مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل ایک نئی جنگ کا آغاز.

 



--روما محمود--



آج مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا ایک اہم اور تشویشناک دن ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے اب ایک نئی اور خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ایرانی حملوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر خطے کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔



امریکی فوجی اڈوں پر حملے: ایران نے بحرین اور متحدہ عرب امارات (UAE) سمیت دیگر خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

بحرین: بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات: ابوظبی میں امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ والی بیس کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور یو اے ای نے اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

یہ حملے ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
​یہ ایک انتہائی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ہے۔

بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ اور ابوظبی میں امریکی بیس کے قریب دھماکوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ یہ حملے بظاہر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا براہ راست جواب ہیں، جس نے خطے میں فوجی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
​فوجی صورتحال انتہائی نازک ہے۔ پینٹاگون نقصانات کا تخمینہ لگا رہا ہے، جبکہ یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس سے فضائی سفر اور تجارت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

موجودہ فوجی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے۔

امریکی فوجی اڈوں پر حملے: ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
بحرین: بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات (UAE): ابوظبی میں امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ والی بیس (الظفرہ) کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یو اے ای نے اپنی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی: ان حملوں سے پہلے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اندر مختلف مقامات پر فوجی کارروائیاں کی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے یہ حملے کیے ہیں۔

​ابھی تک کسی بھی ملک کی جانب سے جانی یا مالی نقصان کی مکمل اور مصدقہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ امریکی پینٹاگون اس بات کا تخمینہ لگا رہا ہے کہ ان کے اڈوں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

امریکی دفاع: امریکی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

فضائی حدود کی بندش: یو اے ای کے علاوہ قطر اور کویت نے بھی احتیاطی طور پر اپنی فضائی حدود جزوی یا مکمل طور پر بند کر دی ہیں۔

اقتصادی اثرات بھی فوری اور شدید ہیں۔ تیل کی اہم گزرگاہوں کے قریب لڑائی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کا بوجھ پوری دنیا کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

​اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نے مناسب وقت پر جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک تحمل کی اپیل کر رہے ہیں۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشیدگی کم ہوگی یا ایک بڑی علاقائی جنگ کا پیش خیمہ بنے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