​کوہاٹ لہو رنگ سڑکیں اور سسکتا امن

 



--روما محمود --




​خیبر پختونخوا کا تاریخی شہر کوہاٹ، جو اپنی مہمان نوازی اور پرامن روایات کے لیے جانا جاتا تھا، ان دنوں ایک بار پھر دہشت گردی اور لاقانونیت کے سائے میں ہے۔ حالیہ چند دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب محافظوں کا خون سڑکوں پر بہہ جائے اور مسیحا اپنے ہی شہر میں محفوظ نہ رہیں، تو یہ سوال اٹھانا لازمی ہو جاتا ہے کہ ہم کس ڈگر پر چل پڑے ہیں؟

​گزشتہ منگل کو شکردرہ روڈ پر ہونے والا بزدلانہ حملہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی ایک بدترین کوشش تھی۔ دہشت گردوں نے پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا کر ڈی ایس پی لاچی اسد محمود سمیت چھ اہلکاروں کو شہید کر دیا۔ یہ محض ایک حملہ نہیں تھا بلکہ امن کے دشمنوں کی جانب سے یہ پیغام تھا کہ وہ اب بھی گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ ڈی ایس پی اسد محمود جیسے فرض شناس افسر کی شہادت پولیس فورس کے لیے ایک بڑا خلا ہے، جو فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر گئے۔

​پولیس پر حملے سے محض ایک روز قبل، کے ڈی اے (KDA) میں لیڈی ڈاکٹر مہوش حسنین کو ڈیوٹی سے واپسی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو انسانیت کی خدمت میں مصروف تھی، اسے اس طرح سرِ عام نشانہ بنانا معاشرے کی اخلاقی پستی اور سیکورٹی اداروں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج اور ہسپتالوں کی تالہ بندی اس دکھ اور غصے کا اظہار ہے جو پیشہ ور طبقے میں پایا جاتا ہے۔ جب ایک ڈاکٹر ہسپتال کے باہر محفوظ نہیں ہو گی، تو وہ مریضوں کی جان کیسے بچائے گی؟

​ان واقعات نے امن و امان کی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کیا دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں؟

ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے میں انٹیلیجنس کی کیا حکمت عملی ہے؟

پولیس کی گاڑیوں کو سرِ عام نذرِ آتش کرنا کس قسم کی سیکیورٹی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے؟

​کوہاٹ میں امن کی بحالی محض بیانات سے ممکن نہیں ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اب "تلاش و حملے" (Search and Strike) کی پالیسی کو مزید سخت کرنا ہوگا۔ عوام کا اعتماد تب ہی بحال ہوگا جب ڈاکٹر مہوش کے قاتل کیفرِ کردار تک پہنچیں گے اور شکردرہ حملے کے ماسٹر مائنڈز کو بے نقاب کیا جائے گا۔
​کوہاٹ کی فضاؤں میں چھایا یہ سوگ تب ہی ختم ہوگا جب ریاست اپنی پوری قوت کے ساتھ ان شرپسند عناصر کا قلع قمع کرے گی جو ہمارے محافظوں اور مسیحاؤں کا خون بہا رہے ہیں۔






کوہاٹ کی تاریخی اور جغرافیائی اہمیت پر نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کوہاٹ محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک قدیم گزرگاہ ہے جس نے تاریخ کے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔

​کوہاٹ کا ذکر قدیم یونانی مورخین کی تحریروں سے لے کر مغل شہنشاہ بابر کی خودنوشت (تزکِ بابری) تک میں ملتا ہے۔ یہ شہر اسٹریٹجک لحاظ سے ہمیشہ اہم رہا ہے کیونکہ یہ درہ آدم خیل کے ذریعے پشاور کو جنوبی اضلاع اور پنجاب سے جوڑتا ہے۔

یہ علاقہ بنیادی طور پر بنگش اور خٹک قبائل کا مسکن ہے، جو اپنی بہادری اور مہمان نوازی کے لیے مشہور ہیں۔

انگریزوں نے اس شہر کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے یہاں ایک بڑی چھاؤنی (Cantt) قائم کی، جو آج بھی پاک فوج کے اہم مراکز میں سے ایک ہے۔

​اگر آپ کوہاٹ جائیں کریں تو یہ مقامات اپنی کشش اور تاریخی اہمیت کی بنا پر آپ کو متاثر کریں گے۔

​ تانڈا ڈیم (Tanda Dam)
​یہ کوہاٹ کی سب سے خوبصورت تفریحی جگہ ہے۔ پہاڑوں کے درمیان گھرا یہ ڈیم نہ صرف آبپاشی کے کام آتا ہے بلکہ یہاں کی جھیل کشتی رانی اور پکنک کے لیے بہترین مقام ہے۔ موسمِ سرما میں یہاں وسطی ایشیا سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

درہ آدم خیل (Darra Adam Khel)
​کوہاٹ اور پشاور کے درمیان واقع یہ مقام دنیا بھر میں اسلحہ سازی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں کے مقامی کاریگر ہاتھ سے ایسی بندوقیں اور ریپلیکاز تیار کرتے ہیں کہ دیکھنے والا دنگ رہ جائے۔

کوہاٹ ٹنل (Kohat Tunnel)
​پاک-جاپان دوستی کی علامت یہ سرنگ کوتل کے دشوار گزار پہاڑی راستے کا متبادل ہے۔ یہ انجینئرنگ کا ایک بہترین شاہکار ہے جس نے کوہاٹ اور پشاور کے درمیان سفر کو انتہائی آسان اور محفوظ بنا دیا ہے۔

کڈھ (Kadh) اور چشمے
​کوہاٹ اپنے ٹھنڈے میٹھے چشموں کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں کے قدرتی پانی کے چشمے اور ان کے گرد بنے باغات مقامی لوگوں کے لیے گرمیوں میں بڑی نعمت ثابت ہوتے ہیں۔

برطانوی عہد کی عمارات
​کوہاٹ چھاؤنی میں برطانوی دور کی بنی ہوئی کئی تاریخی عمارات، چرچ اور قلعہ موجود ہیں جو اب بھی اپنی اصل حالت میں برقرار ہیں اور ماضی کی داستانیں سناتے ہیں۔

کوہاٹ کی مشہور سوغات، "کوہاٹی چپل"

​جس طرح پشاور کی پشاوری چپل مشہور ہے، ویسے ہی کوہاٹی چپل اپنی پائیداری اور مخصوص ڈیزائن کی وجہ سے پورے ملک میں پسند کی جاتی ہے۔

​اگر آپ کوہاٹ جائیں تو وہاں کا "دم پخت" اور "چپلی کباب" چکھنا نہ بھولیں۔ یہاں کی شامیں جو کچھ عرصہ پہلے روایتی حجروں میں قصہ گوئی اور قہوے کی خوشبو سے مہکتی تھیں ۔اب وہاں مظلوموں کی آہوں اور نوحوں کو سنا جاتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