Posts

Showing posts from February, 2026

​جنگی تجارت اور خون کی پکار ۔ کیا جنگیں صرف سامان بیچنے کے لیے ہیں؟

Image
  ​--- روما محمود--- ​دنیا بھر میں جب بھی کہیں بارود کی بو آتی ہے، جب بھی معصوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، اور جب بھی گھروں کے گھر ملبے کا ڈھیر بنتے ہیں، تو انسانیت کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن ان تباہ حال مناظر کے پس منظر میں، ایک ایسی مکروہ حقیقت بھی چھپی ہے جو اخلاقیات سے عاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور کی جنگیں صرف زمین، نظریے یا دفاع کے لیے لڑی جا رہی ہیں، یا ان کے پیچھے ایک بہت بڑی تجارتی سازش کارفرما ہے؟ ​یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید جنگی مشینری ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیاں ، جن کا تعلق زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے ہے، جنگوں کے ذریعے اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ جب کسی خطے میں تناؤ بڑھتا ہے، تو ان کمپنیوں کے شیئرز آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ امن ان کے کاروبار کے لیے زہرِ قاتل ہے، جبکہ جنگ ان کے لیے زندگی کی علامت ہے۔ ​تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، لیکن انہیں جان بوجھ کر طول دیا گیا تاکہ اسلحے کی کھپت جاری رہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں جدید ترین میزائل، ڈرون، اور ٹینک آزمائے جاتے ہیں، اور پھر ان کے ...

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک نئی جنگ کا آغاز.

Image
  --روما محمود-- ​ ​ آج مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم اور تشویشناک دن ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے اب ایک نئی اور خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ایرانی حملوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر خطے کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی فوجی اڈوں پر حملے: ایران نے بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) سمیت دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ بحرین: بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات: ابوظبی میں امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ والی بیس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور یو اے ای نے اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ حملے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ ​یہ ایک انتہائی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ہے۔ ​ بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ اور ابوظبی میں امریکی بیس کے قریب دھماکوں نے یہ ثابت کر دیا ہے ک...

"یا ھو: لسانی، اسلامی اور عبرانی تناظر میں ایک تحقیقی مطالعہ" ​"لفظِ 'یاہو

Image
  ---روما محمود--- لفظ "یاہو" (Yahoo) کے بارے میں تحقیق کی تو یہ پہلو سامنے آئے۔ ایک وہ جو عبرانی (یہودی) پس منظر سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسلامی تناظر میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ​ دونوں نقطہ نظر کی وضاحت کچھ یوں ہے۔ ​ یہودی نقطہ نظر (عبرانی پس منظر) ​یہودی روایات اور عبرانی زبان میں لفظ "یاہو" کا تعلق براہ راست خدا کے مقدس نام سے ہے۔ لفظ کی اصل: عبرانی میں خدا کا ایک خاص نام چار حروف پر مشتمل ہے جسے "Tetragrammaton" (یعنی YHWH) کہا جاتا ہے۔ مقدس نام کا حصہ: "یاہو" یا "یاہ" (Yah/Yahu) اسی نام کے مخفف یا جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ آپ کو یہ بہت سے عبرانی ناموں کے آخر میں ملے گا، جیسے 'نتن یاہو' (جس کا مطلب ہے: خدا کا دیا ہوا) یا 'الیاہو'۔ قدامت پسند یہودی اس نام کو زبان سے ادا کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں خدا کا نام لینا بہت زیادہ تقدس کا حامل ہے۔ ​ اسلامی نقطہ نظر (تصوف اور ذکر) ​اسلامی علمی روایت، خاص طور پر تصوف (Sufism) میں "یا ھو" کا ایک خاص مقا...

آپریشن رورنگ لائن،امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر بڑا فوجی حملہ، تہران سمیت کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

Image
  ----روما محمود---- آج  28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑی مشترکہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جسے 'آپریشن رورنگ لائن' (Operation Roaring Lion) کا نام دیا گیا ہے۔ ​اس حملے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں۔ ​ حملے کی نوعیت اور مقامات تہران پر حملے: ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میزائل حملوں میں یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوریہ ایریا اور شمالی تہران کے سید خندان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دیگر شہر: تہران کے علاوہ قم، کرمانشاہ، اصفہان اور کرج میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔ اہداف: رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کے دفاتر کے قریبی علاقوں، صدارتی محل اور قومی سلامتی کونسل کی عمارتوں کے قریبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ​ حملے کی وجوہات جوہری پروگرام اور ڈیڈ لائن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، جس کے ختم ہونے اور جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ پیشگی حملہ (Preemptive Strike)۔ اسرائیلی وزیرِ دف...

