Posts

دو کا فلسفہ کائنات کا متضاد توازن

Image
  ---روما محمود-- ​کائنات جس اصول پر قائم ہے، وہ وحدت سے نکل کر "دو" کی طرف جاتا ہے۔ عددی اعتبار سے دو کا ہندسہ معمولی لگ سکتا ہے، مگر فلسفیانہ اور وجودی اعتبار سے یہ کائنات کی بنیاد ہے۔ ہم جس دنیا میں سانس لیتے ہیں، وہ جوڑوں (Pairs) کے بغیر ادھوری ہے۔ دن اور رات، روشنی اور تاریکی، خوشی اور غم، مرد اور عورت، خیر اور شر—یہ سب "دو" کے اسی فلسفے کی مختلف جہتیں ہیں۔ ​ ​فلسفے کی نظر میں "دو" کا مطلب صرف تعداد نہیں، بلکہ توازن ہے۔ اگر دنیا میں صرف روشنی ہوتی تو ہم اندھیرے کی قدر نہ جانتے۔ اگر صرف خوشی ہوتی تو غم کی گہرائی کا ادراک ممکن نہ ہوتا۔ دو کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک وجود دوسرے کے وجود کا محتاج ہے۔ اندھیرا، روشنی کے ہونے کی دلیل ہے۔ موت، زندگی کی حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ یہ تضاد دراصل تصادم نہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مکمل کرنے کا عمل ہے۔ ​ ​قدیم فلسفیوں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ چینی فلسفے کا ین اور یانگ (Yin and Yang) کا تصور اسی فلسفے کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ کائنات میں کچھ بھی مکمل طور پر سیاہ یا سفید نہیں ہے۔ ہر چیز میں اپ...

کلمۂ حق اور بسم اللہ سورت النمل کی دوہری تجلی

Image
  ---روما محمود--- ​قرآنِ کریم محض ایک کتابِ ہدایت نہیں، بلکہ یہ کائنات کے ان اسرار و رموز کا مجموعہ ہے جن کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے عقل اور قلب دونوں کی ہم آہنگی درکار ہے۔ اس مقدس کتاب کی ہر آیت ایک حکمت، ایک تاریخ اور ایک فلسفہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جب ہم سورت النمل کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسا فنی اور روحانی پہلو نظر آتا ہے جو دیگر سورتوں میں نہیں ملتا۔ سورت النمل قرآن کی وہ واحد سورت ہے جس میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" دو مرتبہ آئی ہے۔ ایک بار سورت کے آغاز میں اور دوسری بار آیت نمبر ۳۰ میں۔ یہ محض ایک تکرار نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم الشان تاریخ اور ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی سبق پوشیدہ ہے۔ ​تاریخ کا ایک اہم موڑ؛ حضرت سلیمانؑ کا خط ​سورت النمل میں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا (بلقیس) کا قصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ صرف ایک بادشاہ اور ملکہ کے درمیان خط و کتابت کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل، طاقت اور حکمت، اور تکبر اور عاجزی کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ ​جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہدہد کے ذریعے ملکہ سبا اور اس کی قوم کی سورج پرستی کی اطل...

زبان تہذیب و شناخت کا ایک زندہ استعارہ

Image
  ​--- روما محمود--- ​زبان محض الفاظ کا ایک مجموعہ یا اظہارِ مافی الضمیر کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ کسی بھی قوم کی تہذیب، اس کے اجتماعی شعور اور اس کی تاریخ کا نچوڑ ہوتی ہے۔ انسان جب سے اس کائنات میں آیا ہے، اس نے اشاروں کی دنیا سے نکل کر آوازوں اور علامتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا تعمیر کی ہے جسے ہم 'زبان' کہتے ہیں۔ زبان ایک زندہ جبلت ہے، یہ کسی قوم کی روح کی عکاس ہے اور جب تک یہ زبان زندہ رہتی ہے، اس قوم کا تشخص برقرار رہتا ہے۔ ​ ​کسی بھی معاشرے کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ ہم جس زبان میں سوچتے ہیں، اسی میں خواب دیکھتے ہیں اور اسی میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ زبان صرف بول چال کا نام نہیں، بلکہ یہ ان تمام تجربات کا احاطہ کرتی ہے جو ایک معاشرہ صدیوں تک طے کرتا ہے۔ جب ہم کسی دوسری زبان کو سیکھتے ہیں، تو دراصل ہم ایک نئی دنیا اور ایک نئے اندازِ فکر تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ​اردو جیسی وسیع زبان، جو اپنے دامن میں فارسی، عربی، ہندی، ترکی اور مقامی زبانوں کے الفاظ سمیٹے ہوئے ہے، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کس طرح وسعت پاتی ہیں۔ یہ زبان ہمار...

Repulsive انسان اور ہماری سوچ

Image
  ---روما محمود--- لوگ کسی کو "repulsive" یا ناگوار کیوں  کہتے ہیں، اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور ذاتی نوعیت کی کئی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے کراہت یا بیزاری کا سبب بنتا ہے، تو اس کا تعلق اکثر غیر شعوری ردعمل (Unconscious reaction) سے ہوتا ہے۔ ​ یہاں اس رویے کی چند اہم وجوہات ہیں۔ ​ غیر شعوری دفاعی نظام (Unconscious Defense Mechanism)۔ ​نفسیاتی اعتبار سے، ہم اکثر ایسی چیزوں یا افراد کو "repulsive" قرار دیتے ہیں جو ہمارے اپنے "سائے" (Shadow) کی عکاسی کرتے ہیں۔ کارل یونگ کے نظریے کے مطابق، جو نقائص ہم اپنے اندر قبول نہیں کرنا چاہتے، جب ہم وہی نقائص کسی دوسرے میں دیکھتے ہیں تو ہمیں شدید کراہت محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح کا دفاعی نظام ہے جو ہمیں اپنی خامیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ​ سماجی و تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی ​ہر معاشرے کے کچھ طے شدہ سماجی آداب ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان اخلاقی یا سماجی حدود کو پامال کرتا ہے، تو لوگ اسے 'ناگوار' یا 'repulsive' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ ردعمل معاشرتی ہم آہنگی کو بر...

