گلابی رنگت، کتہ اور چونے کی کہانی پان اور ہماری تہذیب
---روما محمود---
برصغیر کی ثقافت میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو محض خوراک یا کوئی عام شے نہیں رہتیں بلکہ ایک تہذیب، ایک روایت اور ایک پورا طرزِ زندگی بن جاتی ہیں۔ پان بھی ایسی ہی ایک شے ہے۔ منہ میں رکھتے ہی کھلنے والا خوشبو کا بھنور، کتہ اور چونے کا مدہم سا رس، اور گلکند و سونف کی مہک—یہ سب مل کر ایک ایسا تجربہ تخلیق کرتے ہیں جو صرف ذائقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یادوں کے دریچے وا کر دیتا ہے۔
تاریخ کے اوراق پلٹیں تو پان کی جڑیں برصغیر کی قدیم تاریخ میں بہت گہری پیوست ملتی ہیں۔ یہ صرف عام لوگوں کا مشغلہ نہیں رہا بلکہ مغل درباروں، اور خاص طور پر لکھنؤ اور حیدرآباد کے نوابوں کی ثقافت کا ایک لازمی اور نفیس حصہ تھا۔ پان دان، جو کہ عموماً چاندی یا پیتل کے نفیس مینا کاری والے کام سے سجے ہوتے تھے، شاہی مجلسوں کی شان بڑھاتے تھے۔ کسی بھی تقریب یا مہمان نوازی کا سب سے پہلا اور حسین ترین تقاضا مہمان کی خاطر مدارات پان سے کرنا سمجھا جاتا تھا۔
اردو ادب اور شاعری میں پان کو ایک خاص اور رومانوی مقام حاصل ہے ، روزمرہ زندگی کے محاورے بھی اس سے خالی نہیں ہیں؛ مثلاً کسی مشکل کام کی ذمہ داری اپنے ذمے لینے کے لیے آج بھی "پان کا بیڑا اٹھانا" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ صرافہ بازار کی گہما گہمی ہو یا کسی پرانی گلی کا نکڑ، پان کا کھوکا ہمیشہ سے سماجی گپ شپ، خبروں کے تبادلے اور محفل جمنے کا مرکزی نقطہ رہا ہے۔
پان کی تیاری خود کسی فن سے کم نہیں۔ اس کی کئی اقسام ہیں جو ہر مزاج کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔
- میٹھا پان: بچوں اور خواتین میں یکساں مقبول، جس میں گلکند، کھوپرا، الائچی، مختلف مربے اور خوشبو دار مصالحے ڈالے جاتے ہیں۔
- سادھا پان: صرف کتہ، چونہ، اور چھالیہ کے ساتھ روایت پسندوں کا پسندیدہ۔
- زردہ یا تمباکو والا پان: جو تیز ذائقے اور نشے کے شوقین افراد کا خاصہ ہے۔
کاریگر یا پان والا اپنی انگلیوں کے پوروں سے کتے اور چونے کی ایسی توازن بخش تہہ لگاتا ہے کہ ہر پتے کا ذائقہ متوازن اور منہ میں گھلنے والا بن جاتا ہے۔
جہاں پان کے روایتی اور ثقافتی فوائد ہیں، وہیں اس کے استعمال کے صحت پر منفی اثرات سے بھی انکار ممکن نہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، چھالیہ اور تمباکو کا کثرت سے استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے جدید دور میں اس کے استعمال کے طریقوں میں تبدیلیاں آئی ہیں۔ تاہم، روایتی طور پر ہاضمے کی خصوصیات رکھنے والا پان آج بھی اپنے چاہنے والوں کے دلوں پر راج کرتا ہے۔
آج کی اس تیز رفتار ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ہر شے میکانکی ہو چکی ہے، پان کھانے اور کھلانے کا وہ سکون اور وقت شاید کم ضرور ہوا ہے جو کبھی بزرگوں کی بیٹھکوں کا خاصہ تھا۔ لیکن جب بھی کوئی شام ڈھلے، کسی گلی کے نکڑ پر پان کی دکان پر رک کر اپنے پسندیدہ پتے کی فرمائش کرتا ہے، تو وہ دراصل صدیوں پرانی روایت کو زندہ رکھ رہا ہوتا ہے۔ پان صرف ایک پتہ نہیں، یہ ایک احساس ہے، ایک تہذیب ہے جو وقت کی گرد تلے بھی اپنی خوشبو کھونے نہیں دیتی۔

Comments