تربیتِِ قوم خاموشی کی دیوار یا مکالمے کا چراغ؟

 




​--- روما محمود---



​ایک سینئر سیاستدان اور پارلیمیٹ کے پرانے کھلاڑی کا یہ کہنا کہ ’’بچوں کو بڑوں کی گفتگو سے دور رکھنا چاہیے‘‘، محض ایک جملہ نہیں بلکہ اس فرسودہ سوچ کی عکاسی ہے جو صدیوں سے ہمارے معاشرے  کا شکار کیے ہوئے ہے۔

حال ہی میں  سیاستدان کی جانب سے دیا گیا یہ بیان کہ بچوں کو بڑوں کی محفلوں سے دور رہنا چاہیے، نہ صرف دورِ حاضر کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ایسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو نسلِ نو کو صرف ایک 'تابعدار مشین' بنانا چاہتی ہے، ایک 'باخبر شہری' نہیں۔



​اگر ہم ایک ایسے معاشرے کی تعمیر چاہتے ہیں جہاں فیصلہ سازی کی صلاحیتیں موجود ہوں، جہاں تنقیدی سوچ پنپے اور جہاں کے نوجوان اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں، تو ہمیں اس گھسے پٹے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔

ہمارے بزرگوں کا تو یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے ہر اہم معاملہ، چاہے وہ خاندانی ہو یا سماجی، ہمیشہ ہماری موجودگی میں زیرِ بحث لایا۔ یہ کوئی بے احتیاطی نہیں تھی، یہ ایک تربیت تھی تاکہ ہم زمانے کی اونچ نیچ کو سمجھ سکیں۔

​مکالمہ ہی تربیت کی پہلی سیڑھی ہے۔

​بچوں کے سامنے گفتگو کرنا، انہیں وقت سے پہلے بالغ کرنے کا نام نہیں، بلکہ انہیں زندگی کے پیچیدہ مسائل سے روشناس کرانے کا عمل ہے۔ جب والدین اپنے بچوں سے اہم معاملات پر مشورہ کرتے ہیں، تو وہ دراصل انہیں یہ سکھا رہے ہوتے ہیں کہ کسی مسئلے کو کیسے پرکھا جاتا ہے، اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں اور ایک بہتر فیصلہ کیسے لیا جاتا ہے۔

​جو والدین بچوں کو کمرے سے باہر نکال کر دروازہ بند کر لیتے ہیں، وہ دراصل ان کے ذہنوں کے دریچے بند کر رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ بچوں کو گفتگو میں شامل کرتے ہیں، تو آپ ان کے اندر 'فیصلہ کرنے کی صلاحیت' (Decision Making Power) کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ صلاحیت ہی کل کو انہیں ایک بہتر لیڈر، ایک کامیاب پیشہ ور اور ایک باشعور شہری بناتی ہے۔

​سیاستدانوں کی طرح ہمارے تعلیمی نظام میں بھی ایک مخصوص طبقہ ہے جو سمجھتا ہے کہ طالب علم کا کام صرف 'سننا اور لکھنا' ہے۔ اس کے برعکس، میرے ذاتی تجربے میں وہ اساتذہ سب سے عظیم رہے جنہوں نے نصاب سے باہر نکل کر ہم سے ہر پہلو پر بات کی۔ جب استاد ایک طالب علم کے ساتھ سیاسی، معاشی یا سماجی حالات پر گفتگو کرتا ہے، تو وہ اسے محض معلومات فراہم نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ اس کا 'مائنڈ سیٹ' (Mind Set) تعمیر کر رہا ہوتا ہے۔

​ایک ایسا طالب علم جس سے استاد نے کھل کر بات کی ہو، وہ کبھی بھی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ سوال کرنا جانتا ہے، وہ دلیل کو پرکھنا جانتا ہے، اور سب سے بڑھ کر وہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے۔

​اگر ہم بچوں کو دبائیں گے، انہیں یہ باور کرائیں گے کہ 'بڑوں کی بات میں بولنا بے ادبی ہے' تو ہم ایک ایسی قوم تیار کر رہے ہوں گے جو احساسِ کمتری میں مبتلا ہوگی۔ جس قوم کے نوجوانوں کو بولنے کا حق نہ ہو، جس کے بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ صرف حکم ماننا ہی کامیابی ہے، وہاں معاشرتی ارتقاء رک جاتا ہے۔

