جنگ، حقیقت اور ضمیر کی بیداری کچھ معرکے ہارنے کے لیے نہیں، سچ دکھانے کے لیے ہوتے ہیں
---روما محمود--- انسانی تاریخ فتح و شکست، غلبے اور تسلط، اور عروج و زوال کے لاتعداد ابواب سے بھری پڑی ہے۔ روایتی عسکری اور سیاسی نظریات میں جنگ کا واحد مقصد فتح حاصل کرنا، حریف کو مادی طور پر زیر کرنا اور زمین یا وسائل پر قبضہ کرنا سمجھا جاتا ہے۔ اس مادی تناظر میں ہر وہ جنگ ناکام اور بے معنی قرار پاتی ہے جس کا انجام شکست، پسپا دستی یا جانی و مالی نقصان کی صورت میں نکلے۔ لیکن کیا زندگی اور تاریخ کا دائرہ کار صرف مادی نفع و نقصان کے حساب کتاب تک محدود ہے؟ کیا کچھ ایسی جنگیں بھی ہوتی ہیں جن کا مقصود تخت و تاج جیتنا نہیں بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنا ہوتا ہے؟ اس سوال کا اثبات میں جواب ہی انسانی تہذیب کی بقا اور فکری ارتقاء کا راز ہے۔ زندگی کے کئی موڑ اور نظریاتی معرکے ایسے ہوتے ہیں جہاں فتح و شکست کے مادی پیمانے اپنی تمام تر اہمیت کھو دیتے ہیں اور اصل مقصد اصول، خودداری اور حقیقت کی بقا بن جاتا ہے۔ مادی دنیا میں طاقتور ہمیشہ حق پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے کیونکہ اس کے پاس فتح کی سند ہوتی ہے۔ فاتح کا سچ ہمیشہ بلند آواز ہوتا ہے اور مقہور کی آواز کو وقت کی گرد میں دبانے کی کوشش کی ج...