Posts

Showing posts from May, 2026

زبان تہذیب و شناخت کا ایک زندہ استعارہ

Image
  ​--- روما محمود--- ​زبان محض الفاظ کا ایک مجموعہ یا اظہارِ مافی الضمیر کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ کسی بھی قوم کی تہذیب، اس کے اجتماعی شعور اور اس کی تاریخ کا نچوڑ ہوتی ہے۔ انسان جب سے اس کائنات میں آیا ہے، اس نے اشاروں کی دنیا سے نکل کر آوازوں اور علامتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا تعمیر کی ہے جسے ہم 'زبان' کہتے ہیں۔ زبان ایک زندہ جبلت ہے، یہ کسی قوم کی روح کی عکاس ہے اور جب تک یہ زبان زندہ رہتی ہے، اس قوم کا تشخص برقرار رہتا ہے۔ ​ ​کسی بھی معاشرے کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ ہم جس زبان میں سوچتے ہیں، اسی میں خواب دیکھتے ہیں اور اسی میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ زبان صرف بول چال کا نام نہیں، بلکہ یہ ان تمام تجربات کا احاطہ کرتی ہے جو ایک معاشرہ صدیوں تک طے کرتا ہے۔ جب ہم کسی دوسری زبان کو سیکھتے ہیں، تو دراصل ہم ایک نئی دنیا اور ایک نئے اندازِ فکر تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ​اردو جیسی وسیع زبان، جو اپنے دامن میں فارسی، عربی، ہندی، ترکی اور مقامی زبانوں کے الفاظ سمیٹے ہوئے ہے، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کس طرح وسعت پاتی ہیں۔ یہ زبان ہمار...

Repulsive انسان اور ہماری سوچ

Image
  ---روما محمود--- لوگ کسی کو "repulsive" یا ناگوار کیوں  کہتے ہیں، اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور ذاتی نوعیت کی کئی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے کراہت یا بیزاری کا سبب بنتا ہے، تو اس کا تعلق اکثر غیر شعوری ردعمل (Unconscious reaction) سے ہوتا ہے۔ ​ یہاں اس رویے کی چند اہم وجوہات ہیں۔ ​ غیر شعوری دفاعی نظام (Unconscious Defense Mechanism)۔ ​نفسیاتی اعتبار سے، ہم اکثر ایسی چیزوں یا افراد کو "repulsive" قرار دیتے ہیں جو ہمارے اپنے "سائے" (Shadow) کی عکاسی کرتے ہیں۔ کارل یونگ کے نظریے کے مطابق، جو نقائص ہم اپنے اندر قبول نہیں کرنا چاہتے، جب ہم وہی نقائص کسی دوسرے میں دیکھتے ہیں تو ہمیں شدید کراہت محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح کا دفاعی نظام ہے جو ہمیں اپنی خامیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ​ سماجی و تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی ​ہر معاشرے کے کچھ طے شدہ سماجی آداب ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان اخلاقی یا سماجی حدود کو پامال کرتا ہے، تو لوگ اسے 'ناگوار' یا 'repulsive' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ ردعمل معاشرتی ہم آہنگی کو بر...

زبان: طبی اور حیاتیاتی تناظر میں ایک شاہکار عضو ​

Image
  --- روما محمود--- ​زبان (Tongue) انسانی جسم کا ایک ایسا پٹھوں سے بنا عضو (Muscular organ) ہے، جو نہ صرف ذائقہ چکھنے کا ذریعہ ہے، بلکہ یہ نظامِ انہضام، بول چال اور تنفس میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ طبی سائنس کی نظر سے دیکھا جائے تو زبان محض ایک گوشت کا لوتھڑا نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ حیاتیاتی مشین ہے جس کی ساخت اور افعال حیران کن ہیں۔ ​اناٹومی اور ساخت (Anatomy and Structure) ​طبی اعتبار سے زبان کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: • ​ اوریل پارٹ (Oral part): یہ زبان کا سامنے والا دو تہائی حصہ ہے جو منہ کے اندر آزادانہ حرکت کرتا ہے۔ • ​ فرینجیل پارٹ (Pharyngeal part): یہ زبان کا پچھلا ایک تہائی حصہ ہے جو حلق کی جڑ سے جڑا ہوتا ہے۔ ​زبان بنیادی طور پر 'اسکیلیٹل مسلز' (Skeletal muscles) سے بنی ہوتی ہے، جو اسے انسانی جسم کے سب سے زیادہ لچکدار اور مضبوط اعضاء میں شامل کرتے ہیں۔ یہ پٹھے دو قسم کے ہوتے ہیں: • ​ انٹرنسک مسلز (Intrinsic muscles): جو زبان کی شکل بدلنے میں مدد دیتے ہیں۔ • ​ ایکسٹرنسک مسلز (Extrinsic muscles): جو زبان کو منہ میں آگے، پیچھے اور اوپر نی...

