خاموشی کا نوحہ اور معاشرتی جراحی، جب دکھ زبان تک نہ پہنچے

 


 

---روما محمود---




انسان کی زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے کئی باب ایسے ہوتے ہیں جو وہ کبھی کسی کو پڑھ کر نہیں سناتا۔

یہ وہ ابواب ہیں جن کے حروف آنسوؤں سے لکھے گئے ہوتے ہیں اور جن کی جلد کرب کی تہوں سے بنی ہوتی ہے۔

انسانی معاشرت کا المیہ یہ ہے کہ یہاں خاموشی کو اکثر 'خلا' سمجھ لیا جاتا ہے، اور لوگ اپنی فطرت کے مطابق اس خلا کو بھرنے کے لیے قیاس آرائیوں، مفروضوں اور بدگمانیوں کا سہارا لیتے ہیں۔


جب ایک انسان اپنے دکھ کو الفاظ کی زبان نہیں دے پاتا، تو معاشرہ اپنی زبان درازی سے اس کی ذات کے بخیے ادھیرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ عمل کسی جراحی سے کم نہیں، مگر فرق یہ ہے کہ جراح زخم بھرنے کے لیے چیر پھاڑ کرتا ہے، جبکہ معاشرتی جراح صرف تماشہ دیکھنے کے لیے انسان کی حرمت کو تار تار کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو رو رہا ہے، وہی دکھی ہے؛ جو چلا رہا ہے، وہی مظلوم ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ دکھ کی سب سے خطرناک اور جان لیوا قسم وہ ہے جو حلق میں پھنس جائے، جو آنکھوں سے بہنے کے بجائے سینے کے اندر رسنا شروع کر دے۔

جب انسان اپنا دکھ کسی کو کہہ نہیں پاتا، تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ کبھی وہ اپنی عزت کی خاطر خاموش رہتا ہے، کبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ سننے والے صرف ہمدردی کا ناٹک کریں گے، اور کبھی اس کے پاس دکھ بیان کرنے کے لیے الفاظ ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

مگر دنیا اس خاموشی کا غلط مطلب نکالتی ہے۔ ایک خاموش شخص کو 'مغرور'، 'پراسرار' یا 'قصور وار' سمجھ لینا سب سے آسان کام ہے۔ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس خاموشی کے پیچھے کتنے طوفان دبے ہوئے ہیں، وہ تو بس اس خاموشی کو بنیاد بنا کر اپنی ذہنی عینک سے اس کی شخصیت کا پوسٹ مارٹم شروع کر دیتے ہیں۔

"ذات کے بخیے ادھیرنا" ایک ایسا محاورہ ہے جو اس بے رحمی کی عکاسی کرتا ہے جو لوگ دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ جب کوئی شخص اپنا حالِ دل نہیں سناتا، تو لوگوں کا 'تجسس' ایک ایسی بیماری بن جاتا ہے جو اسے سکون سے جینے نہیں دیتا۔ لوگ اپنے اپنے ذہن کے مطابق اس کی زندگی کے خاکے بناتے ہیں۔

  "شاید اس نے کوئی غلط کام کیا ہے، اس لیے چھپاتا پھر رہا ہے۔"

"یہ تو شروع سے ہی بدتمیز تھا، اب کسی سے بات نہیں کرتا تو کیا تعجب۔"

"ضرور اس کے گھر کے حالات خراب ہوں گے، اپنی ناک اونچی رکھنے کے لیے بتا نہیں رہا۔"

یہ وہ جملے ہیں جو کسی خنجر کی طرح اس انسان کے وجود میں پیوست ہوتے ہیں جو پہلے ہی کرب کی سولی پر لٹکا ہوتا ہے۔ لوگ اپنی محفلوں کو گرم کرنے کے لیے دوسروں کی مجبوریوں کے بخیے ادھیرتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ جس کی ذات کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں، اس پر کیا گزر رہی ہے۔

