"یا ھو: لسانی، اسلامی اور عبرانی تناظر میں ایک تحقیقی مطالعہ" ​"لفظِ 'یاہو

 

---روما محمود---



لفظ "یاہو" (Yahoo) کے بارے میں تحقیق کی تو یہ پہلو سامنے آئے۔

ایک وہ جو عبرانی (یہودی) پس منظر سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسلامی تناظر میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

​ دونوں نقطہ نظر کی وضاحت کچھ یوں ہے۔




​ یہودی نقطہ نظر (عبرانی پس منظر)
​یہودی روایات اور عبرانی زبان میں لفظ "یاہو" کا تعلق براہ راست خدا کے مقدس نام سے ہے۔

لفظ کی اصل: عبرانی میں خدا کا ایک خاص نام چار حروف پر مشتمل ہے جسے "Tetragrammaton" (یعنی YHWH) کہا جاتا ہے۔

مقدس نام کا حصہ: "یاہو" یا "یاہ" (Yah/Yahu) اسی نام کے مخفف یا جزو کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ آپ کو یہ بہت سے عبرانی ناموں کے آخر میں ملے گا، جیسے 'نتن یاہو' (جس کا مطلب ہے: خدا کا دیا ہوا) یا 'الیاہو'۔

قدامت پسند یہودی اس نام کو زبان سے ادا کرنے میں انتہائی احتیاط برتتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں خدا کا نام لینا بہت زیادہ تقدس کا حامل ہے۔

اسلامی نقطہ نظر (تصوف اور ذکر)

​اسلامی علمی روایت، خاص طور پر تصوف (Sufism) میں "یا ھو" کا ایک خاص مقام ہے۔

عربی میں "یا" حرفِ ندا (پکارنے کے لیے) ہے اور "ھو" ضمیر ہے جس کا مطلب ہے "وہ"۔ "یا ھو" کا مطلب بنتا ہے "اے وہ (جو موجود ہے)"۔

صوفیاء کرام اسے "ذکرِ ذات" کہتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ اللہ تعالیٰ کی طرف اشارہ ہے جو ہر قسم کی صفات سے ماورا اور اپنی ذات میں اکیلا ہے۔ قرآن پاک کی آیت "لا الہ الا ھو" میں بھی یہی "ھو" (وہ) اللہ کی وحدانیت کے لیے استعمال ہوا ہے۔

بہت سے حلقوں میں "یا ھو" کا ورد روحانی بالیدگی اور اللہ کے قرب کے لیے کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ نام تمام ظاہری ناموں سے ہٹ کر صرف اس کی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

​اگرچہ صوتی طور پر (آواز کے لحاظ سے) یہ دونوں ایک جیسے لگتے ہیں، لیکن ان کے استعمال کا پس منظر مختلف ہے۔

یہودیت میں: یہ قدیم عبرانی نام کا حصہ ہے جو خدا کی پہچان ہے۔

اسلام میں: یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو پکارنے کا ایک صوفیانہ اور خالص انداز ہے۔

انٹرنیٹ کمپنی "Yahoo" کا ان دونوں مذہبی پہلوؤں سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ وہ انگریزی کے ایک لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "غیر مہذب شخص" لیا جاتا تھا۔

​اسلامی تصوف میں "ھو" کی حقیقت۔

​صوفیاء کرام کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام (جیسے رحمن، رحیم، غفار) انسان کو اللہ کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں، لیکن "ھو" کو "مقامِ ذات" کا نام دیا جاتا ہے۔

اسمِ ذات: صوفیاء کہتے ہیں کہ جب ایک سالک (روحانی سفر کرنے والا) تمام مادی سہارے چھوڑ دیتا ہے اور اللہ کی ذات میں گم ہونا چاہتا ہے، تو وہ اسے کسی صفت کے بجائے صرف اس کی "ہستی" سے پکارتا ہے۔ "ھو" اس ہستی کی طرف اشارہ ہے جو "غیب الغیب" (پوشیدہ سے بھی زیادہ پوشیدہ) ہے۔

قرآنی بنیاد: قرآن پاک کی مشہور آیت، آیت الکرسی کا آغاز بھی "اللہ لا الہ الا ھو" سے ہوتا ہے، اور سورہ الاخلاص میں "قل ھو اللہ احد" کہہ کر پہلے ذات (ھو) کا ذکر کیا گیا پھر اس کا نام (اللہ) لیا گیا۔

