بیوروکریسی ریاست کا   ستون یا کرپشن کا گڑھ؟

  

--روما محمود--


پاکستان کا موجودہ بیوروکریٹک ڈھانچہ یا ماڈل بنیادی طور پر برطانیہ (United Kingdom) سے لیا گیا ہے۔ اسے "ویسٹ منسٹر ماڈل" یا "برطانوی نوآبادیاتی ڈھانچہ" (British Colonial Structure) بھی کہا جاتا ہے۔




​اس نظام کی جڑیں برطانوی راج کے دور میں ہیں، اور اس کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں.
​ انڈین سول سروس (ICS) کی وراثت
​پاکستان بننے سے پہلے برطانوی حکومت برصغیر پر انڈین سول سروس (ICS) کے ذریعے حکومت کرتی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اسی ڈھانچے کو اپنایا گیا اور اس کا نام بدل کر سینٹرل سپیریئر سروسز (CSS) رکھ دیا گیا۔ آج بھی پاکستانی بیوروکریسی کا تربیتی طریقہ کار اور انتظامی ڈھانچہ وہی ہے جو انگریزوں نے بنایا تھا۔

 "سٹیل فریم" (Steel Frame) کا تصور
​برطانوی وزیراعظم لائیڈ جارج نے بیوروکریسی کو سلطنتِ برطانیہ کا "سٹیل فریم" قرار دیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ حکومتیں آتی جاتی رہیں لیکن ریاست کا نظام چلانے والا یہ مضبوط ڈھانچہ (بیوروکریسی) قائم رہے۔ پاکستان نے بھی اسی تصور کو برقرار رکھا جہاں بیوروکریٹس کو مستقل ملازمت اور وسیع اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔

​ جنرل لسٹ (Generalist) ماڈل
​برطانوی ماڈل کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ "جنرل لسٹ" افسران پیدا کرتا ہے۔ یعنی ایک اسسٹنٹ کمشنر یا ڈی سی او کسی بھی محکمے (صحت، تعلیم، زراعت یا پولیس) کا سربراہ بن سکتا ہے، چاہے اس کی اپنی تعلیم کسی بھی شعبے میں ہو۔ یہ تصور کہ "ایک ذہین منتظم ہر شعبہ چلا سکتا ہے" خالصتاً برطانوی ہے۔

پاکستانی بیوروکریسی کی تربیت ایک ایسا عمل ہے جو بظاہر تو "جدید نظم و نسق" سکھاتا ہے، لیکن اس کی جڑیں اب بھی 19ویں صدی کے برطانوی راج میں پیوست ہیں۔ سی ایس ایس (CSS) پاس کرنے کے بعد ایک افسر کو سول سروس اکیڈمی (لاہور) اور پھر اپنے مخصوص شعبے کی اکیڈمی میں جو کچھ سکھایا جاتا ہے، اسے ہم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

 سرکاری آداب اور "اشرافیہ" کا طرزِ زندگی
​تربیت کا ایک بڑا حصہ افسر کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ اب عام شہری نہیں بلکہ "ریاست کا نمائندہ" ہے۔
• ​پروٹوکول اور ایٹیکیٹس: کھانے پینے کے طریقے (Table Manners)، ڈریس کوڈ (تھری پیس سوٹ یا شیروانی)، اور گفتگو کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔

 (Hierarchy)۔ اپنے سے جونیئر سے کیسے کام لینا ہے اور سینیئر کے سامنے کیسے پیش ہونا ہے، یہ گھٹی میں پلایا جاتا ہے۔ اسے اکثر تنقیدی طور پر "صاحب بہادر" ذہنیت کہا جاتا ہے۔

انتظامی اور قانونی مہارتیں
​یہ تربیت کا تکنیکی حصہ ہے جو ریاست چلانے کے لیے ضروری ہے۔

سرکاری قواعد (Rules of Business): فائل کیسے چلانی ہے، نوٹ کیسے لکھنا ہے، اور سرکاری خط و کتابت کیسے کرنی ہے۔

قوانین کا مطالعہ، پاکستان کے آئین، ضابطہ فوجداری (CrPC)، اور ریونیو قوانین کی بنیادی سمجھ بوجھ دی جاتی ہے۔

پبلک پالیسی، پالیسی بنانا اور اسے نافذ کرنے کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔

​ گھوڑا سواری سے فیلڈ وزٹ تک۔
​برطانوی دور کی ایک روایت گھوڑا سواری (Horse Riding) آج بھی لازمی تربیت کا حصہ ہے، جس کا مقصد افسر میں اعتماد اور کنٹرول پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ۔

ملکی دورے, افسران کو پورے پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کرایا جاتا ہے تاکہ وہ زمینی حقائق (یا کم از کم ان کا سرکاری عکس) دیکھ سکیں۔


فوجی تربیت (Attachment)۔ کچھ عرصہ فوج کے ساتھ بھی گزارنا پڑتا ہے تاکہ سول ملٹری ہم آہنگی پیدا ہو۔
​وہ خفیہ سبق جو نصاب میں نہیں مگر سکھائے جاتے ہیں.

​بیوروکریسی میں قدم رکھتے ہی ایک افسر وہ باتیں سیکھتا ہے جو کتابوں میں نہیں ہوتیں.


