ٹویٹر ڈپلومیسی ڈیجیٹل دور کی نئی خارجہ پالیسی اور بدلتے ہوئے سفارتی آداب

 


 ---روما محمود---



اکیسویں صدی کے آغاز میں جب سوشل میڈیا نے انسانی زندگی میں قدم رکھا، تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ محض 140 یا 280 حروف کا ایک مجموعہ عالمی سیاست کا رخ موڑنے کی طاقت رکھے گا۔ 

آج جس عہد میں ہم جی رہے ہیں، وہاں روایتی سفارت کاری کے بند کمرے، پرتعیش ڈنر اور خفیہ مراسلے اپنی جگہ برقرار تو ہیں، لیکن ان کی اثر انگیزی "ٹویٹر" (جسے اب 'X' کہا جاتا ہے) کے ایک ٹویٹ کے سامنے اکثر ماند پڑ جاتی ہے۔ "ٹویٹر ڈپلومیسی" یا "ٹی پلومیسی" (Twiplomacy) اب محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ عالمی سیاست کا ایک ناگزیر ستون بن چکی ہے۔

 


تاریخی طور پر سفارت کاری ایک نہایت ہی صیغہ راز میں رہنے والا عمل رہا ہے۔ بادشاہوں، صدور اور وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو برسوں تک فائلوں میں دبی رہتی تھی اور عوام تک صرف وہی معلومات پہنچتی تھیں جن کا فیصلہ ریاستیں کرتی تھیں۔


 تاہم، ٹویٹر نے اس دیوار کو گرا دیا ہے۔ اب ایک سربراہِ مملکت براہِ راست دوسری قوم کے عوام سے مخاطب ہو سکتا ہے، اپنی پالیسی کا اعلان کر سکتا ہے یا کسی عالمی واقعے پر فوری ردعمل دے سکتا ہے۔

اس تبدیلی نے سفارت کاری کو "اشرافیہ کے کھیل" سے نکال کر "عوامی فورم" پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب عوام صرف تماشائی نہیں بلکہ براہِ راست شریکِ گفتگو ہیں۔ کسی بھی وزیرِ خارجہ کے ٹویٹ پر آنے والے ہزاروں کمنٹس، ری ٹویٹس اور لائکس اس بات کا ثبوت ہیں کہ خارجہ پالیسی اب بند کمروں سے نکل کر اسمارٹ فونز کی اسکرینوں پر آچکی ہے۔


ٹویٹر ڈپلومیسی نے عالمی سیاست میں کئی مثبت تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں:


کسی بحران یا ہنگامی صورتحال (جیسے جنگ، زلزلہ یا وبائی مرض) میں حکومتیں ٹویٹر کے ذریعے فوری معلومات فراہم کرتی ہیں۔ اس سے افواہوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور عوام کو براہِ راست ریاست کا موقف معلوم ہوتا ہے۔

ممالک اپنی ثقافت، سیاحت اور انسانی حقوق کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو ٹویٹر پر تشہیر کر کے اپنا مثبت تاثر (Image Building) بہتر بناتے ہیں۔

 

پہلی بار عام آدمی کو یہ محسوس ہوا ہے کہ وہ اپنے حکمرانوں کو عالمی معاملات پر رائے دے سکتا ہے یا ان سے سوال کر سکتا ہے۔ یہ "جمہوری سفارت کاری" کی ایک نئی شکل ہے۔



ٹویٹر ڈپلومیسی کی تاریخ میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر ناگزیر ہے۔ ٹرمپ نے ٹویٹر کو روایتی میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے بڑی پالیسیوں کے فیصلے، وزراء کی برطرفی اور یہاں تک کہ شمالی کوریا جیسے ممالک کو دھمکیاں بھی ٹویٹر کے ذریعے دیں۔ ان کے دور میں دنیا نے دیکھا کہ ایک ٹویٹ کس طرح اسٹاک مارکیٹ کو گرا سکتا ہے یا کسی ملک کے ساتھ تعلقات کو یکسر تبدیل کر سکتا ہے۔ 


