میں، میرا پندار اور یہ احساسِ برتری
---روما محمود---
انسانی معاشرت کا ایک المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں رشتوں اور تعلقات کی بنیاد برابری کے بجائے 'تقابل' پر رکھی جانے لگی ہے۔
اکثر ہمیں ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جو گفتگو کے ہر موڑ پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ پیسے میں ، رتبے میں علم، تجربے، نسب یا پھر صرف اپنی سوچ میں دوسروں سے برتر ہیں۔ یہ احساسِ برتری دراصل ایک ایسی نفسیاتی گرہ ہے جو انسان کو دوسروں سے جوڑنے کے بجائے کاٹ دیتی ہے۔
جب کوئی شخص خود کو دوسروں سے بہتر سمجھتا ہے، تو اس کے پیچھے ہمیشہ اس کی اپنی قابلیت نہیں ہوتی، بلکہ اکثر اوقات یہ ایک گہرا "دفاعی نظام" ہوتا ہے۔
نفسیات دانوں کے مطابق، جو لوگ اندرونی طور پر کسی کمی یا احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں، وہ اپنی اس خامی کو چھپانے کے لیے دوسروں پر برتری جمانا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کا دوسروں کو حقیر سمجھنا دراصل ان کی اپنی انا کو تسکین دینے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہمارے اداروں اور خاندانی نظام میں یہ رویہ عام ہے کہ اگر کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کرے، تو اسے سراہنے کے بجائے اس کی خامیاں تلاش کی جاتی ہیں۔ دوسروں سے خود کو بہتر سمجھنے والا گروہ یہ برداشت نہیں کر پاتا کہ کوئی دوسرا ان کے طے کردہ معیار سے بلند ہو جائے۔
یہ وہی رویہ ہے جسے عالمی سطح پر 'کیکڑوں کی ذہنیت' کہا جاتا ہے، جہاں ٹوکری میں موجود ہر کیکڑا دوسرے کو اوپر چڑھنے سے روکتا ہے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے۔
سقراط کا قول ہے کہ "میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔"
حقیقی علم انسان میں عاجزی پیدا کرتا ہے، جبکہ ادھورا علم اسے تکبر کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔ جب کوئی شخص خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے، تو وہ سیکھنے کے تمام دروازے بند کر دیتا ہے۔ دوسروں کو خود سے کم تر سمجھنے والا یہ بھول جاتا ہے کہ ہر انسان کے پاس ایک منفرد تجربہ اور نقطہ نظر ہوتا ہے جس سےفائدہ اٹھایا جا سکتا ہے
دوسروں سے بہتر ہونے کا معیار کسی کی نیچی نظر یا حقارت آمیز لہجہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اصل برتری اس میں ہے کہ آپ دوسروں کے لیے کتنے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ "بڑا آدمی وہ ہے جس کے پاس بیٹھ کر کوئی دوسرا خود کو چھوٹا محسوس نہ کرے۔"
ہم اپنی انا کے خول سے باہر نکل کر دوسروں کی انفرادیت کو تسلیم کریں اور یہ سمجھیں کہ کمال صرف خالقِ کائنات کی ذات کے لیے ہے، ہم سب تو محض مٹی کے پتلے ہیں جن کی شناخت ان کے اخلاق سے ہے۔

Comments