزم ہے۔ ​گزشتہ چند دہائیوں کے دوران، آسیان ریجنل فورم نے خود کو علاقائی سیکیورٹی کے ڈھانچے کے ایک لازمی ستون کے طور پر قائم کیا ہے۔ ایک تیزی سے پیچیدہ ہوتے ہوئے اسٹریٹجک ماحول میں، اسے متحرک، مستقبل کی طرف دیکھنے والا، اور عملی اقدامات پر مرکوز رہ کر اپنے تدارکی سفارت کاری کے کردار کو مسلسل مضبوط بنانا چاہیے۔ لہذا، ہم منیلا پلان آف ایکشن (2026–2036) کو اپنانے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اس کے مؤثر نفاذ کے ل...

گلابی رنگت، کتہ اور چونے کی کہانی پان اور ہماری تہذیب

Image
  ---روما محمود--- ​برصغیر کی ثقافت میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو محض خوراک یا کوئی عام شے نہیں رہتیں بلکہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک پورا طرزِ زندگی بن جاتی ہیں۔ پان بھی ایسی ہی ایک شے ہے۔ منہ میں رکھتے ہی کھلنے والا خوشبو کا بھنور، کتہ اور چونے کا مدہم سا رس، اور گلکند و سونف کی مہک—یہ سب مل کر ایک ایسا تجربہ تخلیق کرتے ہیں جو صرف ذائقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یادوں کے دریچے وا کر دیتا ہے۔ ​تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پان کی جڑیں برصغیر کی قدیم تاریخ میں بہت گہری پیوست ملتی ہیں۔ یہ صرف عام لوگوں کا مشغلہ نہیں رہا بلکہ مغل درباروں، اور خاص طور پر لکھنؤ اور حیدرآباد کے نوابوں کی ثقافت کا ایک لازمی اور نفیس حصہ تھا۔ پان دان، جو کہ عموماً چاندی یا پیتل کے نفیس مینا کاری والے کام سے سجے ہوتے تھے، شاہی مجلسوں کی شان بڑھاتے تھے۔ کسی بھی تقریب یا مہمان نوازی کا سب سے پہلا اور حسین ترین تقاضا مہمان کی خاطر مدارات پان سے کرنا سمجھا جاتا تھا۔ ​اردو ادب اور شاعری میں پان کو ایک خاص اور رومانوی مقام حاصل ہے ، روزمرہ زندگی کے محاورے بھی اس سے خالی نہیں ہیں؛ مثلاً کسی مشکل کام کی ذمہ داری اپنے ذ...

ڈیجیٹل پاکستان کا معاشی انقلاب ایزی پیسہ اور جاز کیش کی کہانی

Image
  ---روما محمود--- ​تعارف: نقد معیشت سے ڈیجیٹل بٹوے تک کا سفر ​تاریخ کے کسی بھی موڑ پر پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت میں مالیاتی نظام میں اتنی بڑی تبدیلی نہیں دیکھی گئی جتنی پچھلی ایک دہائی میں موبائل فنانشل سروسز (MFS) بالخصوص ایزی پیسہ اور جاز کیش کے ذریعے رونما ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں بینکنگ کا شعبہ صرف اشرافیہ یا بڑے کاروباری طبقات تک محدود تھا، اور عام آدمی کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا ایک کٹھن اور پیچیدہ مرحلہ سمجھا جاتا تھا۔ دیہی علاقوں میں تو بینک کا نام سننا بھی ایک خواب جیسا تھا، جہاں لوگوں کو اپنے مالیاتی لین دین کے لیے نقدی (Cash) پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔ ​مگر پھر پاکستان میں موبائل فونز کے انقلاب کے ساتھ ساتھ ایک ایسا معاشی معجزہ رونما ہوا جس نے ملک کے کونے کونے میں مالیاتی رسائی کو ممکن بنا دیا۔ ایزی پیسہ اور جاز کیش نے روایتی بینکنگ کے تمام روایتی بندشوں کو توڑ کر ہر خاص و عام کی جیب میں ایک مکمل ڈیجیٹل بینک رکھ دیا۔ آج یہ دونوں ادارے محض پیسے بھیجنے اور وصول کرنے کا ذریعہ نہیں رہے، بلکہ پاکستان کے لاکھوں شہریوں کی روزمرہ معاشی زندگی کا ایک لازمی اور ناگزیر...

