پیسہ ہی دین و ایمان ہے، صرف پیسہ ہی رشتہ داری ہے

 



---روما محمود---



آج کے دور میں سب سے بڑا "دین" اور سب سے مضبوط "رشتہ" پیسہ بن چکا ہے۔ باقی سب کچھ ثانوی ہے۔ اخلاق، ایمان، خاندانی اقدار، دوستی، محبت  یہ سب الفاظ اب صرف کتابوں اور خطابوں میں سجاوٹ کے لیے باقی رہ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں پیسہ بولتا ہے، وہاں سب خاموش ہو جاتے ہیں۔

معاشرے میں ایک عجیب تبدیلی آ چکی ہے۔ لوگ اب ایک دوسرے کو دیکھتے نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی جیب دیکھتے ہیں۔



رشتہ داری کا فیصلہ اب خون کے رشتے سے نہیں، بینک بیلنس سے ہوتا ہے۔ لڑکی والے لڑکے کی نوکری، گاڑی، گھر اور ماہانہ آمدنی پوچھتے ہیں۔ لڑکے والے لڑکی کے والد کی حیثیت، جائیداد اور "بیک گراؤنڈ" چیک کرتے ہیں۔ محبت؟ وہ تو اب صرف ڈراموں میں نظر آتی ہے۔

ایک دوست نے مجھ سے کہا، "بھائی، رشتہ دیکھ رہا ہوں۔ لڑکی اچھی ہے مگر فیملی فنانشل کنڈیشن ٹھیک نہیں۔" میں نے پوچھا کہ لڑکی خود کیا کرتی ہے؟ اس نے جواب دیا، "وہ تو صرف گھر سنبھالتی ہے۔" یعنی پیسہ نہ ہو تو کردار، خوبصورتی، تعلیم  سب بے معنی۔

دوسری طرف، امیر گھرانوں میں رشتے بنتے ہی جاتے ہیں چاہے کردار کتنا بھی خراب ہو۔ کیونکہ "لڑکا سٹیبل ہے"۔ سٹیبل کا مطلب؟ پیسے والا۔

دین بھی پیسے کا ہو گیا ہے
مسجد میں امام صاحب خطبہ دیتے ہیں تو لوگ سر ہلاتے ہیں، لیکن جب کوئی پیسہ والا شخص آتا ہے تو اس کی جگہ سب سے آگے ہوتی ہے۔ خیرات دیتے وقت بھی لوگ فوٹو کھنچواتے ہیں کہ کل کو کام پڑے تو فائدہ ہو۔ حج اور عمرہ بھی اب سٹیٹس کا نشان بن گئے ہیں۔ جس نے سعودی عرب زیادہ بار جائے، وہ "زیادہ مذہبی" سمجھا جاتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی یہی حال ہے۔ بچے کو ڈاکٹر یا انجینئر بنانا مقصد نہیں، بلکہ "اچھی تنخواہ والا کیریئر" بنانا مقصد ہے۔ اگر کوئی بچہ فنون لطیفہ یا ادب پڑھے تو گھر والے کہتے ہیں، "اس سے پیٹ نہیں بھرتا۔"

اب بہن بھائی ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ "تمہارا بزنس کیسا چل رہا ہے؟"

والدین اولاد سے محبت کے بجائے پوچھتے ہیں کہ "تنخواہ کتنی ہے؟" بیوی شوہر سے محبت کے بجائے پوچھتی ہے کہ "اگلے مہینے بونس ملے گا؟"
جو شخص پیسہ کما رہا ہے، اس کے سارے قصور معاف۔ جو نہیں کما رہا، اس کے سارے اوصاف بھی قبول نہیں۔

یہ پیسہ پرستی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ لوگ اکیلے، بے چین اور بے اعتبار ہوتے جا رہے ہیں۔ رشتے جب پیسے پر کھڑے ہوں تو جیسے ہی پیسہ کم ہوا، رشتہ بھی ڈگمگا جاتا ہے۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا واقعی پیسہ ہی سب کچھ ہے؟ کیا دولت کے بغیر کوئی خوش رہ سکتا ہے؟ کیا دولت کے ساتھ بھی کوئی خوش ہے؟
پیسہ اہم ہے، ضروری ہے، مگر جب یہ دین اور رشتوں پر غالب آ جائے تو پھر یہی پیسہ سب سے بڑا زہر بن جاتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کیا ہم اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہیں، یا اب بھی خوبصورت الفاظ میں خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے؟

