آپریشن رورنگ لائن،امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر بڑا فوجی حملہ، تہران سمیت کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

 



----روما محمود----




آج  28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک بڑی مشترکہ فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جسے 'آپریشن رورنگ لائن' (Operation Roaring Lion) کا نام دیا گیا ہے۔




​اس حملے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں۔

حملے کی نوعیت اور مقامات

تہران پر حملے: ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد دھماکے سنے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میزائل حملوں میں یونیورسٹی اسٹریٹ، جمہوریہ ایریا اور شمالی تہران کے سید خندان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

دیگر شہر: تہران کے علاوہ قم، کرمانشاہ، اصفہان اور کرج میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

اہداف: رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کے دفاتر کے قریبی علاقوں، صدارتی محل اور قومی سلامتی کونسل کی عمارتوں کے قریبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔


حملے کی وجوہات

جوہری پروگرام اور ڈیڈ لائن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرنے کے لیے 10 سے 15 دن کی مہلت دی تھی، جس کے ختم ہونے اور جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔

پیشگی حملہ (Preemptive Strike)۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے اسے ایک "احتیاطی حملہ" قرار دیا ہے تاکہ اسرائیل کو لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

ایران نے اپنی فضائی حدود (Airspace) بند کر دی ہیں اور ملک بھر میں ہنگامی حالت (State of Emergency) نافذ کر دی گئی ہے۔

امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ کوئی "چھوٹا حملہ" نہیں ہے بلکہ ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے جس میں طیارہ بردار بحری جہازوں اور خطے میں موجود اڈوں سے درجنوں طیارے حصہ لے رہے ہیں۔

تہران میں مواصلاتی نظام (Communication services) شدید متاثر ہوا ہے۔

یہ صورتحال ابھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا شدید خطرہ موجود ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

فوجی کارروائی کی شدت اور وسعت

سائبر حملے: میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ ایران کے بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے بھی کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور انٹرنیٹ سروسز بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مراکز: اصفہان اور شیراز میں آئی آر جی سی کے میزائل سازی کے مراکز اور ڈرون اڈوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

بحرِ ہند اور خلیج: خلیج فارس میں موجود امریکی بحری بیڑے اور بحیرہ عرب سے بی-52 (B-52) بمبار طیاروں کے ذریعے حملے کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

عالمی اور علاقائی ردِ عمل

ایران کا موقف: ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسے "کھلی جارحیت" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور وہ اس کا "دانت توڑ جواب" دے گا۔

عالمی منڈی: اس حملے کے فوراً بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے، اور معاشی ماہرین سپلائی لائنز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

روس اور چین: دونوں ممالک نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ممکنہ جوابی کارروائی (Escalation)

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، ایران اپنے اتحادیوں (لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں) کے ذریعے جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔

اسرائیل پر راکٹ حملے: شمالی اور وسطی اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل باری کا خطرہ ہے۔

آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz): ایران عالمی تیل کی تجارت کے اس اہم ترین راستے کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

تازہ ترین صورتحال بہت خطرناک ہے۔

تہران سے ملنے والی خبروں کے مطابق، شہر کے کچھ حصوں میں لوگ خوف و ہراس کے باعث محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