قدرتی گیس زمین سے حصول اور اس کے فوائد

Image
  ---رومامحمود--- ​قدرتی گیس زمین کے اندر لاکھوں سال کے قدرتی عمل کے بعد بنتی ہے اور اسے جدید سائنسی طریقوں سے زمین کی تہوں سے نکالا جاتا ہے۔ ​زمین سے گیس کیسے نکلتی ہے؟ ​زمین سے گیس کے نکلنے کا عمل درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوتا ہے: ​ تشکیل (Formation): لاکھوں سال پہلے زمین کے اندر دفن ہونے والے پودوں اور مردہ جانوروں کے باقیات پر شدید دباؤ اور حرارت کا عمل ہوا، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کے ذخائر وجود میں آئے۔ یہ گیس زمین کی سخت چٹانوں کے نیچے چھوٹے سوراخوں یا مساموں میں قید ہوتی ہے۔ ​ تلاش اور سروے (Exploration): ماہرین ارضیات جدید آلات اور سیزمک سروے کے ذریعے زمین کے نیچے موجود گیس کے ذخائر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ​ کھدائی (Drilling): گیس کی موجودگی کی تصدیق کے بعد زمین میں گہرے کنویں کھودے جاتے ہیں، جنہیں گیس ویلز کہا جاتا ہے۔ ان میں لوہے کی مضبوط نالیاں ڈالی جاتی ہیں۔ ​ نکاسی (Extraction): زمین کے اندر قدرتی دباؤ (Pressure) کی وجہ سے گیس خود بخود اوپر کی طرف آتی ہے۔ اگر دباؤ کم ہو تو خصوصی کمپریسرز اور پمپ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ​ صفائی اور پروسیسنگ (Processing): زم...

نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 17 جولائی 2026 کو شنگھائی، چین کا اپنا دو روزہ دورہ مکمل کیا

Image
---ترجمہ: روما محمود-- ​دورے کے دوران، نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن' (WAICO) کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ کل 29 ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ یاد رہے کہ پاکستان WAICO کے بانی ارکان میں سے ایک ہے، جو بین الاقوامی تعاون، استعداد کار میں اضافے، اور ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کے لیے ایک کلیدی پلیٹ فارم ہے۔ دستخطی تقریب سے قبل صدر شی جن پنگ کی جانب سے آنے والے وفود کے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ​نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ نے 'ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کانفرنس' کی افتتاحی تقریب میں بھی شرکت کی، جس کا افتتاح صدر شی جن پنگ نے کیا۔ ​نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات بھی کی۔ ملاقات کے دوران، نائب وزیر اعظم / وزیر خارجہ نے مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرنے کے علاوہ، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تکنیکی ترقی کو پائیدار ترقی اور ترق...

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کی مجاز اتھارٹیز کے سرحدی امور کے سربراہان کا بارہواں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا

Image
  ترجمہ : روما محمود--- ​ ​شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کی مجاز اتھارٹیز کے سرحدی امور کے سربراہان کا بارہواں اجلاس 17 جولائی 2026 کو اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ ​اجلاس میں جمہوریہ بیلاروس، جمہوریہ بھارت، اسلامی جمہوریہ ایران، جمہوریہ قازقستان، عوامی جمہوریہ چین، کرغیز جمہوریہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان، روسی فیڈریشن، جمہوریہ تاجکستان، جمہوریہ ازبکستان کی مجاز اتھارٹیز کے سرحدی امور کے سربراہان اور نمائندوں، نیز ایس سی او کے ریجنل اینٹی ٹیررسٹ اسٹرکچر (RATS) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے شرکت کی۔ ​شرکاء نے ایس سی او کے رکن ممالک کی بین الاقوامی سرحدوں پر صورتحال، نیز اس کی ترقی سے متعلق رجحانات اور پیشین گوئیوں کے حوالے سے معلومات اور جائزوں کا تبادلہ کیا۔ اجلاس کے دوران، شرکاء نے: ​(الف) ایس سی او کے رکن ممالک کی مجاز اتھارٹیز کے سرحدی امور کے حکام کی طرف سے کیے گئے مشترکہ سرحدی آپریشن "یکجہتی-2025" (Solidarity-2025) کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا اور ان کی منظوری دی۔ ​(ب) مشترکہ سرحدی آپریشن "یکجہتی-2026" (Solidarity-2026) کی تی...

