قبولیت کا فن مزاحمت کے خاتمے سے سکون کی تلاش تک
--- روما محمود---
ہماری زندگیوں کا ایک بہت بڑا حصہ ایک ایسی لڑائی میں ضائع ہو جاتا ہے جسے ہم کبھی جیت ہی نہیں سکتے۔ یہ لڑائی ان حقائق کے خلاف ہے جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں، ان حالات کے خلاف ہے جو گزر چکے، اور ان کمزوریوں کے خلاف ہے جو ہماری شخصیت کا حصہ ہیں۔
ہم اکثر اپنی توانائی ان دیواروں سے سر ٹکرانے میں صرف کر دیتے ہیں جو قدرت نے یا وقت کے بہاؤ نے کھڑی کی ہیں۔ اور اس سب کے بیچ، ہم اس ایک حقیقت کو فراموش کر دیتے ہیں کہ سکون جنگ میں نہیں، بلکہ جنگ بندی میں پنہاں ہے۔
"میں مکمل نہیں ہوں"یہ جملہ کہنا بظاہر ایک اعترافِ شکست لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ آزادی کا پہلا زینہ ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف 'کمال' (Perfection) کے معیار طے کر دیے گئے ہیں۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ہمیں ہر صورت میں بہترین نظر آنا ہے، بہترین فیصلہ کرنا ہے، اور اپنی ہر کمزوری کو چھپانا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے اندرونی جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ ہم ایک ایسے نقاب کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارے حقیقی چہرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ہم انسان ہیں اور غلطی کرنا، کمزور پڑ جانا یا کسی صورتحال پر قابو نہ پا سکنا ہماری فطرت کا حصہ ہے، تو کندھوں پر لدا ہوا بوجھ خود بخود ہلکا ہو جاتا ہے۔ قبولیت کا مطلب ہتھیار ڈالنا نہیں، بلکہ حقیقت کو تسلیم کر کے آگے بڑھنے کا نام ہے۔
جنگ وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ہم قدرت کے فیصلوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ ہم اکثر ان واقعات پر نوحہ کناں رہتے ہیں جو تبدیل نہیں ہو سکتے۔ ہم ان لوگوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جو بدلنا نہیں چاہتے، اور ہم ان حالات کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی ضد کرتے ہیں جن کا رخ وقت پہلے ہی متعین کر چکا ہے۔
مزاحمت دراصل 'ہونا' اور 'ہونا چاہیے' کے درمیان کا ٹکراؤ ہے۔ جب تک ہمارا ذہن "ایسا کیوں ہوا؟" کے سوال میں الجھا رہے گا، تب تک ہم سکون کی نعمت سے محروم رہیں گے۔
زندگی ایک دریا کی طرح ہے۔ اگر آپ بہاؤ کے خلاف تیرنے کی کوشش کریں گے، تو تھک کر چور ہو جائیں گے۔ لیکن اگر آپ خود کو بہاؤ کے سپرد کر کے اپنی سمت کا تعین کریں گے، تو سفر آسان ہو جائے گا۔
مزاحمت صرف ہماری توانائیاں نچوڑتی ہے، ہمیں مزید مضطرب کرتی ہے اور ہمارے اندر کا توازن بگاڑ دیتی ہے۔
حقیقی سکون تب ملتا ہے جب ہم اس بات کا ادراک کر لیں کہ ہر چیز ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ہماری کامیابی کا دارومدار اس پر نہیں ہے کہ حالات کیسے ہیں، بلکہ اس پر ہے کہ ہم ان حالات کے سامنے کس طرح کا ردعمل دیتے ہیں۔ اپنی خامیوں کو قبول کرنے کا مطلب انہیں اصلاح سے دستبردار ہونا نہیں ہے، بلکہ انہیں خود سے نفرت کیے بغیر بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہے۔ جب آپ خود کو، اپنی خامیوں سمیت قبول کر لیتے ہیں، تو آپ دوسروں کی غلطیوں کے لیے بھی زیادہ کشادہ دل ہو جاتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ان حصوں کی نشاندہی کریں جہاں ہم غیر ضروری مزاحمت کر رہے ہیں۔ کیا آپ کسی ایسے ماضی کے واقعے کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو گزر چکا؟ کیا آپ خود کو کسی ایسے معیار پر پورا اترنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں جو آپ کی فطرت سے متصادم ہے؟
اس اندرونی جنگ کو ختم کریں۔ ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن پر ہمارا اختیار نہیں۔ قدرت کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا مطلب ہار ماننا نہیں، بلکہ اس عظیم حکمت کو تسلیم کرنا ہے جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جب ہم مزاحمت ترک کر دیتے ہیں، تو سکون کی وہ لہر جو ہمارے اندر سے اٹھتی ہے، وہی ہمیں ان مشکلات سے لڑنے کی اصل طاقت دیتی ہے جو واقعی ہمارے اختیار میں ہیں۔
یاد رکھیں، آپ کا 'نامکمل' ہونا ہی آپ کو 'انسانی' بناتا ہے۔ کمال کی تلاش میں اپنی زندگی کو داؤ پر لگانے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی موجودہ حقیقت کو پورے خلوص کے ساتھ قبول کر لیں۔ جس دن آپ نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑ دیا، اسی دن آپ نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی جنگ جیت لی۔
کیا آپ کی بے چینی اس لیے ہے کہ حالات مشکل ہیں، یا اس لیے کہ آپ ان حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی ضد میں مبتلا ہیں؟

Comments