آج کا انسان مادی پرستی (Materialism) کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ پیسہ، مال، گاڑی، گھر، برانڈڈ کپڑے، تازہ ترین فون  یہ سب کچھ نہ صرف ہماری خواہشات بلکہ ہماری شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں۔ لیکن اس مادی دوڑ کے نفسیاتی اثرات انتہائی گہرے اور خطرناک ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ جتنا زیادہ ہم مادی چیزوں کو خوشی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اتنا ہی زیادہ ہم بے چینی، اداسی اور خالی پن کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔

خوشی کا دھوکہ (Hedonic Treadmill)
مادی پرستی کا سب سے بڑا جال یہ ہے کہ خوشی ہمیشہ "اگلے مرحلے" میں نظر آتی ہے۔ نیا فون خرید لیں تو دو ہفتے بعد ایک اور نیا ماڈل دیکھ کر بے چینی ہو جاتی ہے۔ بڑا گھر لے لیں تو پڑوسی کا اور بھی بڑا گھر دیکھ کر حسد ہونے لگتا ہے۔ یہ "ہیڈونک ٹریڈمل" کہلاتا ہے ۔
آپ دوڑتے رہتے ہیں مگر منزل قریب نہیں آتی۔ نتیجہ؟ مستقل عدم تسلی اور بے چینی۔

اضطراب اور ڈپریشن میں اضافہ
مطالعات بتاتی ہیں کہ مادی پرستی سے وابستہ لوگوں میں اضطراب (Anxiety) اور ڈپریشن کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کی خودی (Self-worth) بیرونی چیزوں پر منحصر ہو جاتی ہے۔ اگر تنخواہ کم ہو گئی، کاروبار میں نقصان ہوا یا سوشل میڈیا پر کوئی اور زیادہ شاندار زندگی دکھانے لگا تو خود اعتمادی زمین بوس ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان اپنی کامیابی کو صرف پیسہ اور لائکس کی تعداد سے ناپتے ہیں۔ ناکامی کو ذاتی ناکامی سمجھا جاتا ہے، جس سے ذہنی دباؤ بڑھتا ہے۔

مادی پرستی تعلقات کو زہر آلود کر دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو "استعمال" کی نظر سے دیکھنے لگیں تو محبت، ہمدردی اور قربانی کی جگہ حسد، مقابلہ اور فائدہ کا حساب لینا شروع ہو جاتا ہے۔
والدین بچوں سے محبت کے بجائے ان کی "فائننشل ویلیو" پوچھتے ہیں۔ بیوی شوہر سے پیار کے بجائے اس کی آمدنی پوچھتی ہے۔ دوستیاں بھی "کیا فائدہ ہو سکتا ہے" پر منحصر ہو جاتی ہیں۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باہر سے امیر نظر آنے والا شخص اندر سے تنہا ہوتا جاتا ہے۔

ماہر نفسیات ٹم کاسر (Tim Kasser) نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ جو لوگ مادی اہداف کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، ان کی ذہنی صحت کمزور ہوتی ہے اور انہیں زندگی میں معنویت (Meaningfulness) کم محسوس ہوتی ہے۔ وہ دولت بڑھانے میں لگے رہتے ہیں مگر اندر سے ایک خلا محسوس کرتے ہیں جو کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔

انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور فیس بک نے مادی پرستی کو ہوا دی ہے۔ لوگ اپنی زندگی کا بہترین لمحہ فلٹر لگا کر دکھاتے ہیں۔ دوسرا شخص اسے دیکھ کر سوچتا ہے کہ "میری زندگی تو برباد ہے"۔ یہ مسلسل موازنہ ذہن کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
کیا حل ہے؟
مادی پرستی کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ پیسہ زندگی کے لیے ضروری ہے، مگر جب یہ زندگی کا واحد مقصد بن جائے تو تباہی لاتا ہے۔

رشتے، صحت، ذاتی ترقی اور اللہ کی یاد کو ترجیح دیں۔

جو کچھ ہے اس پر شکر ادا کرنے کی عادت ڈالیں۔

چیزوں کی بجائے یادگار لمحات (خاندان کے ساتھ وقت، سفر، سیکھنا) پر توجہ دیں۔

سوشل میڈیا کا استعمال کم کریں اور حقیقی زندگی میں واپس آئیں۔

مادی پرستی ہمیں امیر تو بنا سکتی ہے، مگر خوش نہیں۔ اصل دولت وہ ہے جو دل کو سکون دے۔ جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لے، وہی درحقیقت کامیاب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