ٹچ پر غور و فکر: حیرت سے احتیاط تک میری ذاتی کہانی۔

Image
  ---روما محمود--- ٹچ اسکرین تھکاوٹ کے بارے میں آپ کے تجربات کیا ہیں یا صحت مند استعمال کے لیے تجاویز؟ اس سوال نے مجھے ٹچ ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے سفر پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ 1990 کی دہائی میں میرے والد صاحب گھر پر ایک نئی اور خوبصورت ٹچ لیمپ لے کر آئے۔ یہ جادوئی لگ رہا تھا۔ ہم بچوں نے اس کے گرد جمع ہو کر اس کی بنیاد پر ہلکا سا ٹیپ کر کے روشنی کی سطح تبدیل کی ۔ بند، مدھم، روشن۔ کوئی سوئچ نہیں، کوئی بٹن نہیں۔ صرف ایک سادہ ٹچ۔ ہم اس نئی ایجاد سے بہت متوجہ تھے۔ یہ futuristic، صاف ستھرا اور آسان لگتا تھا۔ اس لیمپ نے ہمارے گھر میں ٹیکنالوجی کے بارے میں تجسس اور جوش پیدا کیا کہ یہ ہماری زندگی کو کتنا آسان بنا سکتی ہے۔ آج کی طرف آتے ہوئے، ٹچ نے ہر شعبے میں جگہ بنا لی ہے — سمارٹ فونز، ٹیبلیٹس، لیپ ٹاپس، کاروں، کیوسکس، طبی آلات اور یہاں تک کہ گھریلو آلات میں۔ جو شروع میں حیرت تھا، وہ اب ایک مسلسل موجودگی بن چکا ہے جو کبھی کبھی مجھے الجھا ہوا اور غیر محفوظ محسوس کراتی ہے۔ ایک حالیہ تجربہ اس بات کو بالکل واضح کرتا ہے۔ جب میں اپنے فون پر ایک ویب سائٹ براؤز کر رہا تھی تو ایک کوکی کنسنٹ بی...

انا کا بت رشتوں کا قاتل اور سماجی بگاڑ

Image
  ---روما محمود--- ​انسانی رشتوں کی عمارت اعتماد، محبت، ایثار اور باہمی مفاہمت کی مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اس عمارت کی بنیادوں میں اگر ’انا‘ (Ego) کا زہر گھل جائے، تو یہ شاندار محل لمحوں میں ڈھیر ہو سکتا ہے۔ انا، جس کو ہم بسا اوقات ’خودداری‘ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں، درحقیقت ایک ایسا نفسیاتی خول ہے جو انسان کو اپنی ذات کے گرد محدود کر دیتا ہے اور اسے دوسروں کے جذبات سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ جب کسی بات کو ’انا کا مسئلہ‘ بنا لیا جائے، تو وہ صرف اس شخص کی اپنی زندگی کو متاثر نہیں کرتی، بلکہ اس کے ارد گرد موجود تمام افراد کی زندگیوں کو ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ​سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انا اور خودداری میں فرق کیا ہے۔ خودداری انسان کی اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کا نام ہے، جو دوسروں کے حقوق سلب کیے بغیر قائم رہتی ہے۔ اس کے برعکس ’انا‘، برتری کا وہ احساس ہے جو دوسروں کو چھوٹا دکھانے، ان پر غلبہ پانے یا اپنی غلطی کو تسلیم نہ کرنے کی ضد میں جنم لیتا ہے۔ ​جب کوئی شخص انا کی اس قید میں گرفتار ہوتا ہے، تو وہ حقیقت پسندی کھو دیتا ہے۔ اسے یہ نظر نہیں آتا...

