کائناتی تغیر اور زمین کے لرزتے ایوان
--- روما محمود---
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی زمین پر بڑے سیاسی یا سماجی انقلاب آئے، آسمان کے ستاروں نے اپنی چال سے ان کی پیش گوئی پہلے ہی کر دی تھی۔
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، اسے اگر "عظیم منتقلی کا عہد" کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک طرف عالمی سیاست کے ایوانوں میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں اور دوسری طرف فلکیاتی نقشہ بھی کچھ ایسی ہی تبدیلیوں کی نوید سنا رہا ہے جو صدیوں بعد وقوع پذیر ہوتی ہیں۔
علمِ نجوم کے ماہرین اس وقت جس سب سے بڑے بوجھل پن کا تذکرہ کر رہے ہیں، وہ برج حمل میں زحل (Saturn) اور نیپچون (Neptune) کا غیر معمولی ملاپ ہے۔ زحل، جو نظم و ضبط، حدود اور قدامت پسندی کا استعارہ ہے، جب نیپچون جیسے خوابوں اور روحانیت کے سیارے سے ملتا ہے، تو پرانے بوسیدہ ڈھانچے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ برسوں سے قائم عالمی طاقتوں کا توازن بگڑ رہا ہے اور نئے اتحاد جنم لے رہے ہیں۔ یہ ملاپ اس بات کی علامت ہے کہ اب دنیا کو چلانے کے لیے پرانے فارمولے کارگر نہیں رہیں گے۔
دوسری جانب، پلوٹو کا برج دلو (Aquarius) میں مستقل قیام ایک ایسے ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھ چکا ہے جو انسانی شعور کو بدل کر رکھ دے گا۔ برج دلو عوامی طاقت، ایجادات اور ٹیکنالوجی کا گھر ہے۔ پلوٹو کی یہاں موجودگی یہ بتا رہی ہے کہ آنے والے بیس برسوں میں اقتدار چند ہاتھوں سے نکل کر عوام اور ٹیکنالوجی کے پاس چلا جائے گا۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل اثاثوں کا حالیہ عروج محض اتفاق نہیں، بلکہ ستاروں کی اس بڑی تبدیلی کا شاخسانہ ہے جو دنیا کو ایک نئی معاشی سمت دے رہی ہے۔
مشتری کی برج جوزا میں موجودگی نے معلومات کے سیلاب کو مہمیز دی ہے۔ آج ہر خبر، ہر نظریہ اور ہر تحریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ساتھ برج حمل اور میزان کے محور پر لگنے والے حالیہ گرہنوں نے دنیا کو ایک عجیب تضاد میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک طرف قیامِ امن کی کوششیں ہیں اور دوسری طرف جنگی بادل گہرے ہو رہے ہیں۔ یہ "جنگ اور امن" کی وہ کشمکش ہے جو ستاروں کی ترتیب کے مطابق فی الحال جاری رہے گی، جب تک کہ دنیا کسی نئے توازن پر مستحکم نہیں ہو جاتی۔
راہو کا برج حوت میں سفر انسانی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ غیر یقینی کی صورتحال اور چھپے ہوئے خوف جہاں بے چینی بڑھا رہے ہیں، وہاں یہ وقت باطنی علوم اور روحانی بیداری کے لیے بھی نہایت سازگار ہے۔
ہم ایک ایسے سنگ میل پر کھڑے ہیں جہاں ماضی کی پرچھائیاں دم توڑ رہی ہیں اور مستقبل کا ڈھانچہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ کائناتی اشارے بتاتے ہیں کہ یہ دور لچک پیدا کرنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کا ہے۔ نظام بدل رہا ہے، اور جو اس تبدیلی کی آہٹ کو وقت پر محسوس کر لے گا، وہی آنے والے کل کا فاتح ٹھہرے گا۔ آسمانی برجوں کی یہ جنبش ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ زمین پر اب کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
موجودہ دور کا ایک اور اہم پہلو مریخ (Mars) کی پوزیشن ہے، جسے علمِ نجوم میں "جنگ کا دیوتا" اور قوت کا منبع مانا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مریخ کی تند و تیز حرکات نے عالمی سیاست کے پارہ کو اس حد تک بڑھا دیا ہے کہ سفارت کاری کی میزیں میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگی ہیں۔ خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے خطے میں جو بے چینی نظر آ رہی ہے، وہ ان سخت فلکیاتی زاویوں کا عکس ہے جو اقتدار کی ہوس اور بقا کی جنگ کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔
معاشی محاذ پر نظر ڈالیں تو مشتری اور زحل کے درمیان بننے والا مخصوص زاویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روایتی کرنسی اور بنکاری کا نظام ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔ یہ "تخلیقی تخریب" (Creative Destruction) کا عمل ہے۔ ستاروں کی یہ ترتیب بتاتی ہے کہ پرانا مالیاتی نظام اپنی مدت پوری کر چکا ہے اور اب مائع اثاثوں (Liquid Assets) اور غیر روایتی تجارتی طریقوں کا دور شروع ہو چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں سے لے کر ڈیجیٹل مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ تک، ہر چیز ایک غیر یقینی مگر نئے رخ کی طرف گامزن ہے۔
اگر ہم مقامی تناظر میں بات کریں تو پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ وقت "آزمائش اور تعمیرِ نو" کا ہے۔ راہو اور کیتو کا اثر عوامی سطح پر جذباتی فیصلوں اور سماجی ڈھانچے میں توڑ پھوڑ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ نجوم کی زبان میں گرہن صرف اندھیرے کا نام نہیں، بلکہ یہ پرانی گرد صاف کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ وقت ان اداروں اور سوچ کے لیے کڑا ہے جو تبدیلی کے سامنے مزاحمت کر رہے ہیں۔
حالیہ دور کا سب سے پراسرار پہلو "عنصرِ باد" (Air Element) کا غلبہ ہے۔ پلوٹو، مشتری اور زحل کا بار بار ہوائی برجوں سے گزرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اب طاقت زمین یا سرحدوں میں نہیں بلکہ "فضا" میں ہے۔ چاہے وہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ہو، ڈرون ٹیکنالوجی ہو یا معلومات کا خلا میں سفر.
اب وہی قومیں زندہ رہیں گی جو زمین کی مٹی سے زیادہ آسمان کی وسعتوں اور ٹیکنالوجی کے باریک تاروں پر گرفت رکھیں گی۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ستارے محض راستہ دکھاتے ہیں، منزل کا تعین انسان کا اپنا عزم کرتا ہے۔
کائنات ایک بڑے آپریشن تھیٹر میں بدل چکی ہے جہاں ہر پرانے ناسور کو کاٹ کر الگ کیا جا رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ عمل ضرور ہے، لیکن ایک نئی اور شفاف صبح کی نوید بھی ہے۔
ہم ایک ایسی دہلیز پر ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ بند ہو چکا ہے؛ اب صرف آگے بڑھنا ہی واحد راستہ ہے، چاہے وہ ستاروں کی چال کے ساتھ ہو یا وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ہمراہ۔

Comments