مودی کا دورہ اسرائیل کیا نیا رنگ دیکھائے گا۔

 


-- روما محمود--




بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورہ اسرائیل (25-26 فروری 2026) عالمی سفارت کاری اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ نو سالوں میں ان کا دوسرا دورہ ہے، جو بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی (Strategic) قربت کا عکاس ہے۔




​بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک ایسے وقت میں اسرائیل کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔ 25 فروری کو تل ابیب پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خود ایئرپورٹ پر ان کا والہانہ استقبال کیا، جسے مبصرین نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ذاتی دوستی اور گہرے ریاستی تعلقات کی علامت قرار دیا ہے۔

​دورے کے اہم خدوخال

​اس دورے کا ایجنڈا دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی، اور علاقائی سلامتی کے گرد گھومتا ہے۔

کنیست (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب: وزیر اعظم مودی نے اسرائیلی پارلیمنٹ سے تاریخی خطاب کیا، جس میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف "زیرو ٹالرینس" کی پالیسی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اور اسرائیل دونوں دہشت گردی کے دکھ کو سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف متحد ہیں۔

دفاعی معاہدے: دورے کے دوسرے روز (آج، 26 فروری) دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں اہم یادداشتوں (MoUs) پر دستخط متوقع ہیں۔ بھارت اسرائیل سے ڈرون ٹیکنالوجی اور دفاعی نظام (جیسے کہ سدرشن چکر کے لیے آئرن ڈوم کے بعض اجزاء) کے حوالے سے تعاون کو مزید وسعت دے رہا ہے۔

ٹیکنالوجی اور زراعت: دونوں رہنماؤں نے ایک جدید ٹیکنالوجی نمائش کا دورہ بھی کیا، جہاں پانی کے انتظام، مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ میں تعاون پر بات چیت ہوئی۔

​یہ دورہ محض دو طرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اس کے علاقائی اثرات بھی گہرے ہیں۔

I2U2 بھارت، اسرائیل، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے اس گروپ کو "مشرق وسطیٰ کا کواڈ" کہا جاتا ہے، اور اس دورے سے اس فریم ورک کو مزید تقویت ملے گی۔

ایران کے ساتھ توازن: یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ بھارت کے لیے اسرائیل کے ساتھ دفاعی قربت اور ایران کے ساتھ اپنے توانائی اور سفارتی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان ہے۔

داخلی تنقید: بھارت میں اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص کانگریس نے غزہ کی صورتحال کے تناظر میں اس دورے کے وقت پر سوالات اٹھائے ہیں، تاہم مودی حکومت کا موقف ہے کہ بھارت کے قومی مفادات کسی بھی دوسری ترجیح سے بالاتر ہیں۔

​نریندر مودی کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت اب "ڈی ہائیفنیشن" (De-hyphenation) کی پالیسی پر پوری طرح عمل پیرا ہے، یعنی وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو فلسطین یا کسی تیسرے ملک کے تناظر میں نہیں بلکہ اپنے آزادانہ سٹریٹجک مفادات کی بنیاد پر دیکھتا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ اسرائیل (فروری 2026) کے دوران ہونے والے اہم دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

میزائل ڈیفنس سسٹم اور 'آئرن ڈوم' ٹیکنالوجی

​اس دورے کا سب سے اہم پہلو بھارت کے میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

براک-8 (Barak-8) کی اپ گریڈیشن: دونوں ممالک نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم (LRSAM) کے اگلے ورژن پر مل کر کام کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

آئرن ڈوم ٹیکنالوجی کا تبادلہ: اگرچہ بھارت مکمل طور پر اسرائیل کا 'آئرن ڈوم' نہیں خرید رہا، لیکن اس کے ریڈار اور انٹرسیپٹر ٹیکنالوجی کو بھارت کے اپنے 'کُشادا' (Kushada) ڈیفنس سسٹم میں شامل کرنے پر اتفاق ہوا ہے تاکہ ڈرون اور چھوٹے راکٹوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ڈرون ٹیکنالوجی (UAVs)
​بھارت اب اسرائیل سے صرف ڈرون خرید نہیں رہا بلکہ انہیں بھارت میں بنانے (Make in India) پر توجہ دے رہا ہے۔

ہیرون ٹی پی (Heron TP) ڈرونز: مسلح ڈرونز کی دیکھ بھال اور ان کے مقامی پرزہ جات کی تیاری کے لیے ایک جوائنٹ وینچر کا اعلان کیا گیا ہے۔

