اوپیک اور متحدہ عرب امارات: نئی راہیں، نئے چیلنجز

 



---روما محمود---



گزشتہ چند دہائیوں سے عالمی تیل کی سیاست میں اوپیک (OPEC) کا کردار ایک ایسے خاندان کی طرح رہا ہے جہاں بڑے فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، حالیہ منظر نامے میں متحدہ عرب امارات (UAE) کی جانب سے اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی خواہش اور اقتصادی تنوع کے قومی ایجنڈے نے اس اتحاد میں ایک خاموش مگر واضح ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔



متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں اپنی تیل نکالنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب جب کہ دنیا بتدریج "گرین انرجی" کی طرف بڑھ رہی ہے، امارات کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ وہ اپنی تیل کی دولت کو ختم ہونے یا اس کی مانگ گرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ مارکیٹ میں لا کر اپنے دیگر شعبوں (سیاحت، ٹیکنالوجی اور رئیل اسٹیٹ) کو مضبوط کر سکے۔


دوسری طرف، اوپیک (اور بالخصوص اوپیک پلس) کی جانب سے قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے امارات کے ان وسیع تر معاشی اہداف سے متصادم نظر آتے ہیں۔


یو اے ای کا خود کو ایک آزاد معاشی قوت کے طور پر منوانا صرف تیل تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک ریاست کے اس عزم کا اظہار ہے جو اب صرف ایک بلاک کے فیصلوں کا پابند رہنے کے بجائے اپنے قومی مفاد کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ اگرچہ باقاعدہ علیحدگی کے فیصلے انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں، لیکن اس قسم کی بحث ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کے لیے کافی ہوتی ہے۔


اگر کوئی بھی بڑی معیشت اوپیک جیسے پلیٹ فارم سے دوری اختیار کرتی ہے، تو اس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں:

 

 پیداواری پابندیاں ختم ہونے سے مارکیٹ میں تیل کی فراہمی بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔

  اوپیک کی طاقت اس کے اتحاد میں ہے۔ اگر ایک اہم رکن الگ راستہ اختیار کرتا ہے، تو دیگر ممالک (جیسے نائیجیریا یا انگولا) کے لیے بھی ایسے ہی فیصلے کرنا آسان ہو جائے گا۔

جیو پولیٹیکل تبدیلیاں یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کے روایتی اتحادوں میں ایک نئی دراڑ یا نئی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔


متحدہ عرب امارات کا موقف کسی ضد پر مبنی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی معاشی ضرورت معلوم ہوتا ہے۔ دنیا اب "پوسٹ آئل" دور کی طرف دیکھ رہی ہے، اور ہر ملک اس دوڑ میں خود کو محفوظ مقام پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر اوپیک اپنی پالیسیوں میں لچک نہیں لاتا، تو مستقبل میں کئی دیگر ممالک بھی اپنے "قومی مفاد" کو "گروہی وفاداری" پر ترجیح دیتے نظر آئیں گے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