Posts

Showing posts from April, 2026

انا کی تسکین شعور اور لاشعور کی جنگ۔

Image
  ---روما محمود--- انسان کی شخصیت میں 'انا' (Ego) ایک ایسے پہرے دار کی مانند ہے جو اس کی خود داری اور بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی انا ضرورت سے بڑھ جائے اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے لگے، تو یہ ایک ایسا شکاری بن جاتی ہے جو انسان کے سکون، رشتوں اور اخلاقیات کا شکار کرنے لگتی ہے۔ اپنی انا کو تسکین پہنچانا ایک ایسا نفسیاتی جال ہے جس میں پھنس کر انسان کو وقتی طور پر تو فتح کا احساس ہوتا ہے، مگر طویل مدت میں وہ تنہائی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔ انا کی تسکین کیا ہے؟ انا کی تسکین کا مطلب ہے اپنی ذات کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی مسلسل تڑپ۔ یہ جذبہ تب بیدار ہوتا ہے جب انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ ہر بحث میں جیت اسی کی ہو، ہر محفل کا مرکز وہی ہو، اور کوئی اس کی غلطی کی نشاندہی نہ کرے۔ جب ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کا دفاع کرتے ہیں، یا کسی دوسرے کو نیچا دکھا کر فخر محسوس کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی انا کو 'خوراک' فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ اپنی انا کو مطمئن کرنے کے لیے انسان شعوری اور لاشعوری طور پر کئی حربے استعمال کرتا ہے۔    بحث برائے بحث  ،اکثر ...

خاموشی کا نوحہ اور معاشرتی جراحی، جب دکھ زبان تک نہ پہنچے

Image
    ---روما محمود--- انسان کی زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے کئی باب ایسے ہوتے ہیں جو وہ کبھی کسی کو پڑھ کر نہیں سناتا۔ یہ وہ ابواب ہیں جن کے حروف آنسوؤں سے لکھے گئے ہوتے ہیں اور جن کی جلد کرب کی تہوں سے بنی ہوتی ہے۔ انسانی معاشرت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں خاموشی کو اکثر 'خلا' سمجھ لیا جاتا ہے، اور لوگ اپنی فطرت کے مطابق اس خلا کو بھرنے کے لیے قیاس آرائیوں، مفروضوں اور بدگمانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ جب ایک انسان اپنے دکھ کو الفاظ کی زبان نہیں دے پاتا، تو معاشرہ اپنی زبان درازی سے اس کی ذات کے بخیے ادھیرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ عمل کسی جراحی سے کم نہیں، مگر فرق یہ ہے کہ جراح زخم بھرنے کے لیے چیر پھاڑ کرتا ہے، جبکہ معاشرتی جراح صرف تماشہ دیکھنے کے لیے انسان کی حرمت کو تار تار کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو رو رہا ہے، وہی دکھی ہے؛ جو چلا رہا ہے، وہی مظلوم ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ دکھ کی سب سے خطرناک اور جان لیوا قسم وہ ہے جو حلق میں پھنس جائے، جو آنکھوں سے بہنے کے بجائے سینے کے اندر رسنا شروع کر دے۔ جب انسان اپنا دکھ کسی کو کہہ نہیں پاتا، تو اس کی کئی...

اوپیک اور متحدہ عرب امارات: نئی راہیں، نئے چیلنجز

Image
  ---روما محمود--- گزشتہ چند دہائیوں سے عالمی تیل کی سیاست میں اوپیک (OPEC) کا کردار ایک ایسے خاندان کی طرح رہا ہے جہاں بڑے فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، حالیہ منظر نامے میں متحدہ عرب امارات (UAE) کی جانب سے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی خواہش اور اقتصادی تنوع کے قومی ایجنڈے نے اس اتحاد میں ایک خاموش مگر واضح ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں اپنی تیل نکالنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب جب کہ دنیا بتدریج "گرین انرجی" کی طرف بڑھ رہی ہے، امارات کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ اپنی تیل کی دولت کو ختم ہونے یا اس کی مانگ گرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ مارکیٹ میں لا کر اپنے دیگر شعبوں (سیاحت، ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ) کو مضبوط کر سکے۔ دوسری طرف، اوپیک (اور بالخصوص اوپیک پلس) کی جانب سے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے امارات کے ان وسیع تر معاشی اہداف سے متصادم نظر آتے ہیں۔ یو اے ای کا خود کو ایک آزاد معاشی قوت کے طور پر منوانا صرف تیل تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک ریاست کے اس عزم کا اظہار ہے جو اب صرف...

