پاک افغان سرحد دوستی کی آڑ میں دشمنی کا کھیل جاری۔
--روما محمود--
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دو ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کے رشتے صرف جغرافیائی سرحدوں سے نہیں بلکہ خون، ثقافت اور مذہب کے گہرے بندھنوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، حالیہ کچھ عرصے سے پاک افغان سرحد محض ایک لکیر نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تلخی، بداعتمادی اور اب کھلی دشمنی کا میدان بن چکی ہے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ دونوں طرف سے گولیوں اور میزائلوں کی گونج میں معصوم شہریوں کی چیخیں دب کر رہ گئی ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، سرحد پار سے ہونے والی بلا اشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستان نے "آپریشن غضب للحق" کا آغاز کیا ہے، جس میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب، افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں شہری آبادی کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ "جوابی کارروائیوں" کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ بن چکا ہے جس کا خمیازہ دونوں ملکوں کے غریب عوام بھگت رہے ہیں۔
اس کشیدگی کی جڑ میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے۔
پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے، اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں۔ پاکستان نے بارہا کابل حکومت کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، لیکن خاطر خواہ کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد کا صبر اب جواب دے گیا ہے۔ وزیر دفاع کے بیان کو "کھلی جنگ" قرار دینا حالات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پاک افغان سرحد پر جاری حالیہ کشیدگی میں فضائی اور زمینی کارروائیوں کی تفصیلات انتہائی تشویشناک ہیں، جن میں دونوں اطراف سے شدید جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
پاکستان پر حملے صرف ٹی- ٹی- پی نہیں ٹی-ٹی- اے بھی کر رہی ہے ۔
فضائی اور زمینی حملوں کی تفصیلات کچھ یوں ہے ۔
پاکستان کی فضائی کارروائی: اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے فضائیہ (PAF) کا استعمال کیا ہے۔ ان حملوں میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع افغان علاقوں میں مبینہ طور پر دہشت گرد گروہوں، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔
زمینی کارروائی اور توپ خانہ: فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ، سرحدی علاقوں میں دونوں اطراف سے بھاری توپ خانے کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے سرحدی چوکیوں سے جوابی فائرنگ اور مارٹر گولے داغے گئے، جن کا ہدف وہ مقامات تھے جہاں سے پاکستانی فورسز یا سویلین آبادی پر حملے کیے جا رہے تھے۔ زمینی کارروائیوں میں بارڈر سیکیورٹی فورسز نے دشمن کی پوزیشنز کو نشانہ بنایا۔
افغان فورسز کی جوابی کارروائی: افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فورسز نے بھی پاکستانی حدود میں جوابی کارروائیاں کیں۔ ان حملوں میں افغان طالبان کی جانب سے بھاری ہتھیاروں اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا، جس سے سرحدی علاقوں میں رہائشی مکانات اور ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ان کارروائیوں کے نتیجے میں دونوں اطراف کے سرحدی دیہاتوں میں شہری آبادی کو شدید متاثر کیا ہے۔
افغان سائیڈ: افغان حکام اور مقامی لوگوں کے مطابق، فضائی اور زمینی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستانی سائیڈ: دوسری جانب، افغانستان سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی سائیڈ پر بھی سویلینز اور سیکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
یہ صورتحال سرحد کے دونوں اطراف خوف و ہراس کا باعث بنی ہوئی ہے اور مقامی لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہیں۔
دوسری طرف، افغانستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے ساتھ دشمنی مول لے کر وہ اپنے ہی عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، معاشی بوجھ اٹھایا اور ان کے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔ اس تاریخی رشتے کو چند دہشت گرد گروہوں کی خاطر داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں ہے۔
جغرافیہ کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ جنگ اور عسکری کارروائیاں مسائل کا حل نہیں، بلکہ مسائل میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ عالمی برادری، خاص طور پر مسلم امہ بھی اس صورتحال میں ثالثی کا کردار ادا کر کر کے تھک چکی ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو میز پر لایا جا سکے۔
سرحدوں پر ٹینکوں اور توپوں کے بجائے، تجارت اور دوستی کے راستے کھولنے چاہئیں تھے کیونکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر دونوں ممالک ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر آج بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔

Comments