زبان: طبی اور حیاتیاتی تناظر میں ایک شاہکار عضو ​

Image
  --- روما محمود--- ​زبان (Tongue) انسانی جسم کا ایک ایسا پٹھوں سے بنا عضو (Muscular organ) ہے، جو نہ صرف ذائقہ چکھنے کا ذریعہ ہے، بلکہ یہ نظامِ انہضام، بول چال اور تنفس میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ طبی سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو زبان محض ایک گوشت کا لوتھڑا نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ حیاتیاتی مشین ہے جس کی ساخت اور افعال حیران کن ہیں۔ ​اناٹومی اور ساخت (Anatomy and Structure) ​طبی اعتبار سے زبان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: • ​ اوریل پارٹ (Oral part): یہ زبان کا سامنے والا دو تہائی حصہ ہے جو منہ کے اندر آزادانہ حرکت کرتا ہے۔ • ​ فرینجیل پارٹ (Pharyngeal part): یہ زبان کا پچھلا ایک تہائی حصہ ہے جو حلق کی جڑ سے جڑا ہوتا ہے۔ ​زبان بنیادی طور پر 'اسکیلیٹل مسلز' (Skeletal muscles) سے بنی ہوتی ہے، جو اسے انسانی جسم کے سب سے زیادہ لچکدار اور مضبوط اعضاء میں شامل کرتے ہیں۔ یہ پٹھے دو قسم کے ہوتے ہیں: • ​ انٹرنسک مسلز (Intrinsic muscles): جو زبان کی شکل بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔ • ​ ایکسٹرنسک مسلز (Extrinsic muscles): جو زبان کو منہ میں آگے، پیچھے اور اوپر نی...

سازش، کردار کشی اور اخلاقی زوال: ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ ​

Image
  --- روما محمود--- ​کسی انسان کو منظم طریقے سے گمراہ کرنا، اسے غلط راستے پر دھکیلنا، پھر اس کے گرد لوگوں کا ایک ایسا گروہ اکٹھا کرنا جو اسے اس غلط راستے پر مزید اکسائے، اور آخرکار اس کی کردار کشی (Character Assassination) کر کے اسے معاشرتی طور پر زندہ درگور کر دینا، انسانی تاریخ کے تاریک ترین اور گھناؤنے ترین ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمل محض ایک جرم نہیں، بلکہ ایک ایسی اخلاقی پستی ہے جو کسی فرد کی ذات کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے اعتماد کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ ​سازشی جال ایک منظم منصوبہ بندی ​جب ہم کسی کو 'غلط راستے پر لگانے' کی بات کرتے ہیں، تو یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ اس عمل کے چند بنیادی مراحل ہوتے ہیں جو اسے ایک شیطانی کھیل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہدف بنائے گئے شخص کی کمزوریوں کو پہچانا جاتا ہے۔ اسے ایسے حالات میں دھکیلا جاتا ہے جہاں اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار (Decision-making power) محدود ہو جائے۔ سازشی گروہ اپنے کارندوں کو اس کے گرد جمع کرتا ہے، جو اس کی 'دوست' ہونے کا ڈرامہ کرتے ہی...

پیسہ ہی دین و ایمان ہے، صرف پیسہ ہی رشتہ داری ہے

Image
  ---روما محمود--- آج کے دور میں سب سے بڑا "دین" اور سب سے مضبوط "رشتہ" پیسہ بن چکا ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی ہے۔ اخلاق، ایمان، خاندانی اقدار، دوستی، محبت  یہ سب الفاظ اب صرف کتابوں اور خطابوں میں سجاوٹ کے لیے باقی رہ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں پیسہ بولتا ہے، وہاں سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ایک عجیب تبدیلی آ چکی ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی جیب دیکھتے ہیں۔ رشتہ داری کا فیصلہ اب خون کے رشتے سے نہیں، بینک بیلنس سے ہوتا ہے۔ لڑکی والے لڑکے کی نوکری، گاڑی، گھر اور ماہانہ آمدنی پوچھتے ہیں۔ لڑکے والے لڑکی کے والد کی حیثیت، جائیداد اور "بیک گراؤنڈ" چیک کرتے ہیں۔ محبت؟ وہ تو اب صرف ڈراموں میں نظر آتی ہے۔ ایک دوست نے مجھ سے کہا، "بھائی، رشتہ دیکھ رہا ہوں۔ لڑکی اچھی ہے مگر فیملی فنانشل کنڈیشن ٹھیک نہیں۔" میں نے پوچھا کہ لڑکی خود کیا کرتی ہے؟ اس نے جواب دیا، "وہ تو صرف گھر سنبھالتی ہے۔" یعنی پیسہ نہ ہو تو کردار، خوبصورتی، تعلیم  سب بے معنی۔ دوسری طرف، امیر گھرانوں میں رشتے بنتے ہی جاتے ہیں چاہے کردار کتنا بھی خر...