قلم، میری روح اور بڑھتا ہوا ظلم

Image
  --- روما محمود--- زمانہ دراز سے جب میں اپنے اردگرد کے حالات اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا مشاہدہ کرتی ہوں، تو ایک ہی خیال بار بار ذہن کی دستک بنتا ہے کہ "ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے"۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس 'حد' تک پہنچنے کا سفر کتنا صبر آزما ہے؟ ایک انسان ہونے  کی حیثیت سے جب میں سفید کاغذ پر سیاہ لفظ بکھیرتی ہوں، تو وہ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس گھٹن کے خلاف ایک احتجاج ہوتے ہیں جو ظلم کے بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ معاشرے میں ظلم صرف اس لیے نہیں پنپتا کہ ظالم طاقتور ہے، بلکہ اس لیے جڑیں پکڑتا ہے کیونکہ ہم مصلحتوں کے اسیر ہو کر خاموشی کو عافیت سمجھ لیتے ہیںیا ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا یا ہم اپنے پیاروں کو کھونے سے ڈر جاتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں اکیلے ، تنہا رہنا آسان نہیں ہوتا۔ میری تحریروں کا مقصد ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اس بے حسی کو توڑا جائے جو انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن چکی ہے مگر ہر بار ناکامی مقدر بنتی ہے ۔ لوگ صرف اور صرف اپنا مفاد اور فائدہ دیکھتے ہیں۔ ظلم کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی یہ کسی کی حق تلفی کی ش...

انسانی دماغ ایک حیرت انگیز کمپیوٹر

Image
  ---روما محمود--- انسانی دماغ کائنات کا سب سے پیچیدہ اور طاقتور عضو ہے۔ وزن میں صرف تقریباً 1.4 کلوگرام (تقریباً 3 پاؤنڈ) کا ہونے کے باوجود یہ ہماری سوچ، احساسات، یادداشت، حرکت، زبان، تخلیقی صلاحیت اور شعور کی بنیاد ہے۔ سائنسدان اسے "تین پاؤنڈ کی کائنات" کہتے ہیں کیونکہ اس کی پیچیدگی اتنی زیادہ ہے کہ ابھی تک پوری طرح سمجھ میں نہیں آئی۔ دماغ کی بنیادی ساخت (Anatomy of the Brain) انسانی دماغ کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ فور برین (Forebrain)    سیریبرم (Cerebrum) دماغ کا سب سے بڑا حصہ (تقریباً 85%)۔ یہ دو نیم کرہ (Left and Right Hemisphere) میں تقسیم ہے۔       بائیں گولاردھ (Left Hemisphere) منطق، زبان، ریاضی، تجزیاتی سوچ اور ترتیب پر قابو رکھتا ہے۔       دائیں گولاردھ (Right Hemisphere) تخلیقی صلاحیت، موسیقی، فنون لطیفہ، جذبات، جگہ کی سمجھ اور holistic سوچ۔     سیریبرل کارٹیکس (Cerebral Cortex) دماغ کی بیرونی تہہ، جو 2-4 ملی میٹر موٹی ہے۔ اس میں تقریباً 86 ارب نیورونز (اعصابی خلیے) ہوتے ...

رکھ رکھاؤ, تہذیب کا جوہر اور شخصیت کا آئینہ.

Image
  ---روما محمود--- اردو زبان کا ایک خوبصورت محاورہ ہے "رکھ رکھاؤ"۔ یہ محض دو الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، ایک گہری نفسیات اور ایک اعلیٰ سماجی رویے کا نام ہے۔ جب ہم کسی شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ "فلاں شخص بڑا رکھ رکھاؤ والا ہے" تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھے کپڑے پہنتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی گفتگو، اپنے برتاؤ، اپنے معاملات اور اپنی وضع قطع میں ایک خاص توازن اور سلیقے کا حامل ہے۔ رکھ رکھاؤ دراصل انسانی شخصیت کی وہ تراش خراش ہے جو اسے ہجوم میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو جانوروں اور غیر مہذب معاشروں سے الگ کر کے ایک باوقار مقام پر فائز کرتی ہے۔ رکھ رکھاؤ کی جڑیں انسانی زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسے چند بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. ایک پرانی کہاوت ہے کہ "انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے"۔ جب تک کوئی بولتا نہیں، اس کا عیب اور ہنر دونوں چھپے رہتے ہیں۔ رکھ رکھاؤ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ کہاں بولنا ہے، کتنا بولنا ہے اور کس لہجے میں بولنا ہے۔ بلند آوا...

