رکھ رکھاؤ, تہذیب کا جوہر اور شخصیت کا آئینہ.

 




---روما محمود---




اردو زبان کا ایک خوبصورت محاورہ ہے "رکھ رکھاؤ"۔

یہ محض دو الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی، ایک گہری نفسیات اور ایک اعلیٰ سماجی رویے کا نام ہے۔

جب ہم کسی شخص کے بارے میں کہتے ہیں کہ "فلاں شخص بڑا رکھ رکھاؤ والا ہے" تو اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا کہ وہ اچھے کپڑے پہنتا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی گفتگو، اپنے برتاؤ، اپنے معاملات اور اپنی وضع قطع میں ایک خاص توازن اور سلیقے کا حامل ہے۔



رکھ رکھاؤ دراصل انسانی شخصیت کی وہ تراش خراش ہے جو اسے ہجوم میں ممتاز کرتی ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو جانوروں اور غیر مہذب معاشروں سے الگ کر کے ایک باوقار مقام پر فائز کرتی ہے۔

رکھ رکھاؤ کی جڑیں انسانی زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسے چند بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے.

ایک پرانی کہاوت ہے کہ "انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے"۔ جب تک کوئی بولتا نہیں، اس کا عیب اور ہنر دونوں چھپے رہتے ہیں۔ رکھ رکھاؤ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ کہاں بولنا ہے، کتنا بولنا ہے اور کس لہجے میں بولنا ہے۔

بلند آواز میں بات کرنا یا تلخ لہجہ اپنانا رکھ رکھاؤ کے منافی ہے۔

مہذب شخص ہمیشہ ایسے الفاظ چنتا ہے جو دوسروں کی دل آزاری کا باعث نہ بنیں۔

دوسروں کی بات مکمل ہونے تک انتظار کرنا اور بلا ضرورت مداخلت نہ کرنا بھی رکھ رکھاؤ کا حصہ ہے۔

رکھ رکھاؤ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان قیمتی اور برانڈڈ کپڑے پہنے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس موقع اور محل کی مناسبت سے ہو، صاف ستھرا ہو اور اس میں ایک تمکنت جھلکتی ہو۔

استری شدہ کپڑے، سلیقے سے بنے ہوئے بال اور صاف جوتے اس بات کی علامت ہیں کہ انسان خود اپنی ذات کی عزت کرتا ہے۔

اپنی عمر اور سماجی حیثیت کے مطابق لباس کا انتخاب کرنا رکھ رکھاؤ کی ایک اہم کڑی ہے۔

رکھ رکھاؤ کا سب سے کٹھن امتحان سماجی تعلقات میں ہوتا ہے۔ اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ ادب کا برتاؤ کرنا، مہمان کی خاطر تواضع کرنا اور کسی کے گھر جا کر وہاں کے آداب کا خیال رکھنا رکھ رکھاؤ کہلاتا ہے۔

غصے کی حالت میں بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھنا اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑنا رکھ رکھاؤ کی معراج ہے۔

اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا اور دوسروں کے رازوں کی حفاظت کرنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں تو ہمیں برصغیر کی تہذیب، خاص طور پر دہلی اور لکھنؤ کی ثقافت میں رکھ رکھاؤ کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ وہاں "پہلے آپ" کا فلسفہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک طرزِ فکر تھا۔ لوگ اپنی انا کو پیچھے رکھ کر دوسروں کے احترام کو مقدم رکھتے تھے۔

بدقسمتی سے آج کی تیز رفتار اور ڈیجیٹل دنیا میں ہم نے "رکھ رکھاؤ" کو بوجھ سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اسے "تکلف" کا نام دے کر اپنی زندگیوں سے نکال رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں جہاں ہر بات فوراً کہہ دی جاتی ہے اور جہاں پردہ داری کا تصور ختم ہوتا جا رہا ہے، وہاں رکھ رکھاؤ جیسی گراں قدر صفت نایاب ہوتی جا رہی ہے۔

سادگی اور رکھ رکھاؤ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ آپ سادہ رہ کر بھی باوقار ہو سکتے ہیں، لیکن بدتمیز رہ کر کبھی معزز نہیں بن سکتے۔

رکھ رکھاؤ کی اہمیت کیوں ہے؟
آپ سوچ سکتے ہیں کہ آج کے دور میں جہاں کامیابی کا معیار صرف پیسہ ہے، وہاں رکھ رکھاؤ کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے چند اہم فوائد درج ذیل ہیں۔

رکھ رکھاؤ والا شخص ہر محفل کی جان ہوتا ہے۔ لوگ اس کی عزت اس کے عہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور برتاؤ کی وجہ سے کرتے ہیں۔

جب معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے احترام اور حدود کا خیال رکھتے ہیں تو لڑائی جھگڑے کم ہوتے ہیں اور امن و سکون کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

جو شخص اپنے جذبات اور ردعمل میں رکھ رکھاؤ رکھتا ہے، وہ ذہنی طور پر زیادہ پرسکون رہتا ہے۔ اسے بار بار معذرت کرنے یا شرمندگی اٹھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

رکھ رکھاؤ کو زندگی میں کیسے شامل کریں؟

رکھ رکھاؤ کوئی ایسی چیز نہیں جسے بازار سے خریدا جا سکے۔ یہ ایک مسلسل مشق اور تربیت کا نام ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر اپنے رویے کا جائزہ لیں کہ آج آپ سے کوئی ایسی بات تو نہیں ہوئی جو تہذیب کے خلاف تھی؟

اچھے لوگوں کی صحبت میں بیٹھیں اور ایسی کتابیں پڑھیں جو اخلاقیات اور تہذیب سکھاتی ہوں۔

اپنی اور دوسروں کی حدود کا احترام کرنا سیکھیں۔ کسی کی ذاتی زندگی میں مداخلت کرنا رکھ رکھاؤ کے سب سے زیادہ خلاف ہے۔

رکھ رکھاؤ دراصل "انسانیت کا زیور" ہے۔

یہ وہ خوشبو ہے جو انسان کے جانے کے بعد بھی محفل میں بسی رہتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ سے ایک گہوارہِ امن اور مرکزِ تہذیب بنے، تو ہمیں اپنی زندگیوں میں رکھ رکھاؤ کو دوبارہ جگہ دینی ہوگی۔


 یہ محض ایک روایتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک کامیاب اور پروقار زندگی گزارنے کا وہ سنہرا اصول ہے جس کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے اور رہے گی۔

یاد رکھیے، دنیا آپ کی دولت کو بھول سکتی ہے، آپ کی کامیابیوں کو پسِ پشت ڈال سکتی ہے، لیکن آپ کے "رکھ رکھاؤ" اور اچھے برتاؤ کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