MIT کا پرندوں سے متاثر فلائیںگ-ونگ ایریل-ایکواٹک روبوٹ پیشہ ورانہ رپورٹ

Image
  ---روما محمود--- MIT کے AURA Lab (پروفessor رافیل زفری کی قیادت میں) اور EPFL کے انجینئرز نے ایک ہلکا پھلکا فلائیںگ-ونگ ایریل-ایکواٹک روبوٹ (FAAV) تیار کیا ہے جو غوطہ خور پرندوں (جیسے پفنز) کی نقل کرتا ہے۔ یہ روبوٹ پانی کے اندر تیر سکتا ہے، پھر اپنے پروں کو پھڑپھڑا کر ہوا میں اڑ سکتا ہے ۔  سب ایک ہی لچکدار پروں کے ذریعے وزن 300 گرام سے کم، پروں کا پھیلاؤ تقریباً 80 سینٹی میٹر۔ یہ نازک سمندری ماحولیاتی نظام کی نگرانی، نمونے جمع کرنے، جنگلی حیات کا مشاہدہ اور دور دراز علاقوں کی تلاش کے لیے ایک سستی اور غیر مداخلت آمیز آلہ ہے۔ یہ تحقیق جولائی 2026 میں Science جریدے میں شائع ہوئی اور Lake Geneva میں کامیابی سے آزمائی گئی۔ اہم تکنیکی خصوصیات (Key Technical Highlights) ڈیزائن: مرکزی جسم، لچکدار نایلون پروں (پانی سے بچاؤ والی کوٹنگ)، کاربن فائبر سپورٹ، سمت تبدیل کرنے والا دم۔ کھلا جسم جو غیر جانبدار تیراؤ (neutral buoyancy) کے لیے بنایا گیا۔ کارکردگی: پانی میں تیرنا: ~1 میٹر/سیکنڈ (~5 Hz پروں کی حرکت)۔ ہوا میں اڑنا: ~6 میٹر/سیکنڈ۔ پانی سے ہوا میں منتقلی: 1 سیکنڈ سے کم وقت (8-10 پرو...

مون سون رحمت کی رم جھم اور نظم و نسق کا امتحان

Image
  ---روما محمود--- ​برسات کا پہلا قطرہ جب تپتی زمین کو چھوتا ہے تو کائنات کا منظر بدل جاتا ہے۔ مون سون کی آمد محض موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ ایک کیف و سرور کا نام ہے جو خشک شاخوں میں جان ڈال دیتا ہے اور گرمی کی شدت سے جھلسے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ اردو ادب اور شاعری میں تو ساون کو ہمیشہ وصل اور خوشیوں کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ​جب بادل گرجتے ہیں اور آسمان سے موتیوں کی طرح بارش برسنا شروع ہوتی ہے، تو پاکستان کے میدانی اور پہاڑی علاقے ایک نئی نویلی دلہن کی طرح نکھر جاتے ہیں۔ ہر سو ہریالی، ٹھنڈی ہوائیں اور مٹی کی وہ سوندھی خوشبو جو پہلی بارش کے ساتھ اٹھتی ہے، روح کو تازگی بخش دیتی ہے۔ یہ وہ موسم ہے جو ہمیں فطرت کے قریب لاتا ہے اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں ہمیں پل بھر کے لیے رک کر اس حسن کو دیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ​لیکن سکے کا دوسرا رخ اتنا ہی تلخ ہے۔ جیسے ہی بارش کی شدت بڑھتی ہے، ہمارے شہروں کا مصنوعی حسن بکھر جاتا ہے۔ نکاسی آب کا ناکارہ نظام، کھدائی زدہ سڑکیں اور کچے مکانات مون سون کو ایک نعمت سے زحمت میں بدل دیتے ہیں۔ ہر سال ہم انہی مسائل کو دہراتے ہوئے...