ٹرمپ کے اس انداز نے سفارت کاری کے آداب (Protocols) کو چیلنج کیا اور ثابت کیا کہ ڈیجیٹل دنیا میں "سنجیدگی" سے زیادہ "اثر انگیزی" اہمیت اختیار کر گئی ہے۔


جہاں ٹویٹر ڈپلومیسی نے فاصلے سمیٹے ہیں، وہاں اس نے کئی نئے خطرات کو بھی جنم دیا ہے

 

 سفارت کاری تحمل اور دور اندیشی کا نام ہے جبکہ ٹویٹر فوری ردعمل کا تقاضا کرتا ہے۔ اکثر اوقات حکمران جذبات میں آکر ایسا ٹویٹ کر دیتے ہیں جو دو ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

 

 ا ٹویٹر پر بوٹس (Bots)  منظم ٹرولنگ کے ذریعے کسی بھی ملک کے خلاف منفی مہم چلانا آسان ہو گیا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فیئر میں ٹویٹر ایک مہلک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔

 

 روایتی طور پر سفارت کار نپی تلی زبان استعمال کرتے ہیں۔ ٹویٹر پر اکثر بدتمیزی، طنز اور غیر اخلاقی زبان دیکھنے کو ملتی ہے، جس سے عالمی سطح پر سیاسی اخلاقیات کا گراف گرا ہے۔



پاکستان میں بھی ٹویٹر ڈپلومیسی کا بھرپور استعمال دیکھا گیا ہے۔ چاہے وہ بھارت کے ساتھ تعلقات ہوں، کشمیر کا مسئلہ ہو یا افغان امن عمل، پاکستانی وزرائے اعظم اور دفترِ خارجہ نے ٹویٹر کو اپنے بیانیے (Narrative) کی تشہیر کے لیے کلیدی آلہ بنایا ہے۔ پاکستان اب ڈیجیٹل ڈپلومیسی کے لیے باقاعدہ حکمت عملی مرتب کر رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنا موقف موثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔


کیا ٹویٹر ڈپلومیسی روایتی سفارت کاری کو مکمل طور پر ختم کر دے گی؟ اس کا جواب "نہ" میں ہے۔ آمنے سامنے کی ملاقاتیں، خفیہ مذاکرات اور دستخط شدہ معاہدے آج بھی عالمی نظم و ضبط کی بنیاد ہیں۔ تاہم، ٹویٹر ان کا ایک لازمی ضمیمہ بن چکا ہے۔ مستقبل میں وہ ریاستیں زیادہ کامیاب ہوں گی جو اپنے "ڈیجیٹل اثاثوں" کو بہتر طریقے سے استعمال کریں گی۔


اب سفارت کاروں کو صرف زبان دانی اور تاریخ پر عبور ہونا کافی نہیں، بلکہ انہیں "ڈیجیٹل لٹریسی" اور "ڈیٹا اینالیٹکس" میں بھی مہارت حاصل کرنی ہوگی۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک غلط ہیش ٹیگ (#Hashtag) کسی بھی بڑی مہم کو ناکام بنا سکتا ہے۔


ٹویٹر ڈپلومیسی نے عالمی سیاست کو شیشے کے گھر میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا دو دھاری تلوار ہے جو اگر صحیح استعمال ہو تو امن اور دوستی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اور اگر غلط ہاتھوں میں ہو تو جنگ کی آگ بھڑکا سکتی ہے۔


 عالمی برادری کو اب اس ڈیجیٹل میدان کے لیے بھی کچھ "قواعد و ضوابط" طے کرنے ہوں گے تاکہ ٹیکنالوجی کا یہ سفر انسانیت کی بہتری اور عالمی امن کے لیے استعمال ہو سکے۔

مختصر یہ کہ، آج کا سفارت کار اب صرف ٹائی لگا کر میز پر نہیں بیٹھتا، بلکہ وہ ہر وقت ایک "ڈیجیٹل جنگ" یا "ڈیجیٹل امن" کے محاذ پر متحرک رہتا ہے۔ ٹویٹر اب صرف ایک ایپ نہیں، اکیسویں صدی کا عالمی دربار ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