​جنگی تجارت اور خون کی پکار ۔ کیا جنگیں صرف سامان بیچنے کے لیے ہیں؟

 





​---روما محمود---




​دنیا بھر میں جب بھی کہیں بارود کی بو آتی ہے، جب بھی معصوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں، اور جب بھی گھروں کے گھر ملبے کا ڈھیر بنتے ہیں، تو انسانیت کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لیکن ان تباہ حال مناظر کے پس منظر میں، ایک ایسی مکروہ حقیقت بھی چھپی ہے جو اخلاقیات سے عاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ دور کی جنگیں صرف زمین، نظریے یا دفاع کے لیے لڑی جا رہی ہیں، یا ان کے پیچھے ایک بہت بڑی تجارتی سازش کارفرما ہے؟


​یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جدید جنگی مشینری ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ اسلحہ ساز کمپنیاں، جن کا تعلق زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک سے ہے، جنگوں کے ذریعے اربوں ڈالر کماتی ہیں۔ جب کسی خطے میں تناؤ بڑھتا ہے، تو ان کمپنیوں کے شیئرز آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ امن ان کے کاروبار کے لیے زہرِ قاتل ہے، جبکہ جنگ ان کے لیے زندگی کی علامت ہے۔

​تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے تنازعات کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا، لیکن انہیں جان بوجھ کر طول دیا گیا تاکہ اسلحے کی کھپت جاری رہے۔ جنگ زدہ علاقوں میں جدید ترین میزائل، ڈرون، اور ٹینک آزمائے جاتے ہیں، اور پھر ان کے نتائج کی بنیاد پر عالمی مارکیٹ میں ان کی قیمتیں طے کی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا بھیانک چکر ہے جہاں انسانوں کی جان کی قیمت چند گولہ بارود کے برابر رہ جاتی ہے۔

عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایک طرف وہ امن کے علمبردار بنتے ہیں، تو دوسری طرف وہ جنگ میں فریقین کو اسلحہ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کاروبار صرف گولیوں تک محدود نہیں، بلکہ جاسوسی کے آلات، سیکیورٹی سسٹم اور جنگی حکمت عملی کے مشورے بھی اسی تجارت کا حصہ ہیں۔

​اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کا ہوتا ہے۔ جو ممالک جنگ کی آگ میں جل رہے ہیں، ان کے وسائل ترقی کے بجائے تباہی پر خرچ ہو رہے ہیں۔ صحت اور تعلیم کے بجٹ کو دفاعی بجٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ نسلوں کی پسماندگی کی صورت میں نکلتا ہے۔


جنگوں کے نتیجے میں اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہونے والا منافع اربوں ڈالر میں ہے، اور یہ منافع مسلسل بڑھ رہا ہے۔

​تازہ ترین اطلاعات کے مطابق:

  • ریکارڈ آمدنی: دنیا کی 100 سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مشترکہ آمدنی 2024 میں ریکارڈ 679 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ 2023 کے مقابلے میں تقریبا 6 فیصد زیادہ ہے۔
  • امریکی کمپنیوں کا غلبہ: عالمی اسلحے کی فروخت کا تقریبا 50 فیصد صرف امریکی کمپنیوں کے حصے میں آتا ہے۔
  • جنگ سے براہ راست تعلق: یوکرین اور غزہ جیسے تنازعات کی وجہ سے ان کمپنیوں کے آرڈرز میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، مغربی ممالک اپنے اسلحے کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے کے لیے ان کمپنیوں کو کھربوں روپے کے ٹھیکے دے رہے ہیں۔
  • کمپنیوں کے شیئرز: جیسے ہی جنگ کی خبریں آتی ہیں، لاک ہیڈ مارٹن (Lockheed Martin)، آر ٹی ایکس (RTX)، نارتھروپ گرومین (Northrop Grumman) اور بی اے ای سسٹمز (BAE Systems) جیسی بڑی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔

​مختصراً یہ کہ انسانی خون کی قیمت ان کمپنیوں کے لیے تجارتی منافع کی صورت میں اکٹھی کی جا رہی ہے۔

​آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جنگیں صرف زمین پر نہیں لڑی جاتیں، بلکہ یہ معاشی اور صنعتی مفادات کا بھی کھیل ہیں۔ جب تک انسانی جان کی قدر تجارتی منافع سے زیادہ نہیں ہوگی، دنیا کو اس تباہ کن چکر سے نکالنا مشکل ہے۔ امن کا قیام صرف ہتھیار ڈالنے سے نہیں، بلکہ ہتھیار بنانے اور بیچنے کی اس ہوس کو ختم کرنے سے ہی ممکن ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