گوادر سی پیک اور وسطی ایشیا: ایک نئی علاقائی معاشی راہداری کا قیام" پاکستان اس وقت

Image
   وسطی ایشیائی ریاستوں (Tajikistan, Uzbekistan, Turkmenistan) تک رسائی کے لیے ایک "تجارتی پل" کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ​ ​ طورخم - کابل - ازبکستان روٹ (شمالی راہداری) ​یہ پاکستان کا سب سے اہم اور مصروف ترین تجارتی راستہ ہے۔ راستہ: پشاور ⬅️ طورخم ⬅️ کابل ⬅️ مزارِ شریف ⬅️ ترمذ (ازبکستان) ۔ اہمیت: اس راستے کے ذریعے پاکستان کی مصنوعات (سیمنٹ، ادویات، چاول) ازبکستان جاتی ہیں اور وہاں سے کوئلہ اور معدنیات پاکستان آتی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ بھی ہوا ہے جس نے اس راستے کو مزید فعال کر دیا ہے۔ ​ چمن - قندھار - ترکمانستان روٹ (جنوبی راہداری) ​یہ راستہ جنوبی افغانستان اور وسطی ایشیا کے مغربی حصوں کو جوڑتا ہے۔ راستہ: کوئٹہ ⬅️ چمن ⬅️ قندھار ⬅️ ہرات ⬅️ ترکمانستان ۔ اہمیت: یہ راستہ "تاپی" (TAPI) گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے، جو ترکمانستان سے گیس پاکستان لائے گا۔ ​ غلام خان بارڈر (شمالی وزیرستان) ​یہ راستہ حال ہی میں تجارت کے لیے بہت زیادہ مقبول ہوا ہے۔ فائدہ: یہ کراچی کی بندرگاہوں سے کابل تک کا م...

ڈیورنڈ لائن، تاریخ کے آئینے میں ایک لکیر جو سرحد بن گئی

Image
    ----روما محمود--- پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد، جسے 'ڈیورنڈ لائن' کہا جاتا ہے، محض مٹی پر کھینچی گئی ایک لکیر نہیں بلکہ یہ خطے کی تاریخ، سیاست اور جغرافیہ کا ایک انتہائی پیچیدہ باب ہے۔  ​   ​پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2,640 کلومیٹر طویل سرحد نہ صرف دو ممالک کو جدا کرتی ہے بلکہ یہ دو مختلف سیاسی نظریات اور تاریخی تنازعات کا مرکز بھی رہی ہے۔ اس سرحد کو سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے اس دور میں جانا پڑے گا جب دنیا "گریٹ گیم" (Great Game) کے سحر میں مبتلا تھی۔ ​   ​12 نومبر 1893ء کو برطانوی ہند کے خارجہ سیکرٹری سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کے امیر، امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت اس سرحد کا تعین کیا گیا۔ اس وقت برطانوی راج کو یہ فکر لاحق تھی کہ زارِ روس وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا کہیں برصغیر پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ اس ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے انگریزوں نے افغانستان کو ایک "بفر سٹیٹ" (Buffer State) کے طور پر استعمال کیا اور اپنی حدود کے تحفظ کے لیے ڈیورنڈ لائن کھینچ دی۔ ​ڈیورنڈ لائن کے قیام کے پیچ...

​پاک افغان سرحد دوستی کی آڑ میں دشمنی کا کھیل جاری۔

Image
  --روما محمود-- ​ ​تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے رشتے صرف جغرافیائی سرحدوں سے نہیں بلکہ خون، ثقافت اور مذہب کے گہرے بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، حالیہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد محض ایک لکیر نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی، بداعتمادی اور اب کھلی دشمنی کا میدان بن چکی ہے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ دونوں طرف سے گولیوں اور میزائلوں کی گونج میں معصوم شہریوں کی چیخیں دب کر رہ گئی ہیں۔ ​تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سرحد پار سے ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے "آپریشن غضب للحق" کا آغاز کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب، افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں شہری آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ "جوابی کارروائیوں" کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ بن چکا ہے جس کا خمیازہ دونوں ملکوں کے غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ ​اس کشیدگی کی جڑ میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے، اور...

