اسلام آباد سفارتی سرگرمیوں کا نیا مرکز اور پاکستان کی ثالثی کی نیک نیت حقیقت

 




--- روما محمود---



پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 29 مارچ 2026 کو ترکی کے وزیر خارجہ خاقان فیدان اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سنیچر کی رات اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان ال سعود کی آمد بھی متوقع ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق دار کی دعوت پر یہ تینوں وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں چار فریقی مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس نہ صرف علاقائی کشیدگی پر بات چیت کا موقع فراہم کرے گا بلکہ ایران-امریکہ تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی ابھرتی ہوئی ثالثی کا کردار بھی اجاگر کرے گا۔



یہ حالیہ سفارتی ہلچل اتفاقی نہیں ہے۔ فروری 2026 سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے مشرق وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے، تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور پاکستان جیسے درآمد کنندہ ممالک کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان نے نہ صرف فون ڈپلومیسی کے ذریعے متحرک کردار ادا کیا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا پل بن گیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق دار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے متعدد بار رابطہ کیا، جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی گفتگو کی۔ ایرانی صدر نے پاکستان کی ثالثی کی تعریف کرتے ہوئے اسے "امن کی کوشش" قرار دیا۔


امریکی اور ایرانی حکام کی آمد کی خبریں بھی اسی سفارتی ماحول کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی وفد — جس میں صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف اور جارڈ کشنر سمیت اعلیٰ سطح کے