زبان تہذیب و شناخت کا ایک زندہ استعارہ
--- روما محمود--- زبان محض الفاظ کا ایک مجموعہ یا اظہارِ مافی الضمیر کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ کسی بھی قوم کی تہذیب، اس کے اجتماعی شعور اور اس کی تاریخ کا نچوڑ ہوتی ہے۔ انسان جب سے اس کائنات میں آیا ہے، اس نے اشاروں کی دنیا سے نکل کر آوازوں اور علامتوں کے ذریعے ایک ایسی دنیا تعمیر کی ہے جسے ہم 'زبان' کہتے ہیں۔ زبان ایک زندہ جبلت ہے، یہ کسی قوم کی روح کی عکاس ہے اور جب تک یہ زبان زندہ رہتی ہے، اس قوم کا تشخص برقرار رہتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے۔ ہم جس زبان میں سوچتے ہیں، اسی میں خواب دیکھتے ہیں اور اسی میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ زبان صرف بول چال کا نام نہیں، بلکہ یہ ان تمام تجربات کا احاطہ کرتی ہے جو ایک معاشرہ صدیوں تک طے کرتا ہے۔ جب ہم کسی دوسری زبان کو سیکھتے ہیں، تو دراصل ہم ایک نئی دنیا اور ایک نئے اندازِ فکر تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اردو جیسی وسیع زبان، جو اپنے دامن میں فارسی، عربی، ہندی، ترکی اور مقامی زبانوں کے الفاظ سمیٹے ہوئے ہے، اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کس طرح وسعت پاتی ہیں۔ یہ زبان ہمار...