ٹھہر جانا زندگی کے سفر میں ایک غیر مرئی رکاوٹ

Image
  ---روما محمود--- یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہم سب کے اندر کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے۔ ہم سب کبھی نہ کبھی زندگی کے کسی موڑ پر خود کو ایک 'جمود' (Stagnation) کی کیفیت میں پاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وقت تو گزر رہا ہے، لیکن ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں کل تھے۔ ​ ​زندگی ایک بہتے ہوئے دریا کی مانند ہے، مگر ہم انسان اس دریا میں بہتے بہتے اچانک کنارے پر آ کر کیوں رک جاتے ہیں؟ کیا یہ تھکن ہے، خوف ہے، یا پھر ہم نے خود ہی اپنے گرد ایک ایسا حصار کھینچ لیا ہے جسے ہم 'سیکورٹی' کا نام دیتے ہیں؟ ​حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں ایک جگہ ٹھہر جانا، دراصل جسمانی نہیں بلکہ ذہنی جمود کا نام ہے۔ ​ہم ٹھہر کیوں جاتے ہیں؟ ​اس جمود کی وجوہات گہری اور نفسیاتی ہیں۔ چند اہم عوامل درج ذیل ہیں۔ ​ کمفرٹ زون (Comfort Zone) کا جال: ہم اپنی روزمرہ کی روٹین، چاہے وہ کتنی ہی بیزار کن کیوں نہ ہو، اس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ نئی چیزیں آزمانے، نئے راستے چننے اور نئے چیلنجز قبول کرنے میں خطرہ ہوتا ہے، اور انسان فطری طور پر خطرے سے بچنا چاہتا ہے۔ ​ ناکامی کا خوف: اکثر ہم اس لیے قدم نہیں اٹھاتے کیونکہ ہمیں ڈر ہوتا ہے ک...

​سفید پوشی کا بھرمرکھنا آسان کام نہیں ، سب سے بڑی جنگ

Image
---روما محمود--- ایک دینے والا جب لینے والا بنتا ہے، تو یہ صرف ایک مالی تبدیلی نہیں، بلکہ پوری شخصیت کی ایک ایسی ہجرت ہوتی ہے جس میں انسان کو اپنی ذات کے بہت سے حصوں کو مسمار کرنا پڑتا ہے۔ ​جو شخص کبھی دوسروں کی دستگیری کرتا رہا ہو، اس کے لیے سب سے مشکل کام "مانگنا" نہیں، بلکہ "ظاہر کرنا" ہے۔ وہ معاشرے میں اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے جو اب حقیقت میں باقی نہیں رہی۔ اسے ہم  "سفید پوشی کا بھرم"  کہتے ہیں۔ہمارا رویہ اس معاشرے کی اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جس میں وقت کا پہیہ کسی کی عزتِ نفس کو کیسے آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔​دینے والے کا مانگنے والا بننا وقت کا ایک تلخ امتحان​اسلامی تعلیمات اور معاشرتی روایات میں ہمیشہ یہ سکھایا گیا کہ "اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔" دینے والا ہاتھ ہمیشہ عزت کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن زندگی کے کچھ موڑ ایسے بھی آتے ہیں جہاں حالات کا پہیہ ایسا گھومتا ہے کہ جو ہاتھ کل تک دوسروں کی جھولیاں بھر رہا تھا، آج اسے وہی ہاتھ کسی کے سامنے پھیلانا پڑ جاتا ہے۔​یہ محض مالی نقصان نہیں ہے، یہ ایک ...

