جی حضوری فکری غلامی کا جدید روپ
---روما محمود---
'جی حضوری' ایک ایسا رویہ ہے جو بظاہر تو ادب و احترام کا لبادہ اوڑھتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فکری جمود اور اخلاقی پستی کا باعث بنتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں "جی حضوری" کو اکثر حسنِ اخلاق یا فرماں برداری کے مترادف سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر اس کا گہرا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جو اداروں اور معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
جی حضوری کا مطلب صرف 'ہاں میں ہاں' ملانا نہیں، بلکہ اپنی سوچ، اپنی رائے اور اپنے ضمیر کو کسی دوسرے کی خوشنودی کے لیے قربان کر دینا ہے۔
خوشامد عموماً کسی مفاد کے حصول کے لیے کی جاتی ہے، لیکن جی حضوری اس سے ایک قدم آگے کا مرحلہ ہے۔ یہ ایک ایسا رویہ ہے جہاں ماتحت یا چھوٹا فرد یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی بقا صرف صاحبِ اختیار کے ہر لفظ پر 'آمین' کہنے میں ہے۔ جب کسی ادارے میں اختلافِ رائے کی گنجائش ختم ہو جائے اور صرف وہی لوگ ترقی پانے لگیں جو "جی حضور" کہنا جانتے ہوں، تو وہاں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔
جب مشیر اور ساتھی صرف وہی بات کہیں جو باس سننا چاہتا ہے، تو فیصلے حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔
جی حضوری کے کلچر میں وہ لوگ جو قابلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، انہیں وہ گروہ پیچھے کھینچتا ہے جو صرف خوشامد کے بل بوتے پر جگہ بناتا ہے۔ یوں میرٹ کا قتلِ عام ہوتا ہے۔
جب ایک انسان بار بار اپنے ضمیر کے خلاف صرف کسی کو خوش کرنے کے لیے بات کرتا ہے، تو رفتہ رفتہ اس کی اپنی شخصیت کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی لوگ ترقی کرتے ہیں جہاں سوال اٹھانے کی ہمت دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے بچپن سے ہی "بڑوں کے سامنے زبان نہ کھولنے" کو تربیت کا حصہ بنا دیا گیا، جس نے غیر محسوس طریقے سے ہمیں جی حضوری کی طرف دھکیلا۔ احترام اور اختلافِ رائے دو الگ چیزیں ہیں۔ آپ باادب رہ کر بھی اختلاف کر سکتے ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے اور معاشرہ ترقی کرے، تو ہمیں "جی حضوری" کے بجائے "جی شعوری" کا راستہ اپنانا ہوگا۔ صاحبِ اختیار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اردگرد ایسے لوگ رکھیں جو انہیں ان کی غلطیوں پر ٹوک سکیں۔
اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے بہتری کا ذریعہ سمجھنا ہی ایک زندہ قوم کی نشانی ہے۔
غلامی صرف زنجیروں کی نہیں ہوتی، سوچ کی غلامی سب سے بڑی زنجیر ہے۔
کسی بھی معاشرے یا ادارے کے زوال کی سب سے بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہاں سچ بولنے کو 'بدتمیزی' اور اختلاف کرنے کو 'گستاخی' کا نام دے دیا جائے۔ جب نظام میں 'جی حضوری' کا غلبہ ہوتا ہے، تو وہاں ضمیر کی آواز بلند کرنے والے کو باغی یا گستاخ قرار دے کر دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔
ہمارے سماجی اور تنظیمی ڈھانچوں میں ایک المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے "ادب" کے مفہوم کو مسخ کر دیا ہے۔ یہاں ادب کا مطلب خاموشی سے سر جھکا لینا سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی جرات مند فرد کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کرے یا صاحبِ اختیار کی رائے سے اختلاف کرے، تو فوری طور پر اس پر 'گستاخ' کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ یہ لیبل دراصل ایک ہتھیار ہے جس کے ذریعے باصلاحیت لوگوں کی آواز دبائی جاتی ہے۔
جی حضوری کرنے والا طبقہ ہمیشہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے کیونکہ وہ ہوا کے رخ پر چلتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہی 'گستاخ' (جو حقیقت میں صاحبِ بصیرت ہوتے ہیں) تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔
جب اختلاف کو گستاخی سمجھا جائے، تو لوگ سچ بولنے سے کترانے لگتے ہیں۔
جس دربار یا دفتر میں صرف 'جی حضور' کی صدائیں گونجتی ہوں، وہاں عقل رخصت ہو جاتی ہے اور چاپلوسی کے ماہر افراد میرٹ کی جگہ لے لیتے ہیں۔
خوشامدی گروہ کی یہ سب سے بڑی چال ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی ابھرتی ہوئی مخلص آواز کو 'گستاخی' کے رنگ میں پیش کر کے بڑوں کی نظر میں گرا دیں۔ یہ "کیکڑے کی ذہنیت" (Crab Mentality) کی بدترین شکل ہے، جہاں اپنی نااہلی چھپانے کے لیے دوسروں کی دیانت داری کو بدتمیزی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
معاشرے کی ترقی کے لیے لازم ہے کہ ہم 'گستاخی' اور 'جراتِ اظہار' کے درمیان لکیر کھینچیں۔ ادب و احترام اپنی جگہ لازم ہے، لیکن اندھی تقلید اور جی حضوری سے بچنا ہی اصل دانشمندی ہے۔
صاحبِ اختیار کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جو شخص آپ کی ہر بات پر 'جی حضور' کہہ رہا ہے، وہ شاید آپ کا ہمدرد نہ ہو، لیکن جو آپ کی غلطی پر ٹوک رہا ہے، وہ گستاخ نہیں بلکہ آپ کا حقیقی خیر خواہ ہے۔
جس معاشرے میں 'گستاخِ مصلحت' (وہ جو مصلحت کو ٹھکرا کر سچ بولے) ختم ہو جائیں، وہاں صرف جی حضوری کرنے والے زندہ لاشوں کا ہجوم باقی رہ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا کہ ہم سچ سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں یا صرف خوشنما جھوٹ کے عادی ہو چکے ہیں۔

Comments