جب ہم کسی کے دکھ کا ادراک کیے بغیر اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں، تو ہم دراصل ایک جیتی جاگتی شخصیت کا قتل کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر انسان کی ایک 'پرائیویٹ اسپیس' ہوتی ہے، جہاں وہ اپنے خدا اور اپنی ذات کے ساتھ تنہا ہوتا ہے۔

جب لوگ اپنے دماغ کی اختراع سے اس کی ذات کے بارے میں کہانیاں گھڑتے ہیں، تو وہ اس مقدس سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی مالی تنگی کی وجہ سے محفلوں سے کنارہ کش ہو جائے، تو لوگ اسے 'مطلبی' یا 'بددماغ' قرار دے دیں گے۔ وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ اس شخص کے پاس شاید بس کا کرایہ بھی نہ ہو، لیکن اس کی غیرت اسے ہاتھ پھیلانے یا اپنی غربت کا رونا رونے سے روکتی ہے۔

لوگ اس کی اس سفید پوشی کو اس کا عیب بنا کر پیش کریں گے اور اس کی کردار کشی کے ایسے ایسے پہلو نکالیں گے کہ عقل دنگ رہ جائے۔

ایسی صورتحال میں انسان ایک دہرے عذاب سے گزرتا ہے۔ ایک عذاب اس کے اپنے اندرونی دکھ کا ہوتا ہے، اور دوسرا عذاب ان لوگوں کا جو اس کے زخموں پر نمک پاش کرنے کے لیے ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر آتے ہیں۔

جب انسان کو معلوم ہو کہ لوگ اس کے دکھ کو سمجھنے کے بجائے اسے تماشہ بنائیں گے، تو وہ مزید سمٹ جاتا ہے۔

یہ 'ریٹائرنگ انٹو دا شیل' (خیر خول میں بند ہو جانا) لوگوں کو مزید موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے بارے میں منفی باتیں پھیلائیں۔ یہ ایک ایسا چکر (Vicious Cycle) ہے جس کا انجام اکثر شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔ انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ پوری دنیا اس کے خلاف ہے اور کوئی بھی اس کے سچ کو دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں 'ایمپیتھی' (دوسرے کے دکھ کو محسوس کرنا) ختم ہوتی جا رہی ہے اور 'ججمنٹ' (فیصلہ سنانا) عروج پر ہے۔

معاشرے کی اس روش کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خاموشی کے پیچھے کوئی کہانی ہوتی ہے، اور ہمیں اس کہانی کو جاننے کا کوئی حق نہیں جب تک کہ وہ شخص خود ہمیں شریکِ سفر نہ بنائے۔

اگر کوئی دوست یا رشتہ دار خاموش ہے، تو اس پر سوالات کی بوچھاڑ کرنے کے بجائے اسے یہ احساس دلائیں کہ آپ اس کے ساتھ ہیں۔

انسانی شخصیت اتنی سادہ نہیں ہوتی کہ آپ چند لمحوں میں اس کا خلاصہ کر دیں۔

دوسروں کی ذات کے بخیے ادھیرنے کے بجائے اپنی زندگی کی اصلاح پر توجہ دیں۔

جب انسان اپنا دکھ کہہ نہیں پاتا، تو وہ دراصل ایک بہت بڑے بوجھ کو اکیلا اٹھا رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں لوگوں کا اپنی عقل کے مطابق اس کی ذات کے تار و پود بکھیرنا ایک ایسا سماجی جرم ہے جس کی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی۔

کسی کے ٹوٹے ہوئے دل کے ٹکڑوں سے اپنی ذہنی تسکین کا سامان کرنا انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہے۔

ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ آج جو خاموش ہے، کل وہ بول سکتا ہے؛ اور آج جو دوسروں کی ذات پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں، کل وہ خود کسی کی بدگمانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ اگر آپ کسی کے دکھ کی دوا نہیں بن سکتے، تو کم از کم اس کے زخموں پر اپنی زبان کے نشتر تو نہ چلائیں۔ کسی کی خاموشی کا احترام کرنا، اس کے دکھ میں شریک ہونے سے بھی زیادہ بڑا مرتبہ رکھتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