Posts

Showing posts from March, 2026

سلام  انسانیت کا پہلا اور آخری رشتہ.

Image
  ---روما محمود--- انسانی تہذیب کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان، لیکن اس طویل سفر میں اگر کسی ایک لفظ یا عمل نے اجنبیوں کو دوست اور دشمنوں کو ہمدرد بنایا ہے، تو وہ ہے 'سلام'۔ سلام محض ایک رسمی لفظ یا سر جھکانے کی جنبش کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل فلسفہ ہے جس کی جڑیں امن، محبت اور سلامتی میں پیوست ہیں۔ اردو اور عربی زبان میں 'سلام' کا  مطلب 'سلامتی' ہے۔ جب ہم کسی کو سلام کرتے ہیں، تو ہم دراصل اسے ایک غائبانہ ضمانت دے رہے ہوتے ہیں کہ "میری زبان اور میرے ہاتھ سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا"۔ آج کے دور میں جہاں عدم برداشت اور سماجی فاصلے بڑھ رہے ہیں، سلام ایک ایسا پل ہے جو دلوں کے درمیان موجود نفرت کی خلیج کو پاٹ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا جادوئی جملہ ہے جو انا کی دیواروں کو گرا دیتا ہے اور انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک ہی انسانی برادری کا حصہ ہیں۔ نفسیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی کو دیکھ کر مسکرانا اور اسے سلام کرنا دونوں فریقین کے دماغ میں 'ڈوپامین' جیسے خوشگوار ہارمونز پیدا کرتا ہے۔ ایک اجنبی شہر میں جب کوئی آپ کو...

اسٹریلیا کے علاقوں میں آسمان مکمل طور پر خون جیسا سرخ ہو گیا۔

Image
  27 مارچ 2026 کوWestern Australia کے Shark Bay اور Denham علاقوں میں آسمان مکمل طور پر خون جیسا سرخ (blood red) ہو گیا۔ لوگوں نے اسے "اپوکلیپٹک" یا "مریخ جیسا" منظر کہا۔ کیا ہوا تھا؟ سائیکلون Narelle کے طاقتور ہواؤں نے زمین سے لوہے سے بھرپور سرخ مٹی اور دھول (iron-rich red dust) اڑا دی۔ یہ دھول آسمان میں گھنٹی رہی، جس کی وجہ سے سورج کی روشنی سرخ ہو کر زمین پر پڑی اور پورا علاقہ لال ہو گیا۔ یہ صرف آسمان ہی نہیں، بلکہ زمین، درخت، عمارتیں سب کچھ سرخ نظر آ رہے تھے۔ ویزیبلٹی بہت کم ہو گئی تھی۔ یہ منظر 27 مارچ کو Shark Bay Caravan Park اور آس پاس کے علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ سائیکلون نے ساحل پر تباہی بھی مچائی ۔ طاقتور ہوائیں، بارش، بجلی کی بندش، اور کچھ جگہوں پر مکانات کو نقصان پہنچا (خاص طور پر Exmouth علاقے میں)۔ یہ سائیکلون خاص تھا کیونکہ یہ 20 سالوں میں پہلا ایسا طوفان تھا جو آسٹریلیا کے تین مختلف ریاستوں/علاقوں میں لینڈ فال کر چکا تھا۔ وجہ کیا تھی؟ آسٹریلیا کے اندرونی علاقوں (Pilbara وغیرہ) میں سرخ مٹی بہت زیادہ ہے جو آئرن آکسائیڈ سے بھری ہوتی ہے۔...