لوئٹرنگ میونیشن (Kamikaze Drones): سرحدوں پر نگرانی اور فوری کارروائی کے لیے چھوٹے خودکش ڈرونز کی بڑی کھیپ کی فراہمی کا معاہدہ ہوا ہے۔

سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ
​دفاع صرف سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ ڈیجیٹل میدان میں بھی تعاون کو وسعت دی گئی ہے:

سائبر ڈیفنس سینٹر: نئی دہلی میں ایک مشترکہ سائبر سیکیورٹی سینٹر قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے جو حساس سرکاری ڈیٹا کو ہیکنگ سے بچانے میں مدد دے گا۔

انٹیلی جنس تعاون: دہشت گردی کے خلاف معلومات کے فوری تبادلے (Real-time intelligence sharing) کے لیے ایک نیا پروٹوکول وضع کیا گیا ہے۔

سیمی کنڈکٹرز اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ
​اسرائیل کی مشہور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں نے بھارت میں چپ (Chip) بنانے کے کارخانے لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جو کہ جدید جنگی آلات اور ٹیکنالوجی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

خلائی تعاون (Space Cooperation)
​اسرائیل کی اسپیس ایجنسی اور بھارت کی 'اسرو' (ISRO) کے درمیان چھوٹے سیٹلائٹس کی لانچنگ اور زمینی اسٹیشنوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں۔

یہ معاہدے ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت اب اسرائیل کا محض ایک "گاہک" نہیں رہا بلکہ ایک "تزویراتی شراکت دار" (Strategic Partner) بن چکا ہے۔ ان معاہدوں کا مقصد بھارت کی دفاعی انحصار کو روس سے کم کر کے جدید مغربی اور اسرائیلی ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنا ہے۔


ڈرون ٹیکنالوجی'میڈ ان انڈیا' کا نیا موڑ۔

​بھارت اور اسرائیل کے درمیان ڈرون کے شعبے میں اب صرف خرید و فروخت نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی منتقلی (Transfer of Technology) پر اتفاق ہوا ہے۔

یہ ڈرون اب بھارت میں مقامی سطح پر تیار کیے جائیں گے۔ یہ ڈرونز 45 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرنے اور ڈھائی سو کلوگرام سے زائد وزن (بشمول لیزر گائیڈڈ بم) اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سرحدوں پر چھوٹے ڈرونز کے ذریعے ہونے والی سمگلنگ اور حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل کا 'سمیش 2000 پلس' (SMASH 2000 Plus) نظام اب بھارتی فوج کی رائفلوں کا حصہ بنے گا، جو متحرک اہداف کو سو فیصد درستگی سے نشانہ بناتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت
​موجودہ دور میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ کمپیوٹر اسکرینوں پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ اس دورے میں اسرائیل نے بھارت کو اپنے 'سائبر ڈوم' (Cyber Dome) کے ماڈل پر تعاون کی پیشکش کی ہے۔

بھارت کے پاور گرڈز، بینکنگ سسٹمز اور دفاعی نیٹ ورکس کو غیر ملکی ہیکرز (خاص طور پر علاقائی حریفوں) سے بچانے کے لیے اسرائیل اپنی جدید ترین 'اینٹی ہیکنگ' الگورتھم فراہم کرے گا۔
بھارتی سائبر کمانڈ کے افسران کو اسرائیل کی 'یونٹ 8200' (جو دنیا کی بہترین سائبر انٹیلی جنس یونٹ مانی جاتی ہے) کے ماہرین سے خصوصی تربیت دلوانے کا معاہدہ ہوا ہے۔

'سدرشن چکر' (Kushada) کا اسرائیلی کنکشن
​بھارت اپنے طویل فاصلے کے فضائی دفاعی نظام 'کُشادا' پر کام کر رہا ہے۔ اس دورے میں طے پایا ہے کہ اسرائیل اس سسٹم کے لیے ایسے سینسرز اور ریڈار فراہم کرے گا جو اسٹیلتھ (خفیہ) طیاروں اور ہائپرسونک میزائلوں کو بھی پکڑ سکیں گے۔

​ان معاہدوں کے بعد بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، خاص طور پر,

سرحدی نگرانی میں انسانی مداخلت کم اور ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھے گا۔

میزائل حملوں کے خلاف ایک ناقابلِ عبور ڈھال تیار ہوگی۔

دفاعی پیداوار میں بھارت کی دوسرے ممالک پر وابستگی کم ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