آپریشن غضب للحِق پاک افغان تعلقات میں بارود کی بو اور جنگی بگل
--روما محمود--
27 فروری 2026 کی صبح پاک افغان سرحدوں اور فضائی حدود میں وہ لرزہ خیز تبدیلی آئی جس کا خدشہ گزشتہ کئی عرصے سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اب بیانات سے نکل کر کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستانی حکام کی جانب سے "آپریشن غضب للحِق" کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس نے خطے کی صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
آپریشن کی تفصیلات اور فوجی پیش قدمی
پاکستانی ذرائع (عطا اللہ تارڑ کے بیان کے مطابق) کے مطابق، یہ آپریشن جمعہ کی صبح 3:40 بجے شروع کیا گیا۔ اس کارروائی کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستانی فضائیہ اور زمینی دستوں نے نہ صرف سرحدی علاقوں بلکہ افغانستان کے دل کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان کے اہم دفاعی مراکز کو نشانہ بنایا۔
اس آپریشن کے ابتدائی نتائج جو پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے، انتہائی ہولناک ہیں.
جانی نقصان: دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
تزویراتی ضرب۔ دو کور ہیڈ کوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور دو بڑے اسلحہ ڈپو (Ammunition Depots) کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
زمینی برتری۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دشمن کی 27 پوسٹیں تباہ کیں اور 9 اہم پوسٹوں پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ 80 سے زائد ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی اس کارروائی کی نذر ہو گئی ہیں۔
افغان ردِعمل بھی جاری ہے ۔مزاحمت اور مذمت
دوسری جانب، افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے اس صورتحال پر سخت تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پاکستانی طیاروں کی جانب سے کابل، قندھار اور پکتیا میں بمباری کی تصدیق کرتے ہوئے اسے افغان خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
کرزئی کا موقف ہے کہ
قومی دفاع افغان قوم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے متحد ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
پالیسی کی تبدیلی، انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیا کہ وہ "تشدد اور بمباری" کے بجائے "اچھے پڑوسی" بننے کی کوشش کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان جن مسائل (دہشت گردی یا تشدد) کا شکار ہے، وہ اس کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
مستقبل کے اثرات؛ امن یا تباہی؟
یہ صورتحال محض دو ممالک کی سرحدی جھڑپ نہیں رہی بلکہ ایک مکمل جنگی صورتحال کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
کابل جیسے بڑے شہر پر بمباری بین الاقوامی قوانین اور سفارتی تعلقات کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔
پاکستان کا یہ اقدام بظاہر اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک "فیصلہ کن ضرب" کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ افغان سائیڈ اسے اشتعال انگیزی قرار دے رہی ہے۔
آنے والے چند گھنٹے اس بات کا تعین کریں گے کہ کیا عالمی برادری مداخلت کر کے اس آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے یا یہ خطہ ایک طویل اور خونی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
"آپریشن غضب للحِق" نے ثابت کر دیا ہے کہ اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ پاکستان نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، لیکن حامد کرزئی کے الفاظ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ کابل خاموش نہیں بیٹھے گا۔


Comments