چیونٹی، حقارت سے عبرت تک کا سفر
---روما محمود---
چیونٹی جیسی چھوٹی سی مخلوق کے ذریعے انسانی معاشرے، محنت، اور بقا کے فلسفے کو اجاگر کیا گیا ہے۔
کائنات کا ہر ذرہ اپنے اندر معرفت کا ایک جہاں چھپائے ہوئے ہے۔ ہم انسان، جو خود کو اشرف المخلوقات کہتے ہیں، اکثر اپنی بڑائی کے زعم میں ان چھوٹی چھوٹی نشانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو قدرت نے ہماری تربیت کے لیے بکھیر رکھی ہیں۔
انہی نشانیوں میں سے ایک "چیونٹی" ہے۔ بظاہر ایک حقیر سا وجود، جسے ہم پاؤں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ چھوٹی سی مخلوق نظم و ضبط، محنتِ شاقہ اور سماجی ہم آہنگی کا وہ درس دیتی ہے جو بڑے بڑے فلسفی اور دانشور بھی شاید نہ دے سکیں۔
قرآن اور تاریخ کے آئینے میں
چیونٹی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرآن مجید کی ایک پوری سورت "النمل" (چیونٹی) کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا وہ واقعہ جب وہ اپنے لشکر کے ساتھ گزر رہے تھے اور ایک چیونٹی نے اپنی ساتھیوں سے کہا: "اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل نہ ڈالے"، یہ محض ایک قصہ نہیں بلکہ چیونٹی کے شعور، اپنی برادری کے لیے فکر اور قائدانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔
حضرت ادریس علیہ السلام سے لے کر جدید دور کے سائنسدانوں تک، سب نے اس مخلوق کی ہمت کو سراہا ہے۔
تیمور لنگ کی وہ کہانی کون بھول سکتا ہے جس نے شکست کھا کر غار میں پناہ لی اور وہاں ایک چیونٹی کو دیکھا جو دانے کا ٹکڑا لے کر بار بار دیوار پر چڑھتی اور گرتی، لیکن اس نے ستر سے زائد بار کوشش کر کے آخر کار منزل پا لی۔ اسی ایک چیونٹی نے تیمور کو وہ حوصلہ دیا جس نے اسے دوبارہ فاتحِ عالم بنا دیا۔
امی ہمیں ایک واقعہ سناتی تھیں کہ عدالت بے ایک آدمی کو پھانسی کی سزا سنا دی ۔
حلانکہ وہ بے گناہ تھا ۔
جب ادھر ادھر سے پوچھا تو جواب آیا چونٹی کاسر اس بندے سے زیادہ اونچا تو نیہیں تھا ۔
جیل میں ماں نے اسے بتایا تع اسے یاد آیا ایک دن شرارت سے چونٹیوں کی گردنیں اتار کر کھیل رہا تھا ۔
ہم بھول جاتے ہیں قدرت نہیں بھولتی ۔
اگر ہم انسانی معاشرے کا موازنہ چیونٹیوں کی بستی (Colony) سے کریں تو ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ چیونٹیوں کا معاشرہ دنیا کا سب سے زیادہ منظم معاشرہ ہے۔
وہاں ہر چیونٹی کو اپنا کام پتہ ہے۔ ملکہ چیونٹی سے لے کر سپاہی اور مزدور چیونٹی تک، کوئی بھی اپنے فرائض سے غافل نہیں ہوتا۔
چیونٹیاں گرمیوں میں سردیوں کے لیے خوراک جمع کرتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ کڑا وقت آنے والا ہے، اس لیے وہ سستی کے بجائے مشقت کو ترجیح دیتی ہیں۔ کیا ہمارا معاشرہ مستقبل کی ایسی منصوبہ بندی کرتا ہے؟
جب ایک چیونٹی کو خوراک کا بڑا ٹکڑا ملتا ہے، تو وہ اسے اکیلے کھانے کے بجائے اپنی برادری کو مطلع کرتی ہے۔ وہ مل کر اس بوجھ کو اٹھاتی ہیں۔ یہ "اجتماعیت" کا وہ سبق ہے جسے ہم انسان بھول چکے ہیں۔