دھمکیوں کا موسم اور عالمی غنڈہ گردی حقائق کے آئینے میں

Image
  ---روما محمود--- لوگ کہتے ہیں کہ قلم کی نوک تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے، لیکن آج کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ قلم کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور تلوار کی جگہ جدید میزائلوں، معاشی پابندیوں اور "سیاسی غنڈہ گردی" نے لے لی ہے۔ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں دلیل کی زبان گنگ کر دی گئی ہے اور دھمکی کو بطورِ گفتگو استعمال کیا جا رہا ہے۔ چاہے وہ گلی محلے کا کوئی نو آموز بدمعاش ہو، یا دنیا کا کوئی لیڈر یا کسی کانفرنس میں بیٹھے عالمی طاقتوں کے کارندے، سب کا فلسفہ ایک ہی ہے: "جو میری بات نہیں مانے گا، وہ مٹ جائے گا۔" پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کا زہر اثر کر چکا ہے ۔ پاکستان، جو اسلام کے نام پر امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بننا تھا، آج عدم برداشت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں "دھمکی" اب صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بن چکی ہے۔ ہمارے سیاسی ایوانوں میں جو زبان استعمال ہوتی ہے، وہ کسی طور پر بھی مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتی۔ سیاسی مخالفین کو سرِ عام "دیکھ لینے" کی دھمکیاں دینا، ان کے گھروں پر حملے کروانا اور انہیں غداری کے سرٹیفکیٹ ...

چیونٹی، حقارت سے عبرت تک کا سفر

Image
  ---روما محمود--- چیونٹی جیسی چھوٹی سی مخلوق کے ذریعے انسانی معاشرے، محنت، اور بقا کے فلسفے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کائنات کا ہر ذرہ اپنے اندر معرفت کا ایک جہاں چھپائے ہوئے ہے۔ ہم انسان، جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں، اکثر اپنی بڑائی کے زعم میں ان چھوٹی چھوٹی نشانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو قدرت نے ہماری  تربیت کے لیے بکھیر رکھی ہیں۔ انہی نشانیوں میں سے ایک  "چیونٹی" ہے۔ بظاہر ایک حقیر سا وجود، جسے ہم پاؤں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ چھوٹی سی مخلوق نظم و ضبط، محنتِ شاقہ اور سماجی ہم آہنگی کا وہ درس دیتی ہے جو بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بھی شاید نہ دے سکیں۔ قرآن اور تاریخ کے آئینے میں چیونٹی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرآن مجید کی ایک پوری سورت "النمل" (چیونٹی) کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ واقعہ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ گزر رہے تھے اور ایک چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا: "اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل نہ ڈالے"، یہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ چیونٹ...

FBI اور کاش پٹیل کی سرگرمیاں

Image
  ---روما محمود--- کاش پاٹیل کا مکمل نام۔ Kashyap Pramod Vinod Patel ہے 25 فروری 1980، Garden City، Long Island، نیویارک (USA) میں پیدا ہوئے۔ والدین گجراتی بھارتی اصل کے ہندوستانی مہاجر ہیں۔ ان کے والدین 1970 کی ابتداء میں یوگنڈا سے امریکہ آئے (یوگنڈا میں ان دنوں ایشیا مخالف پالیسیاں تھیں)۔ والد ایک ایوی ایشن کمپنی میں مالی افسر تھے۔    2002 میں University of Richmond سے Bachelor’s degree (Criminal Justice اور History میں)۔   2005 میں Pace University School of Law سے Juris Doctor (JD) کیا۔   University College London سے International Law کا سرٹیفکیٹ بھی لیا۔ وہ ہاکی کے شوقین کھلاڑی اور کوچ بھی رہے ہیں۔ - 2005 سے کیریئر کا آغازPublic Defender کے طور پر Florida (Miami-Dade اور Southern District of Florida) میں کیا۔ 8 سال تک وکیل رہے، جہاں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مالی جرائم، ہتھیاروں کے کیسز وغیرہ کیسز لڑے۔ - 2013-2014 میں U.S. Department of Justice (DOJ) کے National Security Division میں Terrorism Prosecutor بنے۔ اوباما دور میں ال-Qaeda، ISIS...

