کیا صرف ڈاکٹر اور انجینئر ہی معتبر پیشے ہیں؟
---روما محمود---
ہمارے معاشرے میں کامیابی اور عزت کا پیمانہ محض دو ڈگریوں کے گرد گھومتا ہے: ایم بی بی ایس (MBBS) یا انجینئرنگ۔ ایک ایسا سماجی ڈھانچہ جہاں والدین کی اولین خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کا بچہ یا تو سفید کوٹ پہن کر مسیحا بنے یا پھر ہیلمٹ پہن کر کسی بڑی تعمیراتی کمپنی کا حصہ بنے۔ اس کے علاوہ ہر شعبہ—خواہ وہ فنون لطیفہ ہو، زراعت، تدریس، سماجی خدمات یا ہنر مندی—کو ثانوی اور کم تر سمجھا جاتا ہے۔ کیا یہ طبقاتی سوچ ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
ہمارے ہاں پیشہ ورانہ انتخاب بچے کی دلچسپی یا صلاحیت کی بنیاد پر نہیں، بلکہ سماجی رتبے (Social Status) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے بعد معاشرہ اس فرد کو ایک "کامیاب" انسان کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے، چاہے وہ اپنے کام سے کتنا ہی بیزار کیوں نہ ہو۔
اس کے برعکس، اگر کوئی نوجوان مصور، لکھاری، ماہرِ معاشیات، یا ایک اچھا کسان بننا چاہے، تو اسے اکثر "ٹائم پاس" یا "بے روزگاری کا راستہ" قرار دے کر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
ہماری سوچ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے "معتبریت" (Credibility) کو صرف دولت اور عہدے سے جوڑ دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے کو چلانے کے لیے ہر شعبے کے ماہرین کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی کہ طبی یا تکنیکی ماہرین کی۔
اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک پر نظر ڈالیں، تو وہاں ہر پیشے کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ایک پلمبر، ایک الیکٹریشن، ایک گرافک ڈیزائنر یا ایک فارمر، اپنی جگہ پر وہی اہمیت رکھتے ہیں جو ایک سرجن یا سول انجینئر کی۔
ایک معاشرہ اس وقت تک ایک متوازن معیشت نہیں بن سکتا جب تک اس میں تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا ماحول نہ ہو۔
جب ہم صرف دو پیشوں کو معتبر مانتے ہیں، تو ہم باقی تمام شعبوں میں ذہین ترین ذہنوں کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک تخلیقی ذہن جو شاید دنیا کا بہترین آرکیٹیکٹ یا قانون دان بن سکتا تھا، وہ ایک اوسط درجے کا ڈاکٹر بن کر اپنی زندگی گزار دیتا ہے۔ یہ صرف انفرادی نقصان نہیں، بلکہ قومی سطح پر ایک "برین ڈرین" (Brain Drain) اور صلاحیتوں کے ضیاع کا عمل ہے۔
آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور ٹیکنالوجی نے کام کرنے کے انداز بدل دیے ہیں، وہاں ڈگریوں سے زیادہ مہارت (Skill) کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ایک ڈاکٹر یا انجینئر کی اپنی اہمیت ہے، لیکن ایک سافٹ ویئر ڈویلپر، ایک مارکیٹنگ ایکسپرٹ، یا ایک زرعی سائنسدان ملک کی جی ڈی پی (GDP) میں کہیں زیادہ براہ راست کردار ادا کر سکتا ہے۔
معتبریت کا تعلق پیشے سے نہیں، بلکہ اس پیشے کے ساتھ دیانتداری، محنت اور مہارت سے ہے۔ ایک ایماندار اور ماہر کارپینٹر، ایک جھوٹے یا نااہل ڈاکٹر سے کہیں زیادہ عزت کا مستحق ہے۔
ہماری نئی نسل کی سوچ کو بدلنے کی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر ہے۔ جب تک گھروں اور سکولوں میں بچے کی دلچسپی کو ترجیح نہیں دی جائے گی، یہ رجحان برقرار رہے گا۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ
- کامیابی اس میں نہیں کہ آپ نے کون سی ڈگری لی، بلکہ اس میں ہے کہ آپ اپنے کام میں کتنے ماہر ہیں۔
- عزت پیشے سے نہیں، بلکہ آپ کے اخلاق اور خدمت سے جڑی ہے۔
- خوشی اس کام میں پوشیدہ ہے جسے آپ شوق سے کرتے ہیں۔
معاشرے کے طور پر ہمیں اس "محدود سوچ" کے خول کو توڑنا ہوگا۔ ڈاکٹر اور انجینئر یقیناً اس معاشرے کے ستون ہیں، لیکن ایک عمارت صرف ستونوں سے نہیں کھڑی ہوتی؛ اسے اینٹوں، ریت، سیمنٹ، بجلی کی وائرنگ اور فنکارانہ آرائش کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح، ایک کامیاب قوم ڈاکٹروں اور انجینئروں کے ساتھ ساتھ بہترین اساتذہ، کسانوں، فنکاروں، تاجروں اور ہنر مندوں کے مجموعے سے بنتی ہے۔
اس معیار کو بدلیں کہ "کون کیا بننا چاہتا ہے؟"
اور اس سوال کو اپنائیں کہ "تم کس کام میں اپنا بہترین دینے کی صلاحیت رکھتے ہو؟"
جب ہر انسان اپنے شعبے میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوائے گا، تو معاشرے میں ہر پیشہ بذاتِ خود معتبر ہو جائے گا۔

Comments