ڈیورنڈ لائن، تاریخ کے آئینے میں ایک لکیر جو سرحد بن گئی

 

 


----روما محمود---




پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود سرحد، جسے 'ڈیورنڈ لائن' کہا جاتا ہے، محض مٹی پر کھینچی گئی ایک لکیر نہیں بلکہ یہ خطے کی تاریخ، سیاست اور جغرافیہ کا ایک انتہائی پیچیدہ باب ہے۔ 

 

​پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 2,640 کلومیٹر طویل سرحد نہ صرف دو ممالک کو جدا کرتی ہے بلکہ یہ دو مختلف سیاسی نظریات اور تاریخی تنازعات کا مرکز بھی رہی ہے۔ اس سرحد کو سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے اس دور میں جانا پڑے گا جب دنیا "گریٹ گیم" (Great Game) کے سحر میں مبتلا تھی۔


 


​12 نومبر 1893ء کو برطانوی ہند کے خارجہ سیکرٹری سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کے امیر، امیر عبدالرحمن خان کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت اس سرحد کا تعین کیا گیا۔ اس وقت برطانوی راج کو یہ فکر لاحق تھی کہ زارِ روس وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا کہیں برصغیر پر حملہ آور نہ ہو جائے۔ اس ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے انگریزوں نے افغانستان کو ایک "بفر سٹیٹ" (Buffer State) کے طور پر استعمال کیا اور اپنی حدود کے تحفظ کے لیے ڈیورنڈ لائن کھینچ دی۔

​ڈیورنڈ لائن کے قیام کے پیچھے تین بڑے مقاصد تھے۔

برطانوی ہند کا تحفظ: روس کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک واضح حد بندی ضروری تھی۔

قبائلی علاقوں کا نظم و ضبط: برطانوی حکومت چاہتی تھی کہ وہ قبائل جو مسلسل مزاحمت کر رہے تھے، انہیں جغرافیائی حدود میں بانٹ کر ان پر کنٹرول آسان بنایا جائے۔

اثر و رسوخ کی تقسیم: اس لکیر کے ذریعے یہ طے پایا کہ کون سا علاقہ کابل کے زیرِ اثر ہوگا اور کون سا لندن (برطانوی ہند) کے۔

​پاکستان اور افغانستان کے درمیان صرف پہاڑ نہیں بلکہ وہ راستے بھی ہیں جو صدیوں سے تجارت کا ذریعہ رہے ہیں۔ آج کے دور میں چند اہم ترین پوائنٹس یہ ہیں۔

طورخم بارڈر (خیبر پختونخوا): یہ سب سے مصروف ترین تجارتی اور پیدل آمدورفت کا راستہ ہے جو پشاور کو کابل سے ملاتا ہے۔
یہ تاریخی درہ خیبر کا حصہ ہے اور کابل و پشاور کو جوڑنے والا سب سے بڑا تجارتی راستہ ہے۔

• چمن (بلوچستان): یہ قندھار اور کوئٹہ کے درمیان تجارت کا مرکز ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں لوگ اور مال بردار ٹرک گزرتے ہیں۔یہ دوسرا بڑا بارڈر پوائنٹ ہے، جو بلوچستان کے شہر چمن کو افغانستان کے صوبہ قندھار سے جوڑتا ہے۔

غلام خان اور انگور اڈہ: یہ وزیرستان کے علاقے میں واقع ہیں اور حالیہ برسوں میں انہیں تجارتی مقاصد کے لیے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔

غلام خان بارڈر (شمالی وزیرستان): یہ شمالی وزیرستان اور صوبہ خوست کے درمیان ایک اہم تجارتی راستہ ہے۔

انگور اڈہ (جنوبی وزیرستان): یہ بھی ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے جو جنوبی وزیرستان کو افغانستان سے ملاتی ہے۔

خرلاچی بارڈر (کرم ایجنسی): یہ گزرگاہ کرم ایجنسی کو افغانستان کے صوبہ پکتیا سے ملاتی ہے۔

بادینی بارڈر (بلوچستان): یہ بلوچستان میں واقع ایک اور سرحدی گزرگاہ ہے۔

​پاکستان کے لیے ڈیورنڈ لائن ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد ہے، جس کی حفاظت کے لیے پاکستان نے سرحد پر خاردار تار (Fencing) بھی لگائی ہے۔ تاہم، افغانستان کی مختلف حکومتوں نے تاریخی طور پر اس سرحد کو تسلیم کرنے سے گریز کیا ہے، ان کا موقف رہا ہے کہ یہ معاہدہ ایک مخصوص وقت کے لیے تھا، جبکہ پاکستان اور بین الاقوامی برادری (بشمول اقوامِ متحدہ) اسے مستقل سرحد مانتے ہیں۔