​صحرائی تہذیب قناعت اور ہمت کی داستان

Image
  ---روما محمود --- دنیا کے بڑے صحرا صرف ریت کے ٹیلوں کا نام نہیں ہیں، بلکہ یہ زمین کے وہ خطے ہیں جہاں بارش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صحرا صرف گرم نہیں ہوتے، بلکہ دنیا کے دو سب سے بڑے صحرا "سرد صحرا" (Cold Deserts) کہلاتے ہیں۔ دنیا کے پانچ بڑے صحراؤں کی  تفصیل درج ذیل ہے. 1. انٹارکٹک صحرا (Antarctic Desert) یہ دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے۔ عام طور پر لوگ اسے صحرا نہیں سمجھتے کیونکہ یہ برف سے ڈھکا ہوا ہے، لیکن سائنسی لحاظ سے جہاں بارش یا برف باری سالانہ 250 ملی میٹر سے کم ہو، وہ صحرا کہلاتا ہے۔    تقریباً 14 ملین مربع کلومیٹر۔   یہ زمین کا سرد ترین اور خشک ترین مقام ہے۔ 2. آرکٹک صحرا (Arctic Desert) یہ دنیا کا دوسرا بڑا صحرا ہے جو قطب شمالی کے گرد واقع ہے۔ اس میں الاسکا، کینیڈا، گرین لینڈ اور روس کے کچھ حصے شامل ہیں۔   تقریباً 13.9 ملین مربع کلومیٹر۔   یہاں بھی زندگی بہت مشکل ہے اور زمین کا زیادہ تر حصہ برف کی صورت میں منجمد رہتا ہے۔ 3. صحرائے اعظم (Sahara Desert) یہ دنیا کا سب سے بڑا گرم صحرا ہے۔ یہ براعظم افریقہ کے شمالی حص...

کیا یہ صرف سفارت کاری ہے یا کوئی نتیجہ خیز ملاقات ہے ۔

Image
  ---روما محمود--- اتوار، 29 مارچ 2026 کو اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیوں کا ایک بھرپور اور تاریخی سنگم دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی دارالحکومت اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ (US-Israel war on Iran) کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم چار فریقی سفارتی مشاورت جاری ہے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میزبانی میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا چار فریقی اجلاس (Quadrilateral Consultations) منعقد ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ یہ ہیں. پاکستان: محمد اسحاق ڈار سعودی عرب: شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود ترکیہ: حکا ن فیدان (Hakan Fidan) مصر: ڈاکٹر بدر عبدالعاطی (Badr Abdelatty) یہ دو روزہ مشاورت (29 اور 30 مارچ) کا مقصد ایران جنگ کو ختم کرنے، امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی راہ ہموار کرنے، اور خطے میں استحکام لانے کی کوشش ہے۔ اجلاس میں علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی کی کوششیں، اور سیاسی حل کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔ وزرائے خارجہ نے...

سفارتی محاذ آرائی الزامات کی سیاست اور تلخ حقائق

Image
  ​ ​---  روما محمود--- ​پاک بھارت تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط تنازعات، تلخ بیانات اور سفارتی کھینچا تانی سے بھری پڑی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں لفظی جنگ نے ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ دفترِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان محض ایک جوابی ردِعمل نہیں بلکہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ان دعوؤں کا آئینہ ہے جو اکثر 'تشویش' کے لبادے میں اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔   ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی کا یہ دو ٹوک موقف کہ بھارت کے ریمارکس "طنزئیہ اور گمراہ کن" ہیں، اس سچائی کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اب محض بیانیہ سازی سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ​اعلامیے میں جن اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ سال 2025 میں بھارت میں 55 سے زائد مسلمانوں کا ہجوم کے ہاتھوں قتل (Lynching) اور 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں یہ تعداد 19 تک پہنچ جانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہاں اقلیتوں کے گرد گھیرا کس حد تک تنگ ہو چکا ہے۔  جب مذہبی مقامات، خاص طور پر مساجد کو انتہا پ...