یا حسرۃ علی العباد؛ ہائے افسوس ہے ان بندوں پر

Image
  ---روما محمود--- میں جب بھی سورت یس` پڑھتی ہوں تو اس ایک آیت پر تھم جاتی ہوں ۔ باوجود کوشش کے آگے نہیں پڑھ سکتی ۔ سورۃ یٰسین قرآن مجید کی وہ مبارک سورۃ ہے جسے "قلبِ قرآن" کہا جاتا ہے۔ اس سورۃ کی آیت نمبر ۳۰ ایک ایسی آیت ہے جو دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ "یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ۚ مَا یَاْتِیْہِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ" ترجمہ: "ہائے افسوس! ان بندوں پر۔ ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے رہے۔" یہ "یا حسرۃ علی العباد" کا لفظ قیامت کے دن کی ایک شدید حسرت اور ندامت کی تصویر کشی کرتا ہے۔ جب کفار اور انکار کرنے والے عذاب دیکھیں گے تو ان کے دل میں ایک ایسا افسوس پیدا ہوگا جو بیان سے باہر ہے۔ وہ ہاتھ ملئیں گے، سینہ پیٹیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم نے رسولوں کی بات مانی ہوتی، کاش ہم نے اللہ کے پیغام کو قبول کیا ہوتا۔ مگر اس وقت حسرت کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ یہ آیت صرف ان لوگوں کے لیے نہیں جو صریحاً کفر کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک عالمگیر پیغام ہے۔ کتنے ہی "عباد" (بندے) ہیں...

انسانی عقل اور شعور کی آخری حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے 'ارادہِ خداوندی' کی وسعت شروع ہوتی ہے۔

Image
  ---روما محمود--- کائنات کا پورا نظام، ستاروں کی گردش سے لے کر شاخ سے گرنے والے ایک سوکھے پتے تک، سب کچھ اسی ایک قادرِ مطلق کے فیصلے کے تابع ہے۔ ارادہِ خداوندی, تدبیر، تقدیر اور تسلیم ہماری زندگی کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگ کبھی ہماری مرضی کے ہوتے ہیں اور کبھی ان میں کچھ ایسے نقش ابھرتے ہیں جن کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ انسان اپنی بساط کے مطابق منصوبہ بندی کرتا ہے، جسے ہم 'تدبیر' کہتے ہیں، لیکن جب وہ تدبیر کسی انجانے موڑ پر ناکام ہوتی ہے، تو وہاں سے 'ارادہِ خداوندی' کا ظہور ہوتا ہے۔ اکثر ہم کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر دیتے ہیں، تمام مادی وسائل بروئے کار لاتے ہیں، مگر نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو ہم چاہتے تھے۔ ایسے میں مایوسی کا ایک سایہ دل پر چھانے لگتا ہے۔ لیکن اگر ہم کائنات کے وسیع تر تناظر میں دیکھیں، تو ہماری خواہش اور اللہ کے ارادے میں وہی فرق ہے جو ایک قطرے اور سمندر میں ہوتا ہے۔ ہمارا علم محدود ہے، ہم صرف 'حال' کو دیکھ سکتے ہیں، جبکہ وہ 'الآخر' ہے، جو انجام سے باخبر ہے۔ حکمتِ الٰہی کی پوشیدہ پرتیں قرآنِ پاک میں ارشاد ...