​احساسِ کمتری کا مارا ہوا انسان کبھی بھی بڑی سوچ نہیں رکھ سکتا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی طرف دیکھے گا، دوسروں کے فیصلوں کا محتاج رہے گا اور اپنی تقدیر خود لکھنے کی ہمت کھو بیٹھے گا۔

ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں ایک بچہ اپنے والد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اختلاف کر سکے، جہاں استاد سے پوچھا جا سکے کہ "آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟" یہ اختلافِ رائے ہی تو ترقی کی بنیاد ہے۔

​سیاستدانوں کے بیانات اور ان کی طرزِ فکر اکثر یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم اب بھی 'انسان' کے طور پر سوچ رہے ہیں یا محض 'انسان نما جانور' بن چکے ہیں؟

​اگر کوئی سیاستدان یہ سمجھتا ہے کہ نئی نسل کو اندھیرے میں رکھنا ہی ان کی بقا ہے، تو وہ دراصل حیوانی جبلت کا مظاہرہ کر رہا ہے، جہاں طاقتور کمزور کو دبائے رکھنا چاہتا ہے۔ ایک انسان، جو عقل و شعور رکھتا ہے، وہ اپنی اگلی نسل کو خود سے زیادہ باشعور، زیادہ طاقتور اور زیادہ سمجھدار دیکھنا چاہتا ہے۔
​جو لوگ کہتے ہیں کہ "بچے ابھی چھوٹے ہیں"، وہ دراصل خود اپنی ذہنی پسماندگی کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ایک بچہ اپنے گھر میں ہونے والی گفتگو سے سیکھتا ہے، تو وہ گھر کے اندر چھپے ہوئے معاشرتی تضادات کو سمجھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کیسے اس کے والد نے مشکل وقت میں صبر کیا، کیسے اس کی ماں نے گھر کے بجٹ کو سنبھالا۔ یہ عملی سبق اسے کسی کتاب یا ڈگری سے نہیں مل سکتے۔

​آج کا دور انفارمیشن کا دور ہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت ایک دس سالہ بچہ دنیا کے ہر کونے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ ہے۔ ایسے میں اگر والدین یا اساتذہ یہ سمجھیں کہ وہ ان سے کوئی بات چھپا لیں گے، تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ آپ معلومات تو چھپا سکتے ہیں، لیکن ان معلومات کی 'صحیح تعبیر' نہیں سکھا سکتے۔ جب آپ بات نہیں کریں گے، تو وہ کسی اور  سے سکھیں گے، اور ہو سکتا ہے کہ وہ غلط راستوں پر نکل جائیں۔

​ہمیں اپنے گھروں اور درسگاہوں کو 'مکالمہ گاہ' بنانا ہوگا۔ جب بچہ گھر میں سنے گا، سمجھے گا اور اپنی رائے کا اظہار کرے گا، تبھی وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کے قابل بنے گا۔

​ہمیں سیاستدانوں کو یہ بتانا ہوگا کہ یہ ملک اب کسی جاگیردارانہ یا آمرانہ سوچ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ ملک ان نوجوانوں کا ہے جو سوال کرنا جانتے ہیں۔

​اگر آپ ایک آزاد اور خود مختار قوم دیکھنا چاہتے ہیں، تو بچوں کے سامنے دروازے نہ بند کریں۔ انہیں اپنے پاس بٹھائیں، ان سے مشورے کریں، انہیں اپنے دکھ اور سکھ کا حصہ بنائیں۔ ایک باشعور بچہ ہی ایک باشعور قوم کا ضامن ہے۔

​جو لوگ بات چیت سے ڈرتے ہیں، وہ دراصل اپنی کمزوریوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ  اب خاموش نہ رہا جائے اپنا مقدمہ خود لڑا جائے۔
اور اپنا راستہ خود بنایا جائے ۔

​فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے کیا ہم اپنی قوم کو صرف 'تابعدار' دیکھنا چاہتے ہیں یا 'باشعور لیڈر'؟

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