سازش، کردار کشی اور اخلاقی زوال: ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ ​

Image
  --- روما محمود--- ​کسی انسان کو منظم طریقے سے گمراہ کرنا، اسے غلط راستے پر دھکیلنا، پھر اس کے گرد لوگوں کا ایک ایسا گروہ اکٹھا کرنا جو اسے اس غلط راستے پر مزید اکسائے، اور آخرکار اس کی کردار کشی (Character Assassination) کر کے اسے معاشرتی طور پر زندہ درگور کر دینا، انسانی تاریخ کے تاریک ترین اور گھناؤنے ترین ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمل محض ایک جرم نہیں، بلکہ ایک ایسی اخلاقی پستی ہے جو کسی فرد کی ذات کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کے اعتماد کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ ​سازشی جال ایک منظم منصوبہ بندی ​جب ہم کسی کو 'غلط راستے پر لگانے' کی بات کرتے ہیں، تو یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہوتی ہے۔ اس عمل کے چند بنیادی مراحل ہوتے ہیں جو اسے ایک شیطانی کھیل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں ہدف بنائے گئے شخص کی کمزوریوں کو پہچانا جاتا ہے۔ اسے ایسے حالات میں دھکیلا جاتا ہے جہاں اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار (Decision-making power) محدود ہو جائے۔ سازشی گروہ اپنے کارندوں کو اس کے گرد جمع کرتا ہے، جو اس کی 'دوست' ہونے کا ڈرامہ کرتے ہی...

پیسہ ہی دین و ایمان ہے، صرف پیسہ ہی رشتہ داری ہے

Image
  ---روما محمود--- آج کے دور میں سب سے بڑا "دین" اور سب سے مضبوط "رشتہ" پیسہ بن چکا ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی ہے۔ اخلاق، ایمان، خاندانی اقدار، دوستی، محبت  یہ سب الفاظ اب صرف کتابوں اور خطابوں میں سجاوٹ کے لیے باقی رہ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں پیسہ بولتا ہے، وہاں سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ معاشرے میں ایک عجیب تبدیلی آ چکی ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی جیب دیکھتے ہیں۔ رشتہ داری کا فیصلہ اب خون کے رشتے سے نہیں، بینک بیلنس سے ہوتا ہے۔ لڑکی والے لڑکے کی نوکری، گاڑی، گھر اور ماہانہ آمدنی پوچھتے ہیں۔ لڑکے والے لڑکی کے والد کی حیثیت، جائیداد اور "بیک گراؤنڈ" چیک کرتے ہیں۔ محبت؟ وہ تو اب صرف ڈراموں میں نظر آتی ہے۔ ایک دوست نے مجھ سے کہا، "بھائی، رشتہ دیکھ رہا ہوں۔ لڑکی اچھی ہے مگر فیملی فنانشل کنڈیشن ٹھیک نہیں۔" میں نے پوچھا کہ لڑکی خود کیا کرتی ہے؟ اس نے جواب دیا، "وہ تو صرف گھر سنبھالتی ہے۔" یعنی پیسہ نہ ہو تو کردار، خوبصورتی، تعلیم  سب بے معنی۔ دوسری طرف، امیر گھرانوں میں رشتے بنتے ہی جاتے ہیں چاہے کردار کتنا بھی خر...