فائل کو پہیے لگانا. یہ سیکھنا کہ کس فائل کو تیزی سے گزارنا ہے اور کس کو "تکنیکی بنیادوں" پر روکنا ہے۔


سیاسی بقا (Survival), یہ فن سکھایا نہیں جاتا مگر افسر خود سیکھ لیتا ہے کہ کس سیاسی لیڈر کے ساتھ چلنا ہے اور کس طرح اپنی پوسٹنگ بچانی ہے۔

ذمہ داری سے بچنا 


(Passing the Buck)
فائل پر ایسی تحریر لکھنا کہ کل کو اگر کوئی انکوائری ہو تو افسر کا دامن صاف رہے اور ملبہ کسی اور پر گرے۔

دماغ ہلا دینے والی حقیقت.
​پاکستان میں ایک افسر کو "Master of All" (ہر فن مولا) بننا سکھایا جاتا ہے۔ یعنی ایک بندہ جس نے تاریخ یا ادب میں ڈگری لی ہو، اسے تربیت کے بعد خزانہ، صحت یا زراعت کا سیکرٹری لگا دیا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے جدید ماڈلز کے بالکل برعکس ہے جہاں صرف ماہرین (Specialists) کو متعلقہ شعبوں میں رکھا جاتا ہے۔

   یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی بیوروکریسی کے کئی اعلیٰ افسران پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرونِ ملک، بالخصوص کینیڈا، دبئی، پرتگال اور برطانیہ میں اربوں روپے کی جائیدادیں بنائی ہیں۔
​اس صورتحال کے چند اہم اور دماغ ہلا دینے والے پہلو یہ بھی ہیں.

​ 

کینیڈا اور رچی رچ (Richi Rich) افسران.

​کینیڈا، خاص طور پر ٹورنٹو اور مسیساگا، پاکستانی بیوروکریٹس کی پسندیدہ جگہ رہی ہے۔


ریٹائرمنٹ کا منصوبہ, بہت سے افسران دورانِ ملازمت ہی اپنی فیملیز کو کینیڈا شفٹ کر دیتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد وہاں منتقل ہو جاتے ہیں۔


پی آر (PR) کا مسئلہ۔

 کئی ایسے کیسز سامنے آئے ہیں جہاں حاضر سروس افسران کے پاس دوسرے ملک کی شہریت یا مستقل رہائش کا اجازت نامہ (Green Card/PR) تھا، جو کہ قانوناً مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے زمرے میں آتا ہے۔

پرتگال اور گولڈن ویزا۔


​پرتگال حالیہ برسوں میں بیوروکریٹس اور بااثر افراد کے لیے ایک نیا مرکز بن کر ابھرا ہے.

سرمایہ کاری کے بدلے شہریت, پرتگال کا گولڈن ویزا پروگرام جائیداد خریدنے پر یورپی یونین کی شہریت کی راہ ہموار کرتا ہے۔ پاکستانی اشرافیہ نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا تاکہ ان کا پیسہ اور مستقبل یورپ میں محفوظ رہے۔

پیسہ باہر کیسے جاتا ہے؟ (لانڈرنگ کے طریقے)
​یہ سب سے بڑا سوال ہے کہ ایک سرکاری ملازم، جس کی تنخواہ چند لاکھ روپے ہے، کروڑوں ڈالرز کی جائیداد کیسے بناتا ہے؟


ہنڈی اور حوالہ, بینکنگ چینلز کے بجائے غیر قانونی طریقے سے رقم باہر بھیجی جاتی ہے۔

بے نامی اکاؤنٹ پیسہ اکثر رشتہ داروں یا فرنٹ مین (Frontmen) کے نام پر منتقل کیا جاتا ہے۔

آف شور کمپنیاں پاناما اور پنڈورا پیپرز نے انکشاف کیا کہ کئی افسران نے ٹیکس سے بچنے والے ممالک (Tax Havens) میں کمپنیاں بنا رکھی تھیں۔

نظام کی ناکامی یا ملی بھگت؟

​یہاں ایک بڑا سوالیہ نشان یہ ہے کہ,
اگر ایک پٹواری یا کلرک ارب پتی بن جائے تو اس کا افسر کہاں تھا؟ اور اگر افسر ارب پتی بن جائے تو احتسابی ادارے (NAB, FIA) کیا کر رہے تھے؟

​اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب تک کوئی افسر سسٹم کا وفادار رہتا ہے، اس کی جائیدادوں پر آنکھیں بند کر لی جاتی ہیں، لیکن جیسے ہی وہ سیاسی وفاداری بدلتا ہے یا سسٹم کے خلاف جاتا ہے، اس کے اثاثوں کی فائلیں کھل جاتی ہیں۔

ایک دماغ ہلا دینے والی حقیقت.
​پاکستان کے کل بیرونی قرضے کا ایک بڑا حصہ ان جائیدادوں کی مالیت کے برابر ہے جو پاکستانیوں (بشمول بیوروکریٹس اور سیاستدانوں) نے غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک بنا رکھی ہیں۔ اگر صرف یہ پیسہ واپس آ جائے تو پاکستان کو شاید کبھی کسی عالمی ادارے سے قرض نہ لینا پڑے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