برانڈ کا طلسم ہم ناموں کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں؟

Image
---روما محمود--- ​ ​انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہم صرف بقا کے لیے زندہ نہیں رہے۔ پتھر کے زمانے سے لے کر آج کے ڈیجیٹل دور تک، انسان نے ہمیشہ اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے علامات (Symbols) کا سہارا لیا ہے۔ آج کے دور میں، یہی علامات "برانڈز" کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ بازار میں ایک ہی جیسی دو شرٹس موجود ہیں، ایک عام سی دکان سے ہے اور دوسری کسی بین الاقوامی برانڈ کی۔ ان دونوں کے کپڑے میں شاید ہی کوئی بڑا فرق ہو، لیکن قیمت اور صارف کی ترجیح میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ آخر ہم برانڈڈ چیزوں کی طرف اتنے مائل کیوں ہیں؟ کیا یہ صرف معیار کی بات ہے، یا اس کے پیچھے انسانی نفسیات کا کوئی گہرا کھیل چھپا ہے؟ ​1. سماجی حیثیت اور شناخت کا اظہار ​سماجی نفسیات کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ انسان ایک "معاشرتی جانور" ہے، اور اس کا سب سے بڑا خوف "لاتعلقی" یا "نظر انداز کیے جانے" کا ہے۔ برانڈز صرف مصنوعات نہیں، بلکہ یہ ایک زبان ہیں۔ جب آپ کسی خاص برانڈ کا جوتا پہنتے ہیں یا مہنگی گھڑی باندھتے ہیں، تو آپ بغیر کچھ کہے اپنے بارے میں ایک پیغام بھیج رہے ہوتے ہیں۔ یہ پیغام آپ کی سما...

آم: پھلوں کا بادشاہ اور ہماری تہذیب و ثقافت کی ایک میٹھی کہانی

Image
  ---روما محمود--- ​گرما کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے خطے میں ایک ایسی تبدیلی آتی ہے جسے صرف کیلنڈر سے نہیں، بلکہ فضا میں رچی بسی ایک خاص مہک سے پہچانا جا سکتا ہے۔ یہ مہک ہے 'آم' کی۔ جب جون کا سورج اپنی تپش دکھا رہا ہوتا ہے، تو بازاروں میں پیلے، سنہری اور سبز رنگ کے ڈھیر انسانی اشتہا کو بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ آم محض ایک پھل نہیں ہے، یہ جنوبی ایشیا، خصوصاً پاکستان اور بھارت کی تہذیب و ثقافت کا ایک لازمی جزو ہے۔ اس کی مٹھاس میں تاریخ، روایت، مہمان نوازی اور محبت کے کئی رنگ پنہاں ہیں۔ ​آم پھلوں کا بے تاج بادشاہ ​آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، اور یہ خطاب اسے بلاوجہ نہیں ملا۔ اس کے ذائقے کی تنوع، اس کی خوشبو، اور اس کے رنگوں کا جادو اسے دیگر پھلوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ایک چھوٹا سا آم بھی اپنی مٹھاس کے ساتھ پورے دسترخوان کو سجا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں آم کی سیکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن برصغیر کے آم کا ذائقہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں کی زمین، آب و ہوا اور صدیوں پرانی کاشتکاری کی مہارت نے آم کو وہ مقام دیا ہے کہ دنیا بھر کے لوگ اس کے موسم کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ ​پاکستان میں آم کی اقسام ...

ایم اے اور میں

  ---روما محمود--- آج سے بیس سال پہلے میرا ایم اے مکمل آج کی تاریخ میں ہوا تھا ۔ رزلٹ آ گیا تھا ۔ جب یاد کرتی ہوں تو یاد آتا ہے یونیقرسٹی کے پچھلے گیٹ سے اندر گئی تھی ۔ کوئی نہیں مل رہا تھا تو تھک کر تیز دھوپ میں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی تھی ۔ کافی دیر بعد سہیلی آئی تو کہا دھوپ میں کیوں بیٹھی ہو ۔ تو یاد آیا شدید گرمی کی تپتی دوپہر ہے ۔ میری یہ بےنیازی ۔ خیر اس وقت کسے پروا تھی ۔ پھر زرلٹ کا شور مچا ۔ نوٹس بورڈ کے پاس رش تھا صرف اتنا پتہ چلا کہ پاس ہو گی ہوں ۔ طویل جدوجہد کے بعد ایم اے کر ہی لیا ۔ گھر آ کر ابو کو بتایا کہ پاس ہو گی ہوں۔   ان بیس سالوں میں کیا کیا نہیں ہوا ۔ کیا کیا نہیں سہا ۔ جو چاہا نہیں ہوا ۔ جو مانگا نہیں ملا ۔ ابو بھی دنیا سے رخصت ہو گے۔ مگر وقت رکا نہیں ۔ چلتا ہی گیا۔