دبکے مارنا ایک سماجی رویہ یا ذہنی دباؤ؟

Image
  ---روما محمود--- ​ہمارے معاشرتی رویوں میں کچھ ایسے انداز اور الفاظ شامل ہو چکے ہیں جنہیں ہم عمومی گفتگو کا حصہ سمجھتے ہیں، مگر ان کے گہرے نفسیاتی اور سماجی اثرات ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک رویہ ہے "دبکے مارنا"۔ یہ اصطلاح عام طور پر کسی کو ڈرانے، دھمکانے، مرعوب کرنے یا کسی کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ​دبکے مارنا کیا ہے؟ ​سادہ لفظوں میں، کسی کو اس کی کمزوری، حیثیت یا حالات کا احساس دلا کر اسے خاموش کرا دینا یا اپنی مرضی کے تابع کر لینا "دبکے مارنا" کہلاتا ہے۔ یہ صرف جسمانی تشدد تک محدود نہیں، بلکہ اس کی زیادہ خطرناک شکلیں نفسیاتی اور جذباتی ہوتی ہیں۔ اونچی آواز میں بات کرنا، تحقیر آمیز الفاظ کا استعمال کرنا یا کسی کی تذلیل کرنا۔ جب کوئی اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے خوفزدہ کر کے خاموش کر دینا۔ اپنے سے کمزور پر رعب ڈالنا تاکہ وہ اپنی بات نہ کہہ سکے۔ ​ ​دبکے مارنے کا رویہ معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کرتا ہے۔ اس کے کچھ منفی اثرات درج ذیل ہیں جو فرد مسلسل اس رویے کا شکار ہوتا ہے، اس کی قوتِ فیصلہ اور خود اعتمادی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ وہ ا...

خودمختاری کا وزن  یومِ تکبیر 28 ویں سالگرہ

Image
 پاکستان کی آواز | سچائی کے ساتھ۔               روما محمود           28 مئی 2026۔           جیسے ہی 28 مئی 2026 کو سورج غروب ہو رہا ہے، پاکستان چاغی کے جوہری تجربات کی  28 ویں سالگرہ  کو فخر اور سوچ بچار کے ساتھ منا رہا ہے۔  یومِ تکبیر  محض ایک یادگار دن نہیں — بلکہ یہ پاکستان کی مشکل سے حاصل کردہ اسٹریٹجک خودمختاری اور ایک تیزی سے غیر یقینی دنیا میں قومی لچک کی طاقتور علامت ہے۔ اسٹریٹجک خودمختاری کی میراث اٹھائیس سال پہلے، پاکستان نے جوہری طاقت بننے کا تاریخی اور ضروری فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ کوئی جارحانہ عزائم کا نتیجہ نہیں بلکہ بقا کی ضرورت تھا — علاقائی وجودی خطرات اور خطرناک روایتی عدم توازن کا جواب۔ آج،  کم از کم قابلِ اعتبار رکاوٹ  (minimum credible deterrence) کی نظریہ اب بھی پاکستان کی قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔ اس نے بار بار اشتعال اور علاقائی تناؤ کے باوجود بڑے تنازعات کو روکا ہے، اور یہ پاکستان کی خودمختاری کی حفاظت کرنے والا invisible sh...

