Repulsive انسان اور ہماری سوچ

 



---روما محمود---




لوگ کسی کو "repulsive" یا ناگوار کیوں کہتے ہیں، اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور ذاتی نوعیت کی کئی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے کراہت یا بیزاری کا سبب بنتا ہے، تو اس کا تعلق اکثر غیر شعوری ردعمل (Unconscious reaction) سے ہوتا ہے۔


یہاں اس رویے کی چند اہم وجوہات ہیں۔


غیر شعوری دفاعی نظام (Unconscious Defense Mechanism)۔

​نفسیاتی اعتبار سے، ہم اکثر ایسی چیزوں یا افراد کو "repulsive" قرار دیتے ہیں جو ہمارے اپنے "سائے" (Shadow) کی عکاسی کرتے ہیں۔ کارل یونگ کے نظریے کے مطابق، جو نقائص ہم اپنے اندر قبول نہیں کرنا چاہتے، جب ہم وہی نقائص کسی دوسرے میں دیکھتے ہیں تو ہمیں شدید کراہت محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک طرح کا دفاعی نظام ہے جو ہمیں اپنی خامیوں سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

سماجی و تہذیبی اصولوں کی خلاف ورزی
​ہر معاشرے کے کچھ طے شدہ سماجی آداب ہوتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان اخلاقی یا سماجی حدود کو پامال کرتا ہے، تو لوگ اسے 'ناگوار' یا 'repulsive' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ ردعمل معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:
• ​مبالغہ آمیز خود پسندی (Narcissism)۔
• ​دوسروں کی توہین یا بے جا تنقید۔
• ​غیر اخلاقی رویے یا بدتمیزی۔

غیر صحت مندانہ یا غیر متوازن رویے
​طبی اور حیاتیاتی تناظر میں، انسان فطری طور پر ان چیزوں یا رویوں سے دور بھاگتا ہے جو اسے "غیر محفوظ" محسوس ہوں۔

حد سے زیادہ تحرک (Impulsivity: اگر کوئی شخص بہت زیادہ جذباتی، غیر متوقع یا بے لگام رویہ اپناتا ہے، تو لوگ اس کی غیر متوقع حرکات کو ناگوار سمجھنے لگتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے لیے عدم تحفظ کا باعث بنتا ہے۔

ذاتی صفائی یا حواس: اکثر اوقات لفظ 'repulsive' کا استعمال شخصی حفظانِ صحت یا جسمانی حرکات کے لیے بھی کیا جاتا ہے، جو براہِ راست انسان کے حیاتیاتی تحفظ کے نظام کو متحرک کرتا ہے۔

نظریاتی اور فکری اختلاف
​آج کل کے دور میں 'repulsive' کا لفظ اکثر فکری اختلافات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جب کسی کے خیالات، نظریات یا عقائد ہمارے اپنے بنیادی اقدار سے مکمل طور پر متضاد ہوتے ہیں، تو ہم اسے مسترد کرنے کے لیے کراہت کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ دراصل ایک طرح کا "فکری تعصب" ہے جہاں ہم اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے اپنی ذات پر حملہ سمجھتے ہیں۔

خوف اور عدم اعتماد
​بعض اوقات ہم کسی کو 'repulsive' صرف اس لیے کہتے ہیں کیونکہ ہم اسے "سمجھ" نہیں پاتے۔ نامعلوم چیزوں سے خوفزدہ ہونا انسانی فطرت ہے۔ اگر کسی کا رویہ ہماری سمجھ سے باہر ہو یا وہ ہمارے آرام دہ دائرے (Comfort zone) کو چیلنج کرے، تو ہمارا ذہن خود بخود اسے ناگوار قرار دے کر اس سے دوری اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔

کسی کو 'repulsive' قرار دینا اکثر اس شخص کے بارے میں کم اور کہنے والے کے اپنے معیارات، خوف اور نفسیاتی ساخت کے بارے میں زیادہ بتاتا ہے۔ یہ لفظ اس بات کی علامت ہے کہ سامنے والا شخص ہمارے لیے "قابلِ قبول" نہیں رہا، چاہے اس کی وجہ ہماری اپنی داخلی کشمکش ہو یا اس شخص کا حقیقی نامناسب رویہ۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