چیونٹی اپنے وزن سے پچاس گنا زیادہ بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جسمانی جسامت نہیں بلکہ "عزمِ صمیم" انسان کو بڑا بناتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں "شارٹ کٹ" کا دور دورہ ہے۔ ہر کوئی بغیر محنت کے امیر بننا چاہتا ہے۔ رشوت، سفارش اور لوٹ مار نے ہماری بنیادیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ دوسری طرف چیونٹی ہمیں سکھاتی ہے کہ رزقِ حلال کے لیے تگ و دو کرنا اور مسلسل جدوجہد ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ چیونٹی کبھی مایوس نہیں ہوتی۔
آپ اس کا راستہ روکیں، وہ اپنا راستہ بدل لے گی، دیوار پر چڑھے گی، نیچے سے گزرے گی، لیکن اپنی منزل کی تلاش نہیں چھوڑے گی۔
سائنسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو چیونٹیاں زمین کی صفائی کا نظام (Scavenging System) چلاتی ہیں۔ وہ زمین کو ہوادار بناتی ہیں اور بیجوں کی منتقلی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اگر دنیا سے چیونٹیاں ختم ہو جائیں تو ماحولیاتی توازن بگڑ جائے۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز "بے کار" نہیں ہے۔ جسے ہم حقیر سمجھتے ہیں، وہ دراصل نظامِ ہستی کا ایک اہم ستون ہے۔
اگر ہم چیونٹی بن کر سوچیں
تصور کریں کہ ایک ایسی بستی جہاں نہ کوئی پولیس ہے، نہ کوئی عدالت، لیکن پھر بھی کوئی جرم نہیں ہوتا۔
جہاں ذخیرہ اندوزی دوسروں کا حق مارنے کے لیے نہیں بلکہ سب کے تحفظ کے لیے ہوتی ہے۔ جہاں بادشاہت (ملکہ) رعایا کے خون پر نہیں بلکہ نسل کی بقا پر قائم ہے۔
ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو چیونٹیوں کی معاشی حکمتِ عملی سے سیکھنا چاہیے۔ وہ قحط سے پہلے اناج جمع کرتی ہیں، جبکہ ہم بحران آنے کے بعد کمیٹیاں بناتے ہیں۔ وہ خطرے کی بو سونگھتے ہی پوری بستی کو الرٹ کر دیتی ہیں، جبکہ ہم دشمن کے گھر میں گھسنے تک خوابِ غفلت میں سوئے رہتے ہیں۔
چیونٹی صرف ایک کیڑا نہیں، ایک خاموش استاد ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ
کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
اتحاد میں برکت اور طاقت ہے۔
چھوٹا ہونا عیب نہیں، حوصلہ ہارنا عیب ہے۔
آج جب ہم پاکستانی معاشرے میں افراتفری، جھوٹ اور مصلحت پسندی کا شکار ہیں، ہمیں اپنے قدموں تلے چلتی ان چھوٹی سی مخلوقات کی طرف دیکھنا چاہیے۔ شاید ہمیں وہ سبق مل جائے جو ہمیں ایک منتشر ہجوم سے ایک عظیم قوم بنا دے۔
اگر ایک حقیر سی چیونٹی اپنی بستی کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا سکتی ہے، تو ہم تو اشرف المخلوقات ہیں۔
ہمیں اپنی سوچ اور عمل کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں دھمکیوں اور غنڈہ گردی کے کلچر کو ختم کر کے محنت اور نظم و ضبط کا وہ کلچر اپنانا ہوگا جس کی عملی تصویر ہمیں زمین پر رینگتی یہ ننھی سی جان دکھاتی ہے۔

Comments