اسلام آباد سفارتی سرگرمیوں کا نیا مرکز اور پاکستان کی ثالثی کی نیک نیت حقیقت

Image
  --- روما محمود--- پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 29 مارچ 2026 کو ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سنیچر کی رات اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان ال سعود کی آمد بھی متوقع ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق دار کی دعوت پر یہ تینوں وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں چار فریقی مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس نہ صرف علاقائی کشیدگی پر بات چیت کا موقع فراہم کرے گا بلکہ ایران-امریکہ تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی ابھرتی ہوئی ثالثی کا کردار بھی اجاگر کرے گا۔ یہ حالیہ سفارتی ہلچل اتفاقی نہیں ہے۔ فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان نے نہ صرف فون ڈپلومیسی کے ذریعے متحرک کردار ادا کیا بلکہ امریکہ اور ایران کے...

اذان اللہ سب سے بڑا ہے ۔آو نماز کے لئے آو ، آو کامیابی کے لیے آو ۔

Image
  --- روما محمود--- طلوعِ فجر کے دھندلے اجالوں سے لے کر رات کی سیاہی کے گہرے ہونے تک، فضاؤں میں ایک ایسی صدا گونجتی ہے جو صدیوں سے انسانی روح کو بالیدگی اور معاشرے کو ایک انوکھا نظم و ضبط عطا کر رہی ہے۔ یہ 'اذان' ہے. اذان کیا ہے ؟  اللہ کی طرف سے پکار ہے ۔ آو نماز کے لیے آو  آو کامیانی کی طرف آو۔ اذان میں ایک راز ہے جو اس کو غور سے سننے والے کو ملتا ہے ۔   محض نماز کا بلاوا نہیں، بلکہ کائنات کے سب سے بڑے سچ 'توحید' کا وہ اعلانِ عام ہے جو ہر روز پانچ مرتبہ کرہ ارض کے ہر کونے میں سنائی دیتا ہے۔ اذان کی ابتدا مدینہ منورہ میں ہوئی جب مسلمانوں کو باجماعت نماز کے لیے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مشاورت کے بعد اللہ تعالیٰ نے صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زیدؓ کو خواب میں اذان کے کلمات سکھائے، جن کی تائید حضرت عمر فاروقؓ نے بھی کی۔ جب مسجدِ نبوی کی چھت پر کھڑے ہو کر حضرت بلال حبشیؓ نے پہلی بار اپنی بلند اور سوز بھری آواز میں 'اللہ اکبر' کی صدا بلند کی، تو گویا تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ وہ آواز جو صدیوں پہلے صحرائے عرب سے اٹھی تھی، آج بھی دنیا کے ہر طول و عر...

کچنار, وہ شاہی سوغات جو ملکہ برطانیہ کے دسترخوان کی زینت بنی

Image
  --- روما محمود--- موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی جہاں گلاب  کی خوشبوئیں فضاؤں میں بکھرتی ہیں، وہیں پاکستان کے روایتی کچن میں ایک ایسی نایاب سبزی کی خوشبو مہکنے لگتی ہے جس کا انتظار سال بھر کیا جاتا ہے۔ یہ 'کچنار' ہے۔ایک ایسی نزاکت جو صرف چند ہفتوں کے لیے نمودار ہوتی ہے اور پھر ایک سال کے لیے روٹھ جاتی ہے۔  ہمارے گھر میں کچنار ہمیشہ سے  بنتی آئی ہے ۔ امی کچنار پکاتی تھیں  اور ابو شوق سے کھاتے تھے ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچنار محض ایک عام سبزی نہیں، بلکہ یہ وہ "شاہی سوغات" ہے جس نے برطانوی راج کے ایوانوں اور بالخصوص ملکہ برطانیہ (ایلزبتھ دوم) کے ذائقے کو بھی مسخر کر رکھا تھا؟ روایات بتاتی ہیں کہ ملکہ برطانیہ جب بھی پاکستان کے دورے پر تشریف لائیں یا لندن میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے کسی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، تو ان کے مینو (Menu) میں کچنار کو ایک خاص "ایگزوٹک" ڈش کے طور پر پیش کیا گیا۔ ملکہ، جو اپنی متوازن غذا اور نفیس انتخاب کے لیے جانی جاتی تھیں، کچنار کی ہلکی سی منفرد کڑواہٹ اور قیمے کے ساتھ اس کے سنگم کی مداح تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانیہ ...

