دھمکیوں کا موسم اور عالمی غنڈہ گردی حقائق کے آئینے میں

 





---روما محمود---



لوگ کہتے ہیں کہ قلم کی نوک تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے، لیکن آج کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ قلم کی سیاہی خشک ہو چکی ہے اور تلوار کی جگہ جدید میزائلوں، معاشی پابندیوں اور "سیاسی غنڈہ گردی" نے لے لی ہے۔



ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں دلیل کی زبان گنگ کر دی گئی ہے اور دھمکی کو بطورِ گفتگو استعمال کیا جا رہا ہے۔

چاہے وہ گلی محلے کا کوئی نو آموز بدمعاش ہو، یا دنیا کا کوئی لیڈر یا کسی کانفرنس میں بیٹھے عالمی طاقتوں کے کارندے، سب کا فلسفہ ایک ہی ہے: "جو میری بات نہیں مانے گا، وہ مٹ جائے گا۔"

پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت کا زہر اثر کر چکا ہے ۔

پاکستان، جو اسلام کے نام پر امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بننا تھا، آج عدم برداشت کی آگ میں جل رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں "دھمکی" اب صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بن چکی ہے۔

ہمارے سیاسی ایوانوں میں جو زبان استعمال ہوتی ہے، وہ کسی طور پر بھی مہذب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتی۔ سیاسی مخالفین کو سرِ عام "دیکھ لینے" کی دھمکیاں دینا، ان کے گھروں پر حملے کروانا اور انہیں غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا اب معمول بن چکا ہے۔ جب قیادت کا یہ حال ہو تو عام کارکن سے شائستگی کی توقع رکھنا بیکار ہے۔ گلی کوچوں میں سیاسی بحث اب مباحثے سے شروع ہو کر گالی اور پھر گولی پر ختم ہوتی ہے۔

پاکستان میں قانون صرف اس کے لیے ہے جس کی جیب خالی ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے یا  کرسی کا رعب ہے، یا کوئی سیاسی پشت پناہی، اس کے لیے قانون ایک موم کی ناک ہے۔ تھانہ کلچر سے لے کر کچہریوں تک، غریب کو انصاف کے بدلے صرف دھمکیاں ملتی ہیں۔ اگر کوئی مظلوم آواز اٹھانے کی کوشش کرے تو اسے خاموش کروانے کے لیے ریاست اور بااثر افراد کا گٹھ جوڑ حرکت میں آ جاتا ہے۔

پاکستان سے باہر نکل کر اگر ہم عالمی نقشے پر نظر دوڑائیں تو صورتحال اس سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ وہاں "عالمی غنڈہ گردی" (Global Bullying) کا ایک ایسا نیٹ ورک بچھا ہوا ہے جس نے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے چہروں سے نقاب نوچ پھینکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں لکھا ہے کہ ہر قوم کو حقِ خودارادیت حاصل ہے، لیکن کیا یہ حق صرف یورپی ممالک کے لیے ہے؟ غزہ میں بچوں کا قتلِ عام ہو رہا ہے، ہسپتال ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، لیکن عالمی طاقتیں اسے "دفاع کا حق" قرار دے کر ظالم کو اسلحہ فراہم کر رہی ہیں۔

یہ غنڈہ گردی کی بدترین شکل ہے جہاں ویٹو پاور رکھنے والے ممالک اپنی طاقت کے بل بوتے پر انسانیت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ کشمیر میں دہائیوں سے جاری ظلم پر عالمی برادری کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں صرف طاقت کی سنی جاتی ہے، حق کی نہیں۔

معاشی غنڈہ گردی (Economic Terrorism)۔

آج کے دور میں کسی ملک کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم کی ضرورت نہیں رہی۔   اداروں کو بطورِ ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کے جال میں پھنسا کر ان کی خارجہ پالیسیاں ڈکٹیٹ کی جاتی ہیں۔ اگر کوئی ملک اپنی خود مختاری کی بات کرے تو اس پر معاشی پابندیاں لگا کر اس کا سانس بند کر دیا جاتا ہے۔

کیا یہ غنڈہ گردی نہیں کہ چند مخصوص ممالک پوری دنیا کے معاشی نظام کو اپنی مرضی سے چلائیں؟

جب ایک معاشرے یا دنیا میں دھمکی کا راج ہو، تو وہاں تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں۔ خوف کی فضا میں پروان چڑھنے والی نسلیں یا تو بزدل ہو جاتی ہیں یا پھر وہ خود بھی تشدد پسند بن جاتی ہیں۔

آج کل ڈیجیٹل غنڈہ گردی کا دور ہے۔ کسی کی رائے پسند نہ آئے تو اسے ٹرول کرنا، اس کی نجی زندگی کو نشانہ بنانا اور اسے ہراساں کرنا ایک مشغلہ بن چکا ہے۔

یہ "ڈیجیٹل دہشت گردی" معاشرے میں موجود نفرت کو ہوا دے رہی ہے۔

مذہب جو امن کا درس دیتا ہے، بدقسمتی سے اسے بھی دھمکیوں کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ فتویٰ بازی اور توہین کے الزامات کو اکثر ذاتی عناد نکالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس سے عام شہری خوف زدہ رہتا ہے۔

حل کیا ہے؟

اگر ہم اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں چند بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

جب تک ریاست ہر شہری کو یہ احساس نہیں دلائے گی کہ قانون اس کے تحفظ کے لیے ہے، تب تک بدمعاشی ختم نہیں ہوگی۔

ہمارے تعلیمی نظام میں "رواداری" اور "اختلافِ رائے کے احترام" کو لازمی موضوع بنانا ہوگا۔

مسلم ممالک اور تیسری دنیا کے ممالک کو مل کر ایک ایسا معاشی اور دفاعی بلاک بنانا ہوگا جو عالمی طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے بند باندھ سکے۔

تاریخ گواہ ہے کہ فرعون ہو یا ہٹلر، ظلم کی بنیاد پر قائم ہونے والی سلطنتیں ہمیشہ مٹی میں مل جاتی ہیں۔ طاقت کا زعم انسان کو اندھا کر دیتا ہے، لیکن سچائی کی روشنی کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔

پاکستانی معاشرے کو اگر بچانا ہے تو ہمیں "بندوق کی زبان" کو "دلیل کی زبان" سے بدلنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

بستی والے تو خاموش رہے، پر ہوا نے بہت شور مچایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خاموشی توڑی جائے اور ہر سطح پر ہونے والی اس غنڈہ گردی کے خلاف آواز اٹھائی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