​آج کے دور میں یہ سرحد صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی شہ رگ بھی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لیے پاکستان کا افغانستان کے ساتھ ان سرحدوں پر پرامن ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی جانب سے کی گئی باڑ بندی کا مقصد غیر قانونی نقل و حمل اور دہشت گردی کو روکنا ہے، تاکہ دونوں ممالک کے عوام سکون کا سانس لے سکیں۔

ڈیورنڈ لائن ایک تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ یہ لکیر برطانوی مفادات کے لیے کھینچی گئی تھی لیکن آج یہ پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کا حصہ ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک اس سرحد کو احترام اور تعاون کی علامت بنائیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر باڑ لگانے کا منصوبہ محض ایک تعمیراتی کام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا ایک اہم ترین ستون ہے۔ ذیل میں اس منصوبے کی تفصیلات اور اس کے سکیورٹی پر اثرات کا جائزہ پیش ہے۔

​پاکستان نے 2017 میں اس عظیم الشان منصوبے کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد سرحد پار سے ہونے والی غیر قانونی نقل و حمل اور دہشت گردی کو روکنا تھا۔

دہشت گردی کا تدارک: ماضی میں دہشت گرد با آسانی سرحد پار کر کے پاکستان میں حملے کرتے تھے اور پھر واپس چلے جاتے تھے۔ باڑ نے ان کی اس آزادانہ نقل و حرکت کو محدود کر دیا ہے۔

سمگلنگ پر قابو: سرحد کے دونوں اطراف غیر قانونی سامان کی تجارت (سمگلنگ) سے ملکی معیشت کو اربوں کا نقصان ہوتا تھا۔ باڑ کی وجہ سے اب تجارت صرف قانونی گزرگاہوں (Terminals) سے ہو رہی ہے۔

منشیات کی روک تھام: افغانستان سے منشیات کی ترسیل کو روکنے کے لیے بھی یہ باڑ ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔

طوالت: یہ باڑ تقریباً 2,600 کلومیٹر سے زائد طویل ہے۔

ڈبل فینسنگ: سرحد پر دو تہوں پر مشتمل لوہے کی باڑ لگائی گئی ہے، جس کے درمیان خاردار تاریں موجود ہیں۔ اس کی اونچائی تقریباً 11 فٹ ہے۔

جدید نگرانی: صرف باڑ ہی نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں نئے قلعے (Forts) تعمیر کیے گئے ہیں۔ ان قلعوں میں جدید کیمرے، سینسرز اور نائٹ ویژن آلات نصب ہیں جو رات کے اندھیرے میں بھی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔

​باڑ بندی کے مکمل ہونے کے بعد سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔

کراس بارڈر فائرنگ میں کمی: سرحد پار سے ہونے والے حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

نظم و ضبط: اب سرحد پار کرنے کے لیے پاسپورٹ اور ویزا کی شرط کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس سے 'دوطرفہ نقل و حرکت' (Two-way movement) کو ریگولیٹ کرنا آسان ہو گیا ہے۔

امن و امان: سرحدی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، جس سے وہاں ترقیاتی کاموں کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

​اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا رہا ہے۔

افغان حکومت کا موقف: افغانستان میں چاہے پچھلی حکومتیں ہوں یا موجودہ طالبان انتظامیہ، وہ تاریخی طور پر اس سرحد کو متنازع سمجھتے ہیں اور اکثر باڑ لگانے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ کئی مقامات پر باڑ کو نقصان پہنچانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔

مقامی قبائل: سرحد کے دونوں اطراف آباد قبائل کی رشتہ داریاں اور زمینیں تقسیم ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے مقامی سطح پر کچھ تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پاکستان نے ان کے لیے مخصوص 'راہداری' پوائنٹس بھی بنائے ہیں۔

​پاکستان کا موقف واضح ہے کہ ایک پرامن سرحد ہی ایک پرامن ملک کی ضمانت ہے۔ باڑ بندی مکمل ہونے کے بعد اب پاکستان کی توجہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم (BMS) کو مزید ڈیجیٹل کرنے پر ہے تاکہ تجارت میں آسانی ہو اور سکیورٹی بھی ناقابلِ تسخیر رہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