ایک ایسا سفر جس کا انجام طے ہے "اب جو ہو سو ہو" کا فلسفہ

Image
  ---روما محمود--- ​ "زمانے میں نے تیری ہر بات یہ کہہ کر ٹال دی اب جو ہو سو ہو، کشتی دریا میں ڈال دی" ​یہ دو مصرعے محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہیں جس تک پہنچنے میں انسان کی پوری زندگی صرف ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان مصلحتوں کی زنجیریں توڑ کر، نتائج کے خوف کو پسِ پشت ڈال کر، اپنے اندر کی آواز کو لبیک کہتا ہے۔ ​مصلحتوں کا حصار اور انسان کا المیہ ​ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ "لوگ کیا کہیں گے" کے خوف میں گزر جاتا ہے۔ معاشرہ، خاندان، دوست احباب—سب کے سب ہم پر توقعات کا ایک ایسا بوجھ لاد دیتے ہیں کہ ہم اپنی اصل ذات کو بھول جاتے ہیں۔ ہم ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ہماری اپنی نہیں، بلکہ معاشرے کی مرتب کردہ ہوتی ہے۔ ​ہم ہر قدم پر زمانے سے ڈرتے ہیں۔ کوئی فیصلہ کرتے وقت ہم یہ نہیں سوچتے کہ آیا یہ فیصلہ ہمیں خوشی دے گا یا نہیں، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ اس فیصلے کے ردِ عمل میں معاشرہ کیا رائے قائم کرے گا۔ اس "ٹال مٹول" میں زندگی کے بہترین سال ضائع ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے خوابوں کو دباتے ہیں، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں، اور ی...

امید کا فلسفہ ایک لازوال سفر

Image
  ---روما محمود--- ​زندگی کا پہیہ امید کے محور پر گھومتا ہے۔ اگر کائنات میں امید کا عنصر نکال دیا جائے، تو انسانی وجود محض ایک بے روح مشین بن کر رہ جائے۔ امید صرف ایک خوش گمانی نہیں، بلکہ یہ بقا کی وہ واحد لہر ہے جو طوفان کے تھپیڑوں میں بھی انسان کو ڈوبنے نہیں دیتی۔ ​ ​عموماً ہم امید کو باہر کی دنیا سے وابستہ کر دیتے ہیں. کسی شخص سے، کسی کامیابی سے، یا کسی حالات کے بدل جانے سے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصل امید 'اندرونی' ہوتی ہے۔ یہ وہ خاموش آواز ہے جو ہر مایوسی کے عالم میں کہتی ہے کہ "ابھی سب ختم نہیں ہوا۔" ​جب ہم اپنے اندر کے اضطراب اور ذہنی دباؤ سے لڑ رہے ہوتے ہیں، تو امید ہی وہ واحد ہتھیار ہے جو ہمیں ہمت نہیں ہارنے دیتی۔ یہ صبر کا دوسرا نام ہے. یہ وہ یقین ہے جو اندھیری رات میں صبح کی کرنوں کا انتظار کرنا سکھاتا ہے۔ ​ ​آج کے دور میں، جہاں ہر طرف تیز رفتاری اور کامیابی کا معیار مادی دولت سے طے کیا جاتا ہے، امید کا دامن تھامے رکھنا ایک بڑی جدوجہد ہے۔ معاشرتی توقعات اور خود ساختہ معیارات انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ اکثر لوگ اپنی امیدوں کا تعلق دوسروں کی ...

چین کی عوامی جمہوریہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ(26 مئی 2026

Image
  ---روما محمود--- چین کی عوامی جمہوریہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ (26 مئی 2026) پاکستانی فریق نشانہ بنائے گئے اقدامات اٹھائے گا تاکہ سیکیورٹی کے اقدامات کو مضبوط بنایا جا سکے اور تعاون کو یقینی بنایا جا سکے، تاکہ پاکستان میں چینی عملہ، پروجیکٹس اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چین پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری اور مضبوط جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ دونوں فریقوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کو بڑھایا جائے، اور دونوں نے دہشت گردی پر ڈبل سٹینڈرڈز کے اطلاق اور دہشت گردی کو سیاسی بنانے یا اسے آلہ کار بنانے کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے اقوام متحدہ کو مرکز میں رکھتے ہوئے بین الاقوامی نظام کی مضبوطی سے حفاظت کرنے پر اتفاق کیا، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں پر مبنی بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک مساوی اور منظم کثیرالقطبی دنیا اور ایک عالمی سطح پر فائدہ مند اور جامع عالمی معاشی نظم کو مشترکہ طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں فریقوں نے ...

امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ ٹویٹ ۔ممالک پر بات ہوئی ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (جو پہلے ہی رکن ہے)، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن اور بحرین (جو پہلے ہی رکن ہے) شامل ہیں۔ ؛

Image
---روما محمود---  اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہے ہیں! یہ یا تو سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا، یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا — اور پھر ہم دوبارہ محاذِ جنگ کی طرف لوٹ جائیں گے، لیکن پہلے سے کہیں زیادہ طاقت اور اتحاد کے ساتھ — اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا! ہفتے کے روز سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زاید آل نہیان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، قطر کے وزیرِاعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم بن جابر آل ثانی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد شاہ، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ گفتگو کے دوران، میں نے کہا کہ جب امریکہ اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے تو کم از کم ان تمام ممالک کے لیے لازم ہونا چاہیے کہ وہ بیک وقت ابراہیم معاہدوں پر دستخط کریں۔ جن ممالک پر بات ہوئی ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (جو پہلے ہی رکن ہے)، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن اور بحرین (جو پہلے ہی رکن ہے) شامل ہیں۔ ممکن ہ...

حج اللہ کا سب سے بڑا اجتماعِ توحید

Image
  ---روما محمود--- حج اسلام کا پانچواں ستون اور اللہ کی طرف سے انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان تربیتی کورس ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہر سال لاکھوں مسلمان بیت اللہ کی طرف چلتے ہیں، ایک ہی لباس میں، ایک ہی نعرے کے ساتھ: "لبيك اللهم لبيك"۔ امیر و غریب، سفید و سیاہ، عرب و عجم، سب برابر ہو جاتے ہیں۔ حج انسان کو اپنی حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ وہ خاک کا ذرہ ہے اور اللہ کا بندہ ہے۔ حج فرض ہے اس شخص پر جو استطاعت رکھتا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ "جو شخص حج کرے اور اس میں کوئی فحش بات نہ کرے، نہ کوئی گناہ کرے تو وہ اس دن سے پاک ہو جاتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔" (بخاری و مسلم) حج صرف طواف اور سعی نہیں، بلکہ یہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ جب انسان احرام باندھتا ہے تو دنیا کی سب تعلقات، رتبے اور مال و دولت چھوڑ دیتا ہے۔ دو سفید چادروں میں لپیٹا ہوا انسان قبر کی یاد دلاتا ہے۔ احرام، نیت اور تلبیہ کے ساتھ داخلہ۔ طوافِ کعبہ، بیت اللہ کا سات چکر۔ سعی بین الصفا والمروہ: صفا ا...

عید قربان قربانی، اطاعت اور اخلاص کا پیغام.

Image
  ---روما محمود--- عید قربان، جسے عید الاضحیٰ بھی کہا جاتا ہے، اسلام کا وہ عظیم تہوار ہے جو ہر سال ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ صرف گوشت کھانے اور نئے کپڑے پہننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت، قربانی اور اخلاص کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتی ہے جب انہوں نے اللہ کے حکم پر اپنے پیارے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کا فیصلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم دیا کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دیں۔ یہ آزمائش تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے حکم کی تعمیل کی۔ جب چھری گلا کاٹنے لگی تو اللہ نے ایک مینڈھا بھیج دیا۔ اسی واقعے کی یاد میں امت مسلمہ ہر سال جانور قربان کرتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے. "ان کی گوشت اور خون اللہ تک ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ تمہارا تقویٰ ہی اس تک پہنچتا ہے۔" (سورۂ الحج: 37) عید قربان کے اہم اعمال اور سنت قربانی: استطاعت رکھنے والے مسلمان پر سنت مؤکدہ ہے۔ نماز عید صبح سویرے عیدگاہ میں اجتماعاً نماز ادا کرنا۔ تکبیرات عید سے پہلے دنوں میں "...

