ایک ایسا سفر جس کا انجام طے ہے "اب جو ہو سو ہو" کا فلسفہ

 



---روما محمود---



"زمانے میں نے تیری ہر بات یہ کہہ کر ٹال دی

اب جو ہو سو ہو، کشتی دریا میں ڈال دی"


​یہ دو مصرعے محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت کا نام ہیں جس تک پہنچنے میں انسان کی پوری زندگی صرف ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان مصلحتوں کی زنجیریں توڑ کر، نتائج کے خوف کو پسِ پشت ڈال کر، اپنے اندر کی آواز کو لبیک کہتا ہے۔



​مصلحتوں کا حصار اور انسان کا المیہ

​ہماری زندگی کا ایک بڑا حصہ "لوگ کیا کہیں گے" کے خوف میں گزر جاتا ہے۔ معاشرہ، خاندان، دوست احباب—سب کے سب ہم پر توقعات کا ایک ایسا بوجھ لاد دیتے ہیں کہ ہم اپنی اصل ذات کو بھول جاتے ہیں۔ ہم ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو ہماری اپنی نہیں، بلکہ معاشرے کی مرتب کردہ ہوتی ہے۔

​ہم ہر قدم پر زمانے سے ڈرتے ہیں۔ کوئی فیصلہ کرتے وقت ہم یہ نہیں سوچتے کہ آیا یہ فیصلہ ہمیں خوشی دے گا یا نہیں، بلکہ یہ سوچتے ہیں کہ اس فیصلے کے ردِ عمل میں معاشرہ کیا رائے قائم کرے گا۔ اس "ٹال مٹول" میں زندگی کے بہترین سال ضائع ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے خوابوں کو دباتے ہیں، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹتے ہیں، اور یہ سب صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ زمانے کی تلخ زبان سے بچ سکیں۔

​"اب جو ہو سو ہو" کا جرات مندانہ فیصلہ

​لیکن ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان اس تمام مصلحت پسندی سے اکتا جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی محدود ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ دوسروں کو خوش کرنے میں گزر چکا ہے۔ تب وہ کہتا ہے: "اب جو ہو سو ہو"۔

یہ جملہ لاپرواہی نہیں، بلکہ ایک انتہائی جرات کا اظہار ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب میں اپنے فیصلوں کا خود ذمہ دار ہوں۔ اب مجھے پرواہ نہیں کہ طوفان کتنے شدید ہوں گے، اب مجھے ڈر نہیں کہ ساحل ملے گا یا نہیں ۔ میں نے کشتی دریا میں ڈال دی ہے۔


​جب آپ کشتی دریا میں ڈال دیتے ہیں، تو آپ کا مقصد صرف منزل نہیں رہتا، بلکہ وہ سفر خود ایک مقصد بن جاتا ہے۔ آپ لہروں سے لڑنا سیکھتے ہیں، آپ سمندر کی گہرائیوں کا سامنا کرنا سیکھتے ہیں، اور آپ کو یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ زندگی کا لطف محفوظ ساحل پر کھڑے ہونے میں نہیں، بلکہ موجوں کے ساتھ ہم قدم ہونے میں ہے۔


​تبدیلی اور غیر یقینی کا استقبال


​زندگی میں سب سے بڑا خوف "غیر یقینی" (Uncertainty) ہے۔ ہم ہمیشہ ایک ایسے مستقبل کی خواہش کرتے ہیں جو محفوظ ہو، جس میں خطرات نہ ہوں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ سکون اور حفاظت میں جمود ہوتا ہے۔ حقیقی زندگی تبدیلی میں ہے۔


​جب آپ کہتے ہیں "اب جو ہو سو ہو"، تو آپ دراصل کائنات کی تبدیلیوں کو گلے لگا رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ کنٹرول آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے، بلکہ آپ کی کوشش میں ہے۔ اور جب آپ اپنی کوشش کو اپنی تقدیر مان لیتے ہیں، تو خوف ختم ہو جاتا ہے۔


​یہ شعر ایک طرح سے عشق اور زندگی کی ایک ایسی کشمکش کی ترجمانی کرتا ہے جہاں انسان اپنے جذبات کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ جب کوئی چیز آپ کے وجود کا حصہ بن جائے، جب کوئی مقصد یا کوئی شخصیت آپ کی روح میں اتر جائے، تو پھر دنیا کی ہر منطق بے معنی ہو جاتی ہے۔

​اس مقام پر پہنچنے والے لوگ اکثر "دیوانے" یا "باغی" کہلاتے ہیں۔ لیکن کیا یہی وہ لوگ نہیں ہیں جنہوں نے تاریخ بدلی ہے؟ کیا تمام عظیم سائنسدان، مفکرین اور فنکار اسی کیفیت سے نہیں گزرے؟ انہوں نے بھی تو معاشرے کی روایات کو ٹال دیا تھا، انہوں نے بھی اپنی "کشتی" نامعلوم دریاؤں میں ڈال دی تھی۔


"کشتی دریا میں ڈال دینا" دراصل اپنی خودی کی تلاش ہے۔ یہ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ جب آپ حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتے، بلکہ حالات کو اپنی مرضی سے چلانے کا عزم کرتے ہیں، تب آپ کی زندگی کا اصل رنگ نکل کر سامنے آتا ہے۔

​یقیناً، یہ راستہ پرخطر ہے۔ دریا میں بھنور بھی ہوں گے، چٹانیں بھی ہوں گی، اور شاید ایسا بھی ہو کہ کشتی ہچکولے کھائے۔ لیکن کیا وہ زندگی زیادہ بہتر نہیں جو ایک طوفانی دریا میں بسر ہو، بجائے اس کے کہ وہ کسی جوہڑ کے کنارے دم توڑ دے؟


​آخر میں، یہ دو مصرعے ہمیں ایک نیا فلسفہ حیات دیتے ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ

  1. اپنے آپ پر بھروسہ رکھیں۔ زمانے کی تنقید آپ کے سفر کو روک نہیں سکتی، اگر آپ کا ارادہ مضبوط ہے۔
  2. خوف کو ختم کریں۔ جس دن آپ نے نتائج کے خوف سے چھٹکارا پا لیا، اسی دن سے آپ حقیقی معنوں میں جینا شروع کر دیں گے۔
  3. سفر کو انجوائے کریں۔ منزل ملے نہ ملے، یہ سفر ہی آپ کو وہ تجربات دے گا جو زندگی کی اصل دولت ہیں۔


 ہم اپنی زندگی کے ان تمام فیصلوں کو، جو ہم نے "لوگوں کے ڈر" سے التواء میں ڈال رکھے ہیں، اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے۔ ڈریں مت، مصلحتیں چھوڑ دیں، اور اپنی کشتی کو زندگی کے وسیع و عریض دریا میں ڈال دیں۔ کیونکہ جب آپ اپنی ذات کے ساتھ سچے ہو جاتے ہیں، تو پھر چاہے کچھ بھی ہو ۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