ٹویٹر ڈپلومیسی ڈیجیٹل دور کی نئی خارجہ پالیسی اور بدلتے ہوئے سفارتی آداب

Image
   ---روما محمود--- اکیسویں صدی کے آغاز میں جب سوشل میڈیا نے انسانی زندگی میں قدم رکھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ محض 140 یا 280 حروف کا ایک مجموعہ عالمی سیاست کا رخ موڑنے کی طاقت رکھے گا۔  آج جس عہد میں ہم جی رہے ہیں، وہاں روایتی سفارت کاری کے بند کمرے، پرتعیش ڈنر اور خفیہ مراسلے اپنی جگہ برقرار تو ہیں، لیکن ان کی اثر انگیزی "ٹویٹر" (جسے اب 'X' کہا جاتا ہے) کے ایک ٹویٹ کے سامنے اکثر ماند پڑ جاتی ہے۔ "ٹویٹر ڈپلومیسی" یا "ٹی پلومیسی" ( Twiplomacy ) اب محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک ناگزیر ستون بن چکی ہے۔   تاریخی طور پر سفارت کاری ایک نہایت ہی صیغہ راز میں رہنے والا عمل رہا ہے۔ بادشاہوں، صدور اور وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو برسوں تک فائلوں میں دبی رہتی تھی اور عوام تک صرف وہی معلومات پہنچتی تھیں جن کا فیصلہ ریاستیں کرتی تھیں۔  تاہم، ٹویٹر نے اس دیوار کو گرا دیا ہے۔ اب ایک سربراہِ مملکت براہِ راست دوسری قوم کے عوام سے مخاطب ہو سکتا ہے، اپنی پالیسی کا اعلان کر سکتا ہے یا کسی عالمی واقعے پر فوری ردعمل دے سکتا ہے۔ اس...

خطرے کی دستک اور اقتدار کی کرسی; "کسی نے نہیں بتایا تھا.

Image
  --- روما محمود--- صدر ٹرمپ کا یہ جملہ کہ "مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ ایک خطرناک جاب ہے" محض ایک بیان نہیں، بلکہ موجودہ دور کی عالمی سیاست، طاقت کے توازن اور انسانی نفسیات کا ایک نچوڑ ہے۔ 26 اپریل 2026 کی صبح، جب دنیا ایک بار پھر ایک حملے کی بازگشت سے گونج رہی ہے، یہ الفاظ ایک نئے معنی اختیار کر گئے ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں بعض جملے اپنی سادگی کے باوجود اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ پورے عہد کی عکاسی کر دیتے ہیں۔ جب دنیا کے طاقتور ترین انسان، ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ حملے کے بعد یہ الفاظ کہے کہ "مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ ایک خطرناک جاب ہے" تو پہلی نظر میں یہ ایک طنزیہ یا مزاحیہ جملہ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم اس کی تہوں میں جائیں، تو یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ آج کے دور میں 'سیاست' اب صرف نظریات کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی بارودی سرنگ بن چکی ہے جہاں ہر قدم پر زندگی اور موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس ہو یا ایوانِ اقتدار کی کوئی بھی دوسری راہداری، باہر سے دیکھنے والوں کو وہاں صرف پروٹوکول، چمکتی گاڑیاں اور دنیا کو بدل دینے والے فی...

میں، میرا پندار اور یہ احساسِ برتری

Image
  ---روما محمود---    انسانی معاشرت کا ایک المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں رشتوں اور تعلقات کی بنیاد برابری کے بجائے 'تقابل' پر رکھی جانے لگی ہے۔  اکثر ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو گفتگو کے ہر موڑ پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ  پیسے میں ، رتبے میں علم، تجربے، نسب یا پھر صرف اپنی سوچ میں دوسروں سے برتر ہیں۔ یہ احساسِ برتری دراصل ایک ایسی نفسیاتی گرہ ہے جو انسان کو دوسروں سے جوڑنے کے بجائے کاٹ دیتی ہے۔ جب کوئی شخص خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، تو اس کے پیچھے ہمیشہ اس کی اپنی قابلیت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات یہ ایک گہرا "دفاعی نظام" ہوتا ہے۔  نفسیات دانوں کے مطابق، جو لوگ اندرونی طور پر کسی کمی یا احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، وہ اپنی اس خامی کو چھپانے کے لیے دوسروں پر برتری جمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا دوسروں کو حقیر سمجھنا دراصل ان کی اپنی انا کو تسکین دینے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہمارے اداروں اور خاندانی نظام میں یہ رویہ عام ہے کہ اگر کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کرے، تو اسے سراہنے کے بجائے اس کی خامیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ دوسروں سے خود کو بہتر سمجھن...