قبولیت کا فن مزاحمت کے خاتمے سے سکون کی تلاش تک ​

Image
  --- روما محمود--- ​ہماری زندگیوں کا ایک بہت بڑا حصہ ایک ایسی لڑائی میں ضائع ہو جاتا ہے جسے ہم کبھی جیت ہی نہیں سکتے۔ یہ لڑائی ان حقائق کے خلاف ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، ان حالات کے خلاف ہے جو گزر چکے، اور ان کمزوریوں کے خلاف ہے جو ہماری شخصیت کا حصہ ہیں۔  ہم اکثر اپنی توانائی ان دیواروں سے سر ٹکرانے میں صرف کر دیتے ہیں جو قدرت نے یا وقت کے بہاؤ نے کھڑی کی ہیں۔ اور اس سب کے بیچ، ہم اس ایک حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ سکون جنگ میں نہیں، بلکہ جنگ بندی میں پنہاں ہے۔ ​"میں مکمل نہیں ہوں"یہ جملہ کہنا بظاہر ایک اعترافِ شکست لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ آزادی کا پہلا زینہ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف 'کمال' (Perfection) کے معیار طے کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ہمیں ہر صورت میں بہترین نظر آنا ہے، بہترین فیصلہ کرنا ہے، اور اپنی ہر کمزوری کو چھپانا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اندرونی جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے نقاب کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے حقیقی چہرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ​جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہم انسان ہیں اور غلطی ک...

کیا صرف ڈاکٹر اور انجینئر ہی معتبر پیشے ہیں؟

Image
  --- روما محمود--- ​ہمارے معاشرے میں کامیابی اور عزت کا پیمانہ محض دو ڈگریوں کے گرد گھومتا ہے: ایم بی بی ایس (MBBS) یا انجینئرنگ۔ ایک ایسا سماجی ڈھانچہ جہاں والدین کی اولین خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ یا تو سفید کوٹ پہن کر مسیحا بنے یا پھر ہیلمٹ پہن کر کسی بڑی تعمیراتی کمپنی کا حصہ بنے۔ اس کے علاوہ ہر شعبہ—خواہ وہ فنون لطیفہ ہو، زراعت، تدریس، سماجی خدمات یا ہنر مندی—کو ثانوی اور کم تر سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ طبقاتی سوچ ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟ ​ہمارے ہاں پیشہ ورانہ انتخاب بچے کی دلچسپی یا صلاحیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ سماجی رتبے (Social Status) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے بعد معاشرہ اس فرد کو ایک "کامیاب" انسان کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے، چاہے وہ اپنے کام سے کتنا ہی بیزار کیوں نہ ہو۔  اس کے برعکس، اگر کوئی نوجوان مصور، لکھاری، ماہرِ معاشیات، یا ایک اچھا کسان بننا چاہے، تو اسے اکثر "ٹائم پاس" یا "بے روزگاری کا راستہ" قرار دے کر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ​ہماری سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے "معتبریت...

تربیتِِ قوم خاموشی کی دیوار یا مکالمے کا چراغ؟

Image
  ​--- روما محمود--- ​ایک سینئر سیاستدان اور پارلیمیٹ کے پرانے کھلاڑی کا یہ کہنا کہ ’’بچوں کو بڑوں کی گفتگو سے دور رکھنا چاہیے‘‘، محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس فرسودہ سوچ کی عکاسی ہے جو صدیوں سے ہمارے معاشرے  کا شکار کیے ہوئے ہے۔ حال ہی میں  سیاستدان کی جانب سے دیا گیا یہ بیان کہ بچوں کو بڑوں کی محفلوں سے دور رہنا چاہیے، نہ صرف دورِ حاضر کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو نسلِ نو کو صرف ایک 'تابعدار مشین' بنانا چاہتی ہے، ایک 'باخبر شہری' نہیں۔ ​اگر ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں فیصلہ سازی کی صلاحیتیں موجود ہوں، جہاں تنقیدی سوچ پنپے اور جہاں کے نوجوان اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں، تو ہمیں اس گھسے پٹے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ہمارے بزرگوں کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے ہر اہم معاملہ، چاہے وہ خاندانی ہو یا سماجی، ہمیشہ ہماری موجودگی میں زیرِ بحث لایا۔ یہ کوئی بے احتیاطی نہیں تھی، یہ ایک تربیت تھی تاکہ ہم زمانے کی اونچ نیچ کو سمجھ سکیں۔ ​مکالمہ ہی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔ ​بچوں کے سامنے گفتگو...