​عکس یا اصل پاکستانی معاشرے میں رول ماڈل اور بچپن کا سفر

 




--روما محمود--





بچپن سے رول ماڈل کا تزکرہ سنتے آئے ہیں۔

​کہتے ہیں کہ بچہ ایک کورا کاغذ ہوتا ہے جس پر زمانے کی گردشیں اپنے نقش ثبت کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں بچہ ایک "شفاف آئینہ" ہوتا ہے جو وہی کچھ دکھاتا ہے جو اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جب ہم رول موڈل کی بات کرتے ہیں، تو ہم اکثر ستاروں پر کمند ڈالنے والوں کا تذکرہ کرتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے کے لیے پہلا ستارہ اس کا اپنا گھر اور اس کے والدین ہوتے ہیں۔

​پاکستانی تناظر میں بچے کی شخصیت کی تعمیر اس کے لاشعور سے شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنے باپ کو لوگوں سے بات کرتے دیکھ کر لہجہ سیکھتا ہے اور اپنی ماں کی خاموش قربانیوں سے ایثار کا سبق لیتا ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ہم بچے کو "سچا" بننے کی نصیحت تو زبان سے کرتے ہیں، لیکن جب دروازے پر کوئی دستک دے اور ہم بچے سے کہلوائیں کہ "کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں"، تو وہیں ایک مثالی شخصیت (Role Model) کا تصور پاش پاش ہو جاتا ہے۔ بچہ وہ نہیں بنتا جو اسے 'سنایا' جاتا ہے، بلکہ وہ بنتا ہے جو اسے 'دکھایا' جاتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں یہ رول ماڈل ہر دوسرے گھر کی کہانی ہے۔ یہاں رول ماڈل چنے نہیں جاتے، بلکہ "تھوپے" جاتے ہیں۔

​ہمارے معاشرے کا ایک خاصہ "مقابلہ بازی" ہے۔ "فلاں کا بیٹا ڈاکٹر بن گیا" یا "فلاں کی بیٹی افسر بن گئی" جیسے جملے بچے کے ذہن پر بوجھ بن کر سوار ہو جاتے ہیں۔ ہم اکثر بچے کی فطری صلاحیت کو کسی کے بنے بنائے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ بڑا ہو کر "کامیاب" تو شاید ہو جائے، لیکن وہ "مطمئن" نہیں ہوتا۔ وہ کسی اور کی زندگی جی رہا ہوتا ہے، اپنی نہیں۔

رول موڈل وہ نہیں جو آپ کو اپنی جیسا بننے پر مجبور کرے، بلکہ وہ ہے جو آپ کو "آپ کا بہترین ورژن" بننے کا حوصلہ دے۔



​آج کا پاکستانی بچہ صرف گلی محلے یا کتابوں سے متاثر نہیں ہو رہا۔ اس کے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون اسے عالمی رول موڈلز سے جوڑ رہا ہے۔ اب اس کے آئیڈیل یوٹیوبرز، گیمرز اور ٹک ٹاک اسٹارز ہیں۔ یہاں خطرہ یہ ہے کہ "محنت" کی جگہ "شارٹ کٹ" اور "کردار" کی جگہ "گلیمر" نے لے لی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چمکنے والی ہر چیز سونا نہیں ہوتی، اور حقیقی کامیابی راتوں رات نہیں بلکہ برسوں کی تپسیا سے ملتی ہے۔

​اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بہتر انسان بنیں، تو ہمیں بطور معاشرہ چند بنیادی اصول اپنانے ہوں گے

کردار کی پختگی: والدین خود کو اس قابل بنائیں کہ بچہ فخر سے کہہ سکے "میں اپنے ابو جیسا بننا چاہتا ہوں"۔

تنوع کی قبولیت: ہر بچے کو ڈاکٹر یا انجینئر بننے پر مجبور نہ کریں؛ اسے اس کی پسند کے میدان کا شاہسوار بننے دیں۔

تاریخ سے وابستگی: بچوں کو سیرتِ طیبہ ﷺ، صحابہ کرامؓ اور تحریکِ پاکستان کے ہیروز کی کہانیاں سنائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ عزت عہدے سے نہیں، کردار سے ملتی ہے۔

​پاکستانی معاشرے میں بچے کے ذہن کی آبیاری ایک نازک ذمہ داری ہے۔ ہمیں اسے صرف "کمانے والی مشین" نہیں بلکہ ایک "سوچنے والا انسان" بنانا ہے۔ جب ہم اسے سچائی، ہمدردی اور محنت کے عملی نمونے دکھائیں گے، تو وہ بڑا ہو کر نہ صرف ویسا بنے گا بلکہ وہ خود آنے والی نسلوں کے لیے ایک درخشاں رول موڈل ثابت ہوگا۔

کیا ہمارے رول ماڈل وہ کرکڑ ہیں جو ہر میچ میں پاکستان کی بے عزتی کرواتے ہیں ۔ یا وہ ایکٹر اور ایکٹریس ہیں جو ٹی وی پر مسلسل جھوٹ ، مکاری اور عشق لڑاتے نظر آتے ہیں یا وہ سیاست دان ہیں جو سوائے کرپشن ،ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے اور لڑنے کے کچھ نہیں کرتے۔

سوچ کر بتائیے گا ۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