آپریشن غضب للحِق پاک افغان تعلقات میں بارود کی بو اور جنگی بگل

Image
  --روما محمود-- 27 فروری 2026 کی صبح پاک افغان سرحدوں اور فضائی حدود میں وہ لرزہ خیز تبدیلی آئی جس کا خدشہ گزشتہ کئی عرصے سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اب بیانات سے نکل کر کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے "آپریشن غضب للحِق" کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آپریشن کی تفصیلات اور فوجی پیش قدمی پاکستانی ذرائع (عطا اللہ تارڑ کے بیان کے مطابق) کے مطابق، یہ آپریشن جمعہ کی صبح 3:40 بجے شروع کیا گیا۔ اس کارروائی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اور زمینی دستوں نے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ افغانستان کے دل کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کے اہم دفاعی مراکز کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کے ابتدائی نتائج جو پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے، انتہائی ہولناک ہیں. جانی نقصان: دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ تزویراتی ضرب۔ دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور دو بڑے اسلحہ ڈپو (Ammunit...

​عکس یا اصل پاکستانی معاشرے میں رول ماڈل اور بچپن کا سفر

Image
  --روما محمود-- بچپن سے رول ماڈل کا تزکرہ سنتے آئے ہیں۔ ​ ​کہتے ہیں کہ بچہ ایک کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر زمانے کی گردشیں اپنے نقش ثبت کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں بچہ ایک "شفاف آئینہ" ہوتا ہے جو وہی کچھ دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جب ہم رول موڈل کی بات کرتے ہیں، تو ہم اکثر ستاروں پر کمند ڈالنے والوں کا تذکرہ کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے کے لیے پہلا ستارہ اس کا اپنا گھر اور اس کے والدین ہوتے ہیں۔ ​ ​پاکستانی تناظر میں بچے کی شخصیت کی تعمیر اس کے لاشعور سے شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنے باپ کو لوگوں سے بات کرتے دیکھ کر لہجہ سیکھتا ہے اور اپنی ماں کی خاموش قربانیوں سے ایثار کا سبق لیتا ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ہم بچے کو "سچا" بننے کی نصیحت تو زبان سے کرتے ہیں، لیکن جب دروازے پر کوئی دستک دے اور ہم بچے سے کہلوائیں کہ "کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں"، تو وہیں ایک مثالی شخصیت (Role Model) کا تصور پاش پاش ہو جاتا ہے۔ بچہ وہ نہیں بنتا جو اسے 'سنایا' جاتا ہے، بلکہ وہ بنتا ہے جو اسے 'دکھایا' جاتا ہے۔ ​ پاکستانی معاشرے میں یہ رو...

انسانی فطرت بھی پاگل پن کی حد تک عجیب ہے ۔ جانوروں کی طرح چلنا۔

Image
  --روما محمود-- یوٹیوب میں ایک ویڈیو دیکھی جہاں ایک لڑکی جانوروں کی طرح چل اور بھاگ رہی ہے ۔ وہ یہ سب چھے سال کی عمر سے کر رہی ہے۔ پاکستان میں عموماً بچوں سے پوچھا جائے کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے، تو جواب ڈاکٹر، انجینئر یا اب 'انفلونسر' ملتا ہے۔ لیکن اس لڑکی آئیلا نے چار سال کی عمر میں ہی ان سب سے ہٹ کر ایک ایسی راہ چنی جو مادی دنیا کے بجائے 'فطرت' سے جڑی تھی۔ اس نے پہلے کتوں کی طرح چار پاؤں پر چلنا شروع کیا اور پھر اسے گھوڑوں کی شاہانہ چال نے مسحور کر دیا۔ ایک ایسی 'فینٹسی' ہے جو انسان کو اپنی انا سے نکال کر ایک معصوم مخلوق کے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ آئیلا کی کہانی کو اگر ہم گہرائی سے دیکھیں، تو یہ محض ایک بچگانہ ضد نہیں بلکہ انسانی فطرت (Human Nature) کے ان پوشیدہ پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے جو آج کی مشینی زندگی میں کہیں کھو گئے ہیں۔ ​انسانی فطرت پیدائشی طور پر آزاد اور بناوٹ سے پاک ہوتی ہے۔ آئیلا کا چار سال کی عمر میں ایک جانور بننے کا خواب دیکھنا اس کی اسی خالص جبلت کا اظہار تھا۔ وہ ایک ایسی دنیا کا حصہ بننا چاہتی تھی جہاں جھوٹ، حسد اور ...