ایران کا خارگ جزیرہ اور جنگ کے ثرات

Image
  ---روما محمود--- جزیرہ خارک (Kharg Island یا جزیره خارگ) ایران کے خلیج فارس (Persian Gulf) میں ایک چھوٹا سا مرجانی (coral) جزیرہ ہے۔ یہ ایران کی معیشت کا دل اور تیل کی برآمدات کا سب سے اہم مرکز ہے۔ یہ ایران کے ساحل سے تقریباً 25 سے 28 کلومیٹر (15-17 میل) دور واقع ہے۔ بوشہر (Bushehr) بندرگاہ سے تقریباً 55 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔ آبنائے ہرمز سے تقریباً 660 کلومیٹر شمال مغرب میں۔ تقریباً 20 مربع کلومیٹر (8 کلومیٹر لمبا اور 4-5 کلومیٹر چوڑا)  یعنی منہٹن سے تقریباً ایک تہائی سائز کا۔ گہرے پانیوں کی وجہ سے بڑے آئل ٹینکرز (supertankers) یہاں آسانی سے لنگر انداز ہو سکتے ہیں، جو ایران کے دیگر کم گہرے ساحلوں کے مقابلے میں اسے منفرد بناتا ہے۔ خارک جزیرہ ایران کی تیل کی برآمدات کا 90 فیصد حصہ سنبھالتا ہے۔ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل برآمد ہوتا ہے، جو بنیادی طور پر چین اور دیگر ایشیائی ممالک کو جاتا ہے۔  یہاں بڑی پائپ لائنز mainland کے بڑے آئل فیلڈز (جیسے Ahvaz, Marun) سے تیل لاتی ہیں۔ اسٹوریج کی صلاحیت, 30 ملین بیرل تک تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ لوڈنگ کی صل...

تضادات کا اسیر سورج کی روشنی بمقابلہ برقی چراغاں اور انقلاب کی دوڑ۔ ۔

Image
  ---روما محمود--- ایک طرف قومی معیشت اور توانائی کے بحران کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے معمولات بدلیں، تو دوسری طرف سماجی ڈھانچہ اور گھریلو مجبوریاں ایک الگ تصویر پیش کرتی ہیں۔ وطنِ عزیز عجیب تضادات کا مجموعہ بن چکا ہے۔ قدرت نے ہمیں بارہ مہینے سورج کی بھرپور روشنی اور توانائی سے نوازا ہے، لیکن ہم شاید دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جو سورج کی روشنی سے بھاگتے ہیں اور مصنوعی روشنیوں میں رزق تلاش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہمارے بازار دوپہر ڈھلے انگڑائی لے کر جاگتے ہیں اور اس وقت جوبن پر ہوتے ہیں جب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ اگلے دن کی تیاری کے لیے بستروں میں جا چکے ہوتے ہیں۔ سال ہا سال سے ہم بجلی کی کمی اور مہنگی قیمت کا رونا روتے ہیں۔  حکمران کفایت شعاری کے وعظ کرتے نہیں تھکتے، یہاں تک کہ پارلیمنٹ ہاؤس کی بتیاں گل کر کے "بچت" کا تاثر دیا جاتا ہے، لیکن اصل مسئلہ یعنی "مارکیٹ ٹائمنگز" پر بات کرتے ہوئے سب کے پر جلتے ہیں۔ تاجر برادری کا سیاسی اثر و رسوخ اور حکومتوں کی مصلحت پسندی نے اس ملک کو ایک ایسے چکر میں پھنسا دیا ہے جہاں رات گئے تک دکانیں کھلی رکھنا "حق" سمجھ لیا...