کائناتی تغیر اور زمین کے لرزتے ایوان

Image
  --- روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی زمین پر بڑے سیاسی یا سماجی انقلاب آئے، آسمان کے ستاروں نے اپنی چال سے ان کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی۔ آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اسے اگر "عظیم منتقلی کا عہد" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک طرف عالمی سیاست کے ایوانوں میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف فلکیاتی نقشہ بھی کچھ ایسی ہی تبدیلیوں کی نوید سنا رہا ہے جو صدیوں بعد وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ علمِ نجوم کے ماہرین اس وقت جس سب سے بڑے بوجھل پن کا تذکرہ کر رہے ہیں، وہ برج حمل میں زحل (Saturn) اور نیپچون (Neptune) کا غیر معمولی ملاپ ہے۔ زحل، جو نظم و ضبط، حدود اور قدامت پسندی کا استعارہ ہے، جب نیپچون جیسے خوابوں اور روحانیت کے سیارے سے ملتا ہے، تو پرانے بوسیدہ ڈھانچے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ برسوں سے قائم عالمی طاقتوں کا توازن بگڑ رہا ہے اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ یہ ملاپ اس بات کی علامت ہے کہ اب دنیا کو چلانے کے لیے پرانے فارمولے کارگر نہیں رہیں گے۔ دوسری جانب، پلوٹو کا برج دلو (Aquarius) میں مستقل قیام ایک ایسے ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رک...

جی حضوری فکری غلامی کا جدید روپ

Image
  ---روما محمود--- 'جی حضوری' ایک ایسا رویہ ہے جو بظاہر تو ادب و احترام کا لبادہ اوڑھتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فکری جمود اور اخلاقی پستی کا باعث بنتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں "جی حضوری" کو اکثر حسنِ اخلاق یا فرماں برداری کے مترادف سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو اداروں اور معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جی حضوری کا مطلب صرف 'ہاں میں ہاں' ملانا نہیں، بلکہ اپنی سوچ، اپنی رائے اور اپنے ضمیر کو کسی دوسرے کی خوشنودی کے لیے قربان کر دینا ہے۔ خوشامد عموماً کسی مفاد کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، لیکن جی حضوری اس سے ایک قدم آگے کا مرحلہ ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جہاں ماتحت یا چھوٹا فرد یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی بقا صرف صاحبِ اختیار کے ہر لفظ پر 'آمین' کہنے میں ہے۔ جب کسی ادارے میں اختلافِ رائے کی گنجائش ختم ہو جائے اور صرف وہی لوگ ترقی پانے لگیں جو "جی حضور" کہنا جانتے ہوں، تو وہاں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔    جب مشیر اور ساتھی صرف وہی بات کہیں جو باس سننا چاہتا ہے، تو ...

خاموش قاتل بلڈ پریشر، جدید طرز زندگی اور ہماری ذمہ داریاں۔

Image
  ---روما محمود--- انسانی جسم ایک ایسی پیچیدہ اور حیرت انگیز مشین ہے جس کے تمام پرزے ایک خاص توازن کے تحت کام کرتے ہیں۔ اس مشین کو رواں دواں رکھنے کے لیے خون کی گردش بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن جب اسی خون کا دباؤ اپنی مقررہ حد سے تجاوز کر جائے، تو یہ ایک ایسی خاموش بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے جسے طبی دنیا میں "سائلنٹ کلر" یا "خاموش قاتل" کہا جاتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر (Hypertension) آج کے دور کا ایک عالمی المیہ بن چکا ہے، جو نہ صرف بوڑھوں بلکہ اب نوجوانوں کو بھی تیزی سے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ بلڈ پریشر کیا ہے؟ ایک سائنسی و سماجی تناظر طبی لحاظ سے بلڈ پریشر وہ قوت ہے جو خون، شریانوں کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ جب دل دھڑکتا ہے تو وہ خون کو شریانوں میں پمپ کرتا ہے، جس سے دباؤ بڑھتا ہے (سسٹولک) اور جب دل دھڑکنوں کے درمیان آرام کرتا ہے تو یہ دباؤ کم ہو جاتا ہے (ڈیاسٹولک)۔ ایک تندرست انسان کا نارمل بلڈ پریشر 120/80 ہونا چاہیے۔ لیکن اگر یہ مسلسل 140/90 یا اس سے اوپر رہے، تو اسے ہائی بلڈ پریشر قرار دیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ اسے بیماری ہی نہیں سمجھتے کیونکہ اس کی علاما...