​کوہاٹ لہو رنگ سڑکیں اور سسکتا امن

Image
  --روما محمود -- ​ ​خیبر پختونخوا کا تاریخی شہر کوہاٹ، جو اپنی مہمان نوازی اور پرامن روایات کے لیے جانا جاتا تھا، ان دنوں ایک بار پھر دہشت گردی اور لاقانونیت کے سائے میں ہے۔ حالیہ چند دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب محافظوں کا خون سڑکوں پر بہہ جائے اور مسیحا اپنے ہی شہر میں محفوظ نہ رہیں، تو یہ سوال اٹھانا لازمی ہو جاتا ہے کہ ہم کس ڈگر پر چل پڑے ہیں؟ ​ ​گزشتہ منگل کو شکردرہ روڈ پر ہونے والا بزدلانہ حملہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک بدترین کوشش تھی۔ دہشت گردوں نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا کر ڈی ایس پی لاچی اسد محمود سمیت چھ اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ یہ محض ایک حملہ نہیں تھا بلکہ امن کے دشمنوں کی جانب سے یہ پیغام تھا کہ وہ اب بھی گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ ڈی ایس پی اسد محمود جیسے فرض شناس افسر کی شہادت پولیس فورس کے لیے ایک بڑا خلا ہے، جو فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔ ​ ​پولیس پر حملے سے محض ایک روز قبل، کے ڈی اے (KDA) میں لیڈی ڈاکٹر مہوش حسنین کو ڈیوٹی سے واپسی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ایک خاتون ...

ٹی -کوزی سلیقہ مندی اور تہزیب کی نشانی۔

Image
   --روما محمود -- آج صبح جب چینک کے اوپر ٹی کوزی لگائی تو دماغ بھٹک کر دو۔سال پیچھے چلا گیا جب ابو نے کہا کہ  چینک پر ٹی کوزی لگا دو چائے ٹھنڈی نہیں ہو گی ۔ اسی وقت الماری سے کڑھائی والے کشن نکالے جو امی نے ایک عرصہ پہلے بنائے تھے فورا انہیں سی کر ٹی کوزی بنا ڈالی۔ تہذیب کے دائرے میں چائے صرف ایک مشروب نہیں، بلکہ ایک روایت ہے۔ لیکن اس روایت کے لوازمات میں ایک ایسی چیز بھی شامل ہے جو خاموشی سے میز پر اپنی جگہ بنائے رکھتی ہے اور اکثر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہے—وہ ہے 'ٹی کوزی' (Tea Cosy) ۔ ​ ​ٹی کوزی کا بنیادی مقصد چائے کی چینک کو گرم رکھنا ہے، تاکہ گفتگو کے طویل وقفوں میں چائے کی لذت برقرار رہے۔ لیکن اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک کپڑے کا خول نہیں، بلکہ سلیقہ مندی اور گھریلو پن کی علامت ہے۔ جب کسی دسترخوان پر کڑھائی والا یا اونی دھاگوں سے بنا ہوا ٹی کوزی نظر آتا ہے، تو وہ میزبان کے ذوق اور مہمان نوازی کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ ​دنیا کی تہذیبوں میں بعض اشیاء بظاہر بہت معمولی نظر آتی ہیں، لیکن ان کے پیچھے صدیوں کی تاریخ اور انسانی ضرورت کے ارتقاء کی د...

مودی کا دورہ اسرائیل کیا نیا رنگ دیکھائے گا۔

Image
  -- روما محمود-- بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل (25-26 فروری 2026) عالمی سفارت کاری اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ نو سالوں میں ان کا دوسرا دورہ ہے، جو بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی (Strategic) قربت کا عکاس ہے۔ ​ ​ ​بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ 25 فروری کو تل ابیب پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خود ایئرپورٹ پر ان کا والہانہ استقبال کیا، جسے مبصرین نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی دوستی اور گہرے ریاستی تعلقات کی علامت قرار دیا ہے۔ ​دورے کے اہم خدوخال ​اس دورے کا ایجنڈا دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اور علاقائی سلامتی کے گرد گھومتا ہے۔ کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب: وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے تاریخی خطاب کیا، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف "زیرو ٹالرینس" کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں دہشت گردی کے دکھ کو سمجھتے ہیں اور اس کے خل...