ایک بھلی بسری یاد ۔سر مفتی ۔

Image
  ----روما محمود---- آج رات کو  جب پی ٹی وی پر سر مفتی کی وفات کی خبر سنی تو ذہن میں مہینہ پہلے کی بات یاد آ گئی۔ سر مفتی ہمارے استاد تھے ۔ سخت سے سخت بات بھی باتوں میں کہہ دیتے تھے۔ جب بندہ سٹوڈنٹ لائف میں ہوتا ہے وہ کچھ ناسمجھ ، بے وقوف اور لا پروا سا ہوتا ہے ۔ بہت سی باتیں سر کے اوپر نکل جاتی ہیں ۔ میرا بھی یہی حال تھا۔ کوئی کوئی بات پلے پڑتی تھی ۔ وہ بھی مجھ جیسا انسان جو ظاہری طور پر وہاں موجود ہو اور انکھیں اور کان کہیں اور کسی اور وقت میں ہوں ۔ جو لوگ سر مفتی کو  جانتے ہیں۔ وہ ان کے مزاج سے خوب واقف ہوں گے۔ مفتی جمیل الدین احمد پاکستان کے  ممتاز ادیب، صحافی، دانشور اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سابق سینئر بیوروکریٹ تھے۔ وہ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بھی رہے۔  انفارمیشن گروپ کے سینئر افسر، ڈائریکٹر جنرل APP۔ وہ ایک ممتاز ادیب، دانشور اور تدریسی شعبے سے بھی وابستہ رہے۔ ایک نظم پیاز پر ہمیں سنائی تھی ۔ کہ انسان بھی پیاز کی طرح layers میں چھپا ہوتا ہے ۔ میری یادوں میں جب پہلا سمسٹر تھا ۔میرے 25 نمبر آئ...

کاسہِ تضحیک اور بونا قد  جب معاشرہ ٹانگ کھینچنے کو فن بنا لے

Image
  --- روما محمود--- انسانی جبلت کے عجائب خانے میں اگر سب سے بدصورت نمائش لگائی جائے، تو اس میں "دوسرے کو نیچا دکھانے" کے جذبے کو پہلا انعام ملے گا۔ یہ وہ زہر ہے جو شہد جیسی باتوں  میں گھول کر پلایا جاتا ہے اور وہ خنجر ہے جو مصلحت کے غلاف میں لپیٹ کر سینے میں اتارا جاتا ہے۔ آج کے معاشرے میں کسی کی حوصلہ شکنی کرنا یا اسے سرِ عام شرمندہ کرنا محض ایک غلطی نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ "سماجی مشغلہ" بن چکا ہے۔ کیکڑا سوچ اور نفسیاتی گرہیں نفسیات کی اصطلاح میں اسے "Crab Mentality" کہا جاتا ہے یعنی ٹوکری میں بند وہ کیکڑے جو خود تو باہر نہیں نکل سکتے، لیکن اگر کوئی دوسرا نکلنے کی کوشش کرے تو اسے ٹانگ سے پکڑ کر واپس کھینچ لیتے ہیں۔ جو شخص کسی دوسرے کی چھوٹی سی لکیر کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے، وہ دراصل اپنی لکیر لمبی کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ یہ رویہ اس احساسِ کمتری کا شاخسانہ ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب ایک فرد اپنی ناکامیوں کا بوجھ نہیں اٹھا پاتا، تو وہ دوسروں کی کامیابیوں پر طنز کے نشتر چلا کر اپنے انا کی تسکین کرتا ہے۔ تہذیب کے لبادے میں چھپی ہوئ...