انسانی عقل اور شعور کی آخری حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے 'ارادہِ خداوندی' کی وسعت شروع ہوتی ہے۔
---روما محمود---
کائنات کا پورا نظام، ستاروں کی گردش سے لے کر شاخ سے گرنے والے ایک سوکھے پتے تک، سب کچھ اسی ایک قادرِ مطلق کے فیصلے کے تابع ہے۔
ارادہِ خداوندی, تدبیر، تقدیر اور تسلیم
ہماری زندگی کے کینوس پر بکھرے ہوئے رنگ کبھی ہماری مرضی کے ہوتے ہیں اور کبھی ان میں کچھ ایسے نقش ابھرتے ہیں جن کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔
انسان اپنی بساط کے مطابق منصوبہ بندی کرتا ہے، جسے ہم 'تدبیر' کہتے ہیں، لیکن جب وہ تدبیر کسی انجانے موڑ پر ناکام ہوتی ہے، تو وہاں سے 'ارادہِ خداوندی' کا ظہور ہوتا ہے۔
اکثر ہم کسی مقصد کے حصول کے لیے اپنی پوری توانائی صرف کر دیتے ہیں، تمام مادی وسائل بروئے کار لاتے ہیں، مگر نتیجہ وہ نہیں نکلتا جو ہم چاہتے تھے۔ ایسے میں مایوسی کا ایک سایہ دل پر چھانے لگتا ہے۔ لیکن اگر ہم کائنات کے وسیع تر تناظر میں دیکھیں، تو ہماری خواہش اور اللہ کے ارادے میں وہی فرق ہے جو ایک قطرے اور سمندر میں ہوتا ہے۔ ہمارا علم محدود ہے، ہم صرف 'حال' کو دیکھ سکتے ہیں، جبکہ وہ 'الآخر' ہے، جو انجام سے باخبر ہے۔
حکمتِ الٰہی کی پوشیدہ پرتیں
قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے.
"اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم ایک چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔"
ارادہِ خداوندی ہمیشہ عدل اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کسی چیز کا نہ ملنا دراصل ایک بڑی مصیبت سے بچ جانا ہوتا ہے۔ ہم اسے 'محرومی' سمجھتے ہیں، جبکہ وہ حقیقت میں 'حفاظت' ہوتی ہے۔ جب اللہ کا ارادہ ہماری خواہش پر غالب آتا ہے، تو وہ ہمیں کسی بڑے مقصد کے لیے تیار کر رہا ہوتا ہے۔
روحانیت کا عروج یہ ہے کہ انسان اللہ کے ارادے میں اپنی رضا تلاش کر لے۔ جب بندہ یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ میرا خالق میرے حق میں مجھ سے زیادہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، تو اس کے اندر سے بے چینی اور اضطراب ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 'شکوہ' ختم ہوتا ہے اور 'شکر' کی ابتدا ہوتی ہے۔
اپنی پوری محنت اور دیانت سے کوشش جاری رکھیں۔
بھروسہ رکھیں نتائج کو اللہ کے سپرد کر دیں۔
صبر کریں اگر نتیجہ حسبِ منشا نہ ہو، تو یقین رکھیں کہ پسِ پردہ کوئی عظیم حکمت موجود ہے۔
ہماری زندگی ایک ایسی کتاب کی مانند ہے جس کا دیباچہ ہم لکھتے ہیں، لیکن اس کا اختتام اللہ کے ارادے پر ہوتا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اللہ کے فیصلوں پر سرِ تسلیمِ خم کر دے، کیونکہ اللہ کا ارادہ کبھی بندے کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ اسے کندن بنا کر ابھارتا ہے۔
روحانیت محض دنیا کو ترک کر دینے یا گوشہ نشینی کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے باطن کے اس سفر کا نام ہے جہاں انسان اپنے مادی وجود کی قید سے نکل کر حقیقتِ مطلق سے جڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
آج کے مادی دور میں جہاں انسان نے کائنات کی وسعتوں کو تسخیر کر لیا ہے، وہاں وہ خود اپنے اندر چھپے انسان سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ روحانیت دراصل اسی دوری کو ختم کرنے اور اپنی اصل سے جڑنے کا عمل ہے۔ یہ روح کی وہ پکار ہے جو اسے مادیت کی کثافت سے نکال کر لطافت کی طرف لے جاتی ہے۔
روحانیت کیا ہے؟
میرے لیے روحانیت روح کی نیت ہے ۔
روحانیت کا مطلب مذہب سے دوری نہیں، بلکہ مذہب کی روح تک پہنچنا ہے۔ یہ محض ظاہری رسومات کی ادائیگی نہیں، بلکہ ان رسومات کے پیچھے چھپے مقصد اور خالق کے ساتھ ایک زندہ تعلق کا نام ہے۔ جب انسان کا دل آئینے کی طرح صاف ہو جاتا ہے اور اس میں کائنات کے اسرار منعکس ہونے لگتے ہیں، تو اسے روحانی بالیدگی کہتے ہیں۔
باطنی صفائی اور تزکیہِ نفس
روحانیت کی پہلی منزل تزکیہ ہے۔
جس طرح جسم کو لباس اور غسل کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح روح کو حسد، بغض، کینہ، لالچ اور انا جیسی بیماریوں سے پاک کرنا ضروری ہے۔
زبان کی خاموشی سے زیادہ فکر کی خاموشی اہم ہے تاکہ انسان اپنے اندر کی آواز سن سکے۔
کائنات کی نشانیوں اور اپنی ذات کے اندر چھپے عجائبات پر تدبر کرنا روحانی سفر کا لازمی حصہ ہے۔
خود شناسی سے خدا شناسی تک
ایک مشہور قول ہے کہ "جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔"روحانیت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ محض گوشت پوست کا ڈھانچہ نہیں، بلکہ اس کے اندر نورِ الٰہی کی ایک کرن موجود ہے۔ جب انسان اپنی بے بسی اور خالق کی عظمت کو پہچان لیتا ہے، تو اس کے اندر عاجزی پیدا ہوتی ہے، اور یہی عاجزی اسے معرفتِ الٰہی کے قریب لے جاتی ہے۔
روحانیت کا ثمر
سچی روحانیت انسان کو تنہا نہیں کرتی، بلکہ اسے دوسروں کے دکھ درد کا احساس دلاتی ہے۔
صوفیا اور اہل اللہ کی زندگیوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ خالق تک پہنچنے کا راستہ اس کی مخلوق کی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے۔ دل کی نرمی اور دوسروں کے لیے ایثار و قربانی کا جذبہ اس بات کی علامت ہے کہ روح بیدار ہو رہی ہے۔
جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ایک اعلیٰ طاقت کے حکم کے تابع ہے، تو وہ مستقبل کے خوف اور ماضی کے پچھتاووں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ 'اطمینانِ قلب' وہ دولت ہے جو دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے۔
روحانیت ایک مسلسل سفر ہے، یہ کوئی منزل نہیں جہاں پہنچ کر رک جایا جائے۔ یہ ہر لمحہ اپنے ارادوں، خیالات اور افعال کی نگرانی کرنے کا نام ہے۔
جس دن ہم سے ہماری 'انا' کو ارادہ خداوندی چھین لیتی ہے ، وہی ہماری روحانی معراج کا دن ہوتا ہے۔

Comments