انا کی تسکین شعور اور لاشعور کی جنگ۔
---روما محمود---
انسان کی شخصیت میں 'انا' (Ego) ایک ایسے پہرے دار کی مانند ہے جو اس کی خود داری اور بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی انا ضرورت سے بڑھ جائے اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے لگے، تو یہ ایک ایسا شکاری بن جاتی ہے جو انسان کے سکون، رشتوں اور اخلاقیات کا شکار کرنے لگتی ہے۔
اپنی انا کو تسکین پہنچانا ایک ایسا نفسیاتی جال ہے جس میں پھنس کر انسان کو وقتی طور پر تو فتح کا احساس ہوتا ہے، مگر طویل مدت میں وہ تنہائی اور پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔
انا کی تسکین کیا ہے؟
انا کی تسکین کا مطلب ہے اپنی ذات کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کی مسلسل تڑپ۔ یہ جذبہ تب بیدار ہوتا ہے جب انسان یہ چاہنے لگتا ہے کہ ہر بحث میں جیت اسی کی ہو، ہر محفل کا مرکز وہی ہو، اور کوئی اس کی غلطی کی نشاندہی نہ کرے۔
جب ہم اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے اس کا دفاع کرتے ہیں، یا کسی دوسرے کو نیچا دکھا کر فخر محسوس کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی انا کو 'خوراک' فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
اپنی انا کو مطمئن کرنے کے لیے انسان شعوری اور لاشعوری طور پر کئی حربے استعمال کرتا ہے۔
بحث برائے بحث ،اکثر گفتگو کا مقصد سچائی تک پہنچنا نہیں بلکہ دوسرے کو لاجواب کرنا ہوتا ہے۔ "میں نے اسے کیسا کرارا جواب دیا" والا احساس انا کی سب سے بڑی تسکین ہے۔
دوسروں کی تحقیر، کسی کی کمزوری، غربت یا کم علمی کا مذاق اڑانا دراصل اپنی برتری کے احساس کو جلا بخشنے کا ایک طریقہ ہے۔
معافی سے گریز، معافی مانگنے کو چھوٹا پن سمجھنا انا کی بدترین شکل ہے۔ انسان ٹوٹ جاتا ہے مگر "سوری" نہیں کہتا، کیونکہ اسے لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی انا کی دیوار گر جائے گی۔
لوگ اکثر اپنی انا کو 'غیرت' یا 'خود داری' کا نام دے کر اس کا تحفظ کرتے ہیں۔ یاد رکھیے۔
خود داری (Self-Respect) یہ آپ کو دوسروں کے سامنے جھکنے سے بچاتی ہے اور آپ کی عزتِ نفس کا تحفظ کرتی ہے۔
انا (Ego) یہ آپ کو دوسروں کو جھکانے پر مجبور کرتی ہے۔ خود داری میں سکون ہے، جبکہ انا میں ایک مسلسل بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
جو معاشرہ انا کے بتوں کی پوجا کرنے لگے، وہاں مخلص رشتوں کا قحط پڑ جاتا ہے۔ انا کی تسکین سے حاصل ہونے والی خوشی عارضی ہوتی ہے، مگر اس کے نقصانات مستقل ہوتے ہیں۔
انا پرست شخص کبھی اچھا دوست، شریکِ حیات یا ساتھی ثابت نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ہمیشہ 'میں' کو 'ہم' پر فوقیت دیتا ہے۔
جب انسان سمجھ لیتا ہے کہ وہ سب جانتا ہے، تو اس کے علم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
اپنی برتری کو برقرار رکھنے کی کوشش انسان کو ایک نہ ختم ہونے والی دوڑ میں ڈال دیتی ہے، جس کا انجام تھکن اور ذہنی دباؤ ہے۔
انا کو کیسے قابو کیا جائے؟
انا کو مارنا مشکل ہے، مگر اسے تربیت دینا ممکن ہے۔
ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی خاموش رہ کر ہار مان لینا دراصل ضمیر کی جیت ہوتی ہے۔
غلطی مان لینا آپ کو چھوٹا نہیں بلکہ بڑا بناتا ہے۔ یہ عمل انا کے بت کو توڑنے کا پہلا قدم ہے۔
دوسروں کی کامیابی پر خوش ہوں۔ حسد انا کی اولاد ہے، جبکہ دوسروں کی تعریف کرنا ایک وسیع القلب انسان کی پہچان ہے۔
انا ایک آگ کی طرح ہے، اگر اسے قابو میں رکھا جائے تو یہ آپ کی شخصیت کو تپ کر کندن بنا دیتی ہے، لیکن اگر اسے بے لگام چھوڑ دیا جائے تو یہ آپ کے گرد موجود ہر ہرے بھرے رشتے کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے۔
اسے اپنی انا کی تسکین کے لیے دوسروں کو اذیت دینے میں ضائع نہ کریں۔ یاد رکھیے، تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی، ان کو نہیں جنہوں نے صرف اپنی ذات کے مینار اونچے کیے۔
سچی تسکین اپنی انا کو جھکانے میں ہے، اسے پالنے میں نہیں۔

Comments