انسانی فطرت بھی پاگل پن کی حد تک عجیب ہے ۔ جانوروں کی طرح چلنا۔
--روما محمود--
یوٹیوب میں ایک ویڈیو دیکھی جہاں ایک لڑکی جانوروں کی طرح چل اور بھاگ رہی ہے ۔ وہ یہ سب چھے سال کی عمر سے کر رہی ہے۔
پاکستان میں عموماً بچوں سے پوچھا جائے کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے، تو جواب ڈاکٹر، انجینئر یا اب 'انفلونسر' ملتا ہے۔
لیکن اس لڑکی آئیلا نے چار سال کی عمر میں ہی ان سب سے ہٹ کر ایک ایسی راہ چنی جو مادی دنیا کے بجائے 'فطرت' سے جڑی تھی۔ اس نے پہلے کتوں کی طرح چار پاؤں پر چلنا شروع کیا اور پھر اسے گھوڑوں کی شاہانہ چال نے مسحور کر دیا۔
ایک ایسی 'فینٹسی' ہے جو انسان کو اپنی انا سے نکال کر ایک معصوم مخلوق کے سانچے میں ڈھلنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آئیلا کی کہانی کو اگر ہم گہرائی سے دیکھیں، تو یہ محض ایک بچگانہ ضد نہیں بلکہ انسانی فطرت (Human Nature) کے ان پوشیدہ پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے جو آج کی مشینی زندگی میں کہیں کھو گئے ہیں۔
انسانی فطرت پیدائشی طور پر آزاد اور بناوٹ سے پاک ہوتی ہے۔
آئیلا کا چار سال کی عمر میں ایک جانور بننے کا خواب دیکھنا اس کی اسی خالص جبلت کا اظہار تھا۔ وہ ایک ایسی دنیا کا حصہ بننا چاہتی تھی جہاں جھوٹ، حسد اور سماجی دباؤ نہیں ہوتا۔ کتے یا گھوڑے کی طرح چلنا دراصل اس 'بناوٹ' سے فرار تھا جو بڑے ہوتے ہی انسان پر مسلط کر دی جاتی ہے۔
انسان فطرتی طور پر 'کمال' کا طالب ہے۔ آئیلا نے جب پلے (Puppies) کے مقابلے میں گھوڑوں کو ترجیح دی، تو اس کی وجہ ان کا وقار اور نبلت (Grace and Nobility) تھی۔
جوناتھن سوئفٹ نے اپنی کتاب میں گھوڑوں کی جس نسل 'ہوئی ہنمس' (Houyhnhnms) کا ذکر کیا، وہ دراصل عقل اور اخلاقی برتری کا استعارہ تھے۔
انسانی فطرت ہمیشہ طاقتور، خوبصورت اور ذہین مخلوق کی طرف مائل ہوتی ہے، اور آئیلا نے گھوڑوں میں اسی 'تکمیل' کو پایا۔
آج کا پاکستانی نوجوان سیمنٹ کے جنگلوں اور اسکرینوں کے حصار میں قید ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ زمین، مٹی اور دیگر جانداروں کے ساتھ جڑا رہے، لیکن ہم نے اسے 'ڈیجیٹل دنیا' سے بدل دیا ہے۔
آئیلا کی یہ تڑپ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
ہم جتنا فطرت سے دور ہوں گے، اتنے ہی ذہنی تناؤ کا شکار ہوں گے۔
جانوروں کی طرح 'غیر مشروط محبت' اور 'وفا' انسانی روح کی بنیادی ضرورت ہے۔
انسانی دماغ کی یہ خاصیت ہے کہ وہ مادی حقیقت سے ہٹ کر ایک 'خیالی دنیا' تخلیق کر سکتا ہے۔ آئیلا کے لیے گھوڑوں کی عظمت محض ایک خیال نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی فطرت صرف روٹی، کپڑا اور مکان تک محدود نہیں، بلکہ اسے الہام (Inspiration) کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
آئیلا کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شاید ہم انسان کہلانے کے باوجود وہ 'انسانیت' اور 'عزت' کھو چکے ہیں جو ایک جانور (گھوڑے) میں فطرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔
پاکستانی نوجوانوں کے لیے یہ دعوتِ فکر ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور فطرت کی طرف لوٹیں تاکہ زندگی میں وہی توازن اور سکون پیدا ہو سکے جو آئیلا کو اس انوکھے خواب میں نظر آیا۔

Comments