حج اللہ کا سب سے بڑا اجتماعِ توحید
---روما محمود---
حج اسلام کا پانچواں ستون اور اللہ کی طرف سے انسانیت پر سب سے بڑا احسان ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک عظیم الشان تربیتی کورس ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔
ہر سال لاکھوں مسلمان بیت اللہ کی طرف چلتے ہیں، ایک ہی لباس میں، ایک ہی نعرے کے ساتھ: "لبيك اللهم لبيك"۔ امیر و غریب، سفید و سیاہ، عرب و عجم، سب برابر ہو جاتے ہیں۔ حج انسان کو اپنی حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ وہ خاک کا ذرہ ہے اور اللہ کا بندہ ہے۔
حج فرض ہے اس شخص پر جو استطاعت رکھتا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
"جو شخص حج کرے اور اس میں کوئی فحش بات نہ کرے، نہ کوئی گناہ کرے تو وہ اس دن سے پاک ہو جاتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔" (بخاری و مسلم)
حج صرف طواف اور سعی نہیں، بلکہ یہ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔ جب انسان احرام باندھتا ہے تو دنیا کی سب تعلقات، رتبے اور مال و دولت چھوڑ دیتا ہے۔ دو سفید چادروں میں لپیٹا ہوا انسان قبر کی یاد دلاتا ہے۔
احرام، نیت اور تلبیہ کے ساتھ داخلہ۔
طوافِ کعبہ، بیت اللہ کا سات چکر۔
سعی بین الصفا والمروہ: صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ۔
وقوفِ عرفات، حج کا رُکنِ اعظم۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
مزدلفہ، رات گزارنا اور جمعِ pebbles۔
رمی جمرات: شیطان کو کنکریاں مارنا (نفسِ امارہ کی علامت)۔
قربانی، ابراہیمی سنت کی یاد تازہ کرنا۔
طوافِ زیارت اور طوافِ وداع۔
حج ہمیں سکھاتا ہے کہ
تمام انسان برابر ہیں۔
دنیا فانی ہے، اصل آخرت ہے۔
صبر، قربانی اور اطاعت ہی کامیابی کا راز ہے۔
شیطان کو ہمیشہ کنکری مارتے رہنا چاہیے (برائی سے دور رہنا)۔
آج جب دنیا تقسیم، نفرت اور مادہ پرستی میں گری ہوئی ہے، حج اس کا سب سے بڑا جواب ہے۔ لاکھوں لوگ ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتے ہیں اور پکارتے ہیں۔
لبيك اللهم لبيك۔ یہ منظر دیکھ کر دل کہتا ہے کہ اسلام ہی واحد دین ہے جو انسانیت کو متحد کر سکتا ہے۔
حجۃ الوداع کا آخری خطبہ (خطبہ حجۃ الوداع)
نبی کریم ﷺ نے 9 ذوالحجہ 10 ہجری کو میدانِ عرفات میں جو خطبہ ارشاد فرمایا، وہ انسانیت کا سب سے بڑا منشورِ حقوق ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
اے لوگو! میری بات سنو، کیونکہ مجھے معلوم نہیں، شاید اس کے بعد میں تم سے کبھی مل نہ سکوں۔
1. خون اور مال کی حرمت
"تمہارے خون اور تمہارے مال ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر حرام ہے۔"
2. جاہلیت کی تمام باتیں ختم
"جاہلیت کا ہر معاملہ میرے پاؤں تلے ہے۔ سب ختم۔"
3. سود کا خاتمہ
"سب سے پہلے میں اپنے خاندان کے سود کو ختم کرتا ہوں۔"
4. عورتوں کے حقوق
"اے لوگو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ وہ تمہارے پاس امانت ہیں۔ تم نے ان سے اللہ کے نام پر حق لیا ہے۔ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔"
5. غلاموں کے حقوق
"تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں۔ جو کچھ تم کھاتے ہو، وہی انہیں کھلاؤ۔ جو تم پہنتے ہو، وہی انہیں پہناؤ۔"
6. برادری اور مساوات
"اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے۔ تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔ عربی کو عجمی پر، سفید کو سیاہ پر، اور سیاہ کو سفید پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے۔"
7. وصیت
"میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر انہیں مضبوطی سے تھام لو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ کی کتاب (قرآن) اور میری سنت۔"
آخر میں نبی ﷺ نے فرمایا۔
"کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟"
صحابہ نے کہا۔ "جی ہاں یا رسول اللہ!"
آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہم اشہد" (اے اللہ! تو گواہ رہ)۔
حج کرنے والا ہر شخص اس خطبے کو اپنے دل میں اتار کر واپس لوٹے تو معاشرہ بدل جائے۔ حج صرف ایک فریضہ نہیں، بلکہ ایک انقلاب ہے۔
اللہ ہم سب کو حج مبرور کی توفیق دے اور اس کے سبق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك۔

Comments