وقت کا بدلنا اور وقت کو بدلنا ایک فکری کشمکش

Image
  ---روما محمود--- ​ ​عام طور پر معاشرے میں ایک محاورہ بہت کثرت سے استعمال ہوتا ہے: "وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔" ہم اکثر کسی کامیاب انسان کو دیکھ کر یا کسی کی زندگی میں اچانک رونما ہونے والی تبدیلی کو دیکھ کر یہی کہتے ہیں کہ دیکھو، حالات کتنی جلدی بدل گئے۔ لیکن اگر ہم اس جملے کے دوسرے پہلو پر غور کریں، جسے آپ نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا کہ "وقت کو بدلنے میں ہی دیر لگتی ہے،" تو ہمیں زندگی کا ایک گہرا فلسفہ سمجھ آنے لگتا ہے۔ ​در حقیقت، "وقت کا بدلنا" اور "وقت کو بدلنا" دو بالکل الگ کیفیتیں ہیں۔ ​وقت کا بدلنا ایک خاموش تماشائی کا نظریہ ​جب ہم کہتے ہیں کہ وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتی، تو ہم دراصل ایک 'خارجی' مشاہدے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم صرف اس نتیجے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو سامنے آ چکا ہے۔ ہمیں وہ طویل صبر، وہ خاموش جدوجہد، اور وہ ان گنت راتیں نظر نہیں آتیں جو اس تبدیلی کی بنیاد بنی تھیں۔ قدرت کا اصول ہے کہ وہ اچانک نہیں بدلتا، بلکہ بتدریج تبدیلی جمع ہوتے ہوتے ایک دن نمودار ہوتی ہے۔ جسے لوگ 'قسمت کا پلٹا' کہتے ہیں، وہ اک...

سیاستدانوں کے کرائے کے غنڈے طاقت کا کالا سایہ

Image
  ---روما محمود--- پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی سیاست میں "کرائے کے غنڈے" ایک ایسا عنصر ہیں جو جمہوریت کی خوبصورت شکل کو مسخ کر دیتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سیاستدانوں کی طرف سے مخصوص کاموں کے لیے بھرتی کیے جاتے ہیں—انتخابی دھاندلی، مخالفین کو دبانا، جلسوں کی حفاظت، اور طاقت کے مظاہرے۔ یہ غنڈے عام طور پر بے روزگار نوجوان، مجرموں کی تاریخ رکھنے والے، یا علاقائی گینگ لیڈر ہوتے ہیں جنہیں ماہانہ تنخواہ، اسلحہ، اور سیاسی تحفظ کا لالچ دیا جاتا ہے۔ آج میں اس کالم میں ان کے کردار، طریقہ کار، نفسیاتی پس منظر، سماجی اثرات اور جمہوری نظام پر ان کے تباہ کن اثرات پر روشنی ڈالوں  گی۔ یہ موضوع حساس ہے، لیکن حقیقت سے منہ موڑنا ممکن نہیں۔ کرائے کے غنڈوں کی بھرتی اور ساخت سیاستدانوں کے لیے کرائے کے غنڈے ایک "سکیورٹی نیٹ ورک" کی طرح کام کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ مقامی سطح پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔ شہروں کے غریب محلات، دیہی علاقوں کے جاگیردارانہ نظام یا نوجوانوں کے بے سروسامان گروپوں سے۔ بھرتی کا عمل سادہ ہوتا ہے: ایک واسطہ دار (جو اکثر مقامی ایم پی اے یا ایم این اے کا قریبی ہوتا ہے) نو...