قلم، میری روح اور بڑھتا ہوا ظلم

 



--- روما محمود---



زمانہ دراز سے جب میں اپنے اردگرد کے حالات اور بدلتے ہوئے سماجی رویوں کا مشاہدہ کرتی ہوں، تو ایک ہی خیال بار بار ذہن کی دستک بنتا ہے کہ "ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے"۔


لیکن سوال یہ ہے کہ اس 'حد' تک پہنچنے کا سفر کتنا صبر آزما ہے؟

ایک انسان ہونے  کی حیثیت سے جب میں سفید کاغذ پر سیاہ لفظ بکھیرتی ہوں، تو وہ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس گھٹن کے خلاف ایک احتجاج ہوتے ہیں جو ظلم کے بڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔



میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ معاشرے میں ظلم صرف اس لیے نہیں پنپتا کہ ظالم طاقتور ہے، بلکہ اس لیے جڑیں پکڑتا ہے کیونکہ ہم مصلحتوں کے اسیر ہو کر خاموشی کو عافیت سمجھ لیتے ہیںیا ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا یا ہم اپنے پیاروں کو کھونے سے ڈر جاتے ہیں۔


کیونکہ دنیا میں اکیلے ، تنہا رہنا آسان نہیں ہوتا۔

میری تحریروں کا مقصد ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اس بے حسی کو توڑا جائے جو انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ بن چکی ہے مگر ہر بار ناکامی مقدر بنتی ہے ۔

لوگ صرف اور صرف اپنا مفاد اور فائدہ دیکھتے ہیں۔

ظلم کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی یہ کسی کی حق تلفی کی شکل میں سامنے آتا ہے، تو کبھی سماجی ناانصافی کے روپ میں۔


لیکن ایک لکھاری کا کام صرف نوحہ گری نہیں، بلکہ اس اندھیرے میں امید کی شمع جلانا بھی ہے۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ فرعونیت چاہے کتنی ہی عروج پر کیوں نہ ہو، اسے زوال ضرور آتا ہے۔ میرے نزدیک، قلم کا اصل جہاد یہی ہے کہ جب سب خاموش ہوں، تب آپ کا لفظ ظالم کے سامنے ایک ڈھال بن کر کھڑا ہو جائے۔


آج جب ظلم اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، تو ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہر تاریک رات کی ایک صبح ہوتی ہے۔

میں اس فلسفے کو عام کرنا چاہتی ہوں کہ حق کی آواز چاہے کتنی ہی دھیمی کیوں نہ ہو، وہ باطل کے شور کو چیرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ کالم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ میرے اس عہد کی تجدید ہے کہ جب تک میرے ہاتھ میں قلم ہے اور دل میں سچائی کی تڑپ، میں بڑھتے ہوئے ظلم کے سامنے خاموش تماشائی نہیں بنوں گی۔

میں نے بہت آواز اٹھائی ہے ،  جتنی میری پہنچ تھی ۔
تاریخ کے کٹہرے میں  کبھی مجرم نہیں ٹھہرائی جاوں گی ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