ذکرِ قلبی: بہت سے سلاسل (جیسے قادریہ، چشتیہ) میں "اللہ" کے ذکر کے بعد "ھو" کا ذکر سب سے اعلیٰ مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں پکارنے والا اپنی انا کو ختم کر کے صرف "اس" (اللہ) کو باقی رکھتا ہے۔

​عبرانی اور عربی میں لسانی مماثلت (ایک دلچسپ نکتہ)

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ عربی اور عبرانی دونوں سامی زبانیں (Semitic Languages) ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے الفاظ میں مماثلت پائی جاتی ہے۔

عبرانی (Yahu قدیم سامی جڑوں میں یہ "موجود ہونا" یا "زندگی دینے والے" کے معنوں میں آتا تھا۔

عربی (Hu/Huwa): یہ بھی اس "موجودِ حقیقی" کی طرف اشارہ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

​مذہبی علماء کا ماننا ہے کہ چونکہ دونوں مذاہب (اسلام اور یہودیت) کا سرچشمہ ابراہیمی روایت ہے، اس لیے خدا کو پکارنے کے لیے ان الفاظ کا صوتی ملاپ ایک فطری بات ہے، اگرچہ وقت کے ساتھ ان کے فقہی اور روایتی تصورات الگ ہو گئے۔

​بعض لوگ انٹرنیٹ پر یہ بحث کرتے ہیں کہ "یا ھو" کہنا درست نہیں کیونکہ یہ غیر مسلموں سے ملتا جلتا ہے۔ تاہم، اسلامی محققین اور جید علماء (جیسے امام غزالی رح اور دیگر) نے "ھو" کے ذکر کو جائز بلکہ عارفین کے لیے بہت بلند درجہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک نیت اللہ کی ذات ہوتی ہے، کسی اور کی نہیں۔

صوفیانہ کلام میں "یا ھو" کا ذکر محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک پوری کائنات ہے۔ خاص طور پر حضرت سلطان باہوؒ اور مولانا رومؒ کے ہاں اس کا رنگ بہت گہرا ہے۔

​ ان بزرگوں کے کلام سے دو خوبصورت مثالیں پیش ہیں۔

حضرت سلطان باہوؒ (سرِ فہرست "باہو")

​آپ کا تو نام ہی اس ذکر سے جڑا ہے (باہو یعنی "با" ساتھ + "ہو" اللہ)۔ آپ کی "ابیاتِ باہو" میں ہر مصرعے کا اختتام "ہو" پر ہوتا ہے، جو کہ ذکرِ الٰہی کی تکرار ہے۔
"الف اللہ چمبے دی بوٹی، مرشد من وچ لائی ھو"
"اندر نوں نوں آبی ملیا، ہر رگ وچ جائی ھو"

آپ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد نے میرے دل میں اللہ کے نام (الف) کی چمبیلی کی بوٹی لگا دی ہے، اور اب میری رگ رگ میں "ھو" (اللہ کی ذات) کا ذکر جاری ہو چکا ہے۔ یہاں "ھو" ایک وجدانی کیفیت ہے جو سالک کو خالق سے جوڑ دیتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ (وحدت کا رنگ)
​مولانا روم کے نزدیک "ھو" وہ واحد حقیقت ہے جو تمام ظاہری رنگوں اور ناموں کے پیچھے چھپی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
"نہ شرقی ام، نہ غربی ام، نہ بحری ام، نہ بری ام"
"نہ از ارکانِ طبیعی ام، نہ از افلاکِ گردانی"
... (آخر میں فرماتے ہیں) ...
"واحد جویم، واحد گویم، واحد دانم، واحد خواہم"
"ھو الاول، ھو الآخر، ھو الظاہر، ھو الباطن"

میں نہ مشرق سے ہوں نہ مغرب سے، نہ میرا تعلق مٹی سے ہے نہ پانی سے۔ میں تو بس اسی ایک کو ڈھونڈتا ہوں، اسی کو جانتا ہوں اور اسی کو پکارتا ہوں۔ وہ (ھو) ہی اول ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے۔

​صوفیانہ نکتہ: "یا ھو" کا اثر
​صوفیاء کے مطابق جب انسان "یا ھو" کہتا ہے، تو۔

یا (ندائے پکار): یہ بندے کی طرف سے پکار ہے۔

ھو (ذاتِ الٰہی): یہ اس کی ہستی کی طرف اشارہ ہے۔

​ان بزرگوں کا کلام بتاتا ہے کہ "یا ھو" محض زبان کی جنبش نہیں، بلکہ روح کا اپنے اصل (خالق) کی طرف لوٹنے کا ایک ذریعہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