خطرے کی دستک اور اقتدار کی کرسی; "کسی نے نہیں بتایا تھا.

 


--- روما محمود---




صدر ٹرمپ کا یہ جملہ کہ "مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ ایک خطرناک جاب ہے" محض ایک بیان نہیں، بلکہ موجودہ دور کی عالمی سیاست، طاقت کے توازن اور انسانی نفسیات کا ایک نچوڑ ہے۔ 26 اپریل 2026 کی صبح، جب دنیا ایک بار پھر ایک حملے کی بازگشت سے گونج رہی ہے، یہ الفاظ ایک نئے معنی اختیار کر گئے ہیں۔



تاریخ کے صفحات میں بعض جملے اپنی سادگی کے باوجود اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ وہ پورے عہد کی عکاسی کر دیتے ہیں۔

جب دنیا کے طاقتور ترین انسان، ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ حملے کے بعد یہ الفاظ کہے کہ "مجھے کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ ایک خطرناک جاب ہے" تو پہلی نظر میں یہ ایک طنزیہ یا مزاحیہ جملہ معلوم ہوتا ہے۔

لیکن اگر ہم اس کی تہوں میں جائیں، تو یہ اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ آج کے دور میں 'سیاست' اب صرف نظریات کی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسی بارودی سرنگ بن چکی ہے جہاں ہر قدم پر زندگی اور موت کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔


وائٹ ہاؤس ہو یا ایوانِ اقتدار کی کوئی بھی دوسری راہداری، باہر سے دیکھنے والوں کو وہاں صرف پروٹوکول، چمکتی گاڑیاں اور دنیا کو بدل دینے والے فیصلے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک ایسا خوف چھپا ہوتا ہے جسے عام انسان محسوس نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انہیں کسی نے خبردار نہیں کیا تھا، دراصل اس نظام پر ایک ضرب ہے جو اقتدار کے خواب تو دکھاتا ہے مگر اس کی قیمت بتانا بھول جاتا ہے۔

25 اپریل 2026 کی وہ شام، جب واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں قہقہے اور گفتگو عروج پر تھی، اچانک گولیوں کی آواز نے ثابت کر دیا کہ سیکورٹی کے فولادی حصار بھی نفرت اور جنون کے سامنے کبھی کبھی بے بس ہو جاتے ہیں۔ جب ایک صدر کو اسٹیج سے بحفاظت نکالنے کے لیے درجنوں ایجنٹ اپنی جان کی بازی لگاتے ہیں، تب احساس ہوتا ہے کہ "دنیا کا طاقتور ترین انسان" کتنا غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔


ماضی میں سیاست دانوں کے درمیان اختلاف رائے ہوتا تھا، دلیل کا مقابلہ دلیل سے کیا جاتا تھا۔


مگر آج کی عالمی سیاست میں 'عدم برداشت' ایک مہلک وائرس کی طرح پھیل چکی ہے۔ اب مخالف کو شکست دینے کے بجائے اسے مٹا دینے کا رجحان غالب آ رہا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان کہ "یہ ایک خطرناک جاب ہے"، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب عوامی خدمت یا اقتدار کی خواہش کے ساتھ 'جان کا نذرانہ' دینے کی شرط بھی وابستہ ہو چکی ہے۔

یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان سے لے کر یورپ تک، سیاسی قیادت اب مسلسل نشانے پر ہے۔ جب معاشرے میں مکالمہ ختم ہو جائے اور صرف جذباتیت باقی رہ جائے، تو قلم کی جگہ گولی لے لیتی ہے۔


ٹرمپ کے اس جملے میں ایک چھپا ہوا دکھ بھی ہے.

وہ دکھ جو ایک لیڈر کو تب ہوتا ہے جب اسے احساس ہو کہ اس کے اپنے ہی ملک کے شہری اسے قبول کرنے کے بجائے اسے ختم کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔


کیا یہ واقعی حیران کن ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی ٹرمپ کو نہیں معلوم تھا کہ یہ کام خطرناک ہے؟

یقیناً وہ جانتے تھے۔ لیکن ان کے الفاظ کا رخ اس نظام کی طرف ہے جو لیڈروں کو ایک ایسی 'مصنوعی دنیا' میں رکھتا ہے جہاں انہیں لگتا ہے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہیں۔


جب حقیقت کا سامنا ہوتا ہے، تو وہ صدمہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ انسان یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ "مجھے یہ نہیں بتایا گیا تھا"۔

یہ جملہ اس بے چارگی کا بھی عکاس ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔

اگر ایک سپر پاور کا صدر محفوظ نہیں، تو پھر کون محفوظ ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت ہمیشہ سے ہی متنازع رہی ہے۔ ان کے حامی انہیں ایک نجات دہندہ سمجھتے ہیں جبکہ مخالفین انہیں جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔


لیکن کسی بھی اختلافِ رائے کا انجام تشدد پر ہونا کسی بھی مہذب معاشرے کی ہار ہے۔ 


"خطرناک جاب" کا یہ لیبل دراصل ہماری عالمی تہذیب پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

کیا ہم نے دنیا کو اتنا غیر محفوظ بنا دیا ہے کہ اب قیادت کا مطلب صرف موت کے سائے میں چلنا ہے؟

ٹرمپ کا یہ بیان تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ یہ ایک طرف ان کے مخصوص اندازِ بیاں کی عکاسی کرتا ہے، تو دوسری طرف یہ سیاست کے خاردار راستوں کی داستان سناتا ہے۔


اقتدار کی کرسی اب مخمل کی نہیں، بلکہ شیشے کی بن چکی ہے جو کسی بھی وقت ٹوٹ کر زخم لگا سکتی ہے۔

آج جب ہم پاکستان میں بیٹھ کر اس عالمی منظرنامے کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم بھی اپنے اختلاف کو دشمنی میں تو نہیں بدل رہے؟ 


کیا ہم نے بھی سیاست کو اتنا خطرناک تو نہیں بنا دیا کہ کوئی مخلص انسان اس میدان میں آنے سے ڈرنے لگے؟


ٹرمپ کو شاید کسی نے نہیں بتایا تھا کہ یہ جاب خطرناک ہے، لیکن اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ طاقت کی قیمت خون سے چکانی پڑتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر سیاسی رواداری کو فروغ دیا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی لیڈر کو یہ نہ کہنا پڑے کہ اسے "خطرہ" بتایا نہیں گیا تھا۔ 


سیاست کو خدمت رہنے دینا چاہیے، اسے موت کا کھیل نہیں بننا چاہیے۔




Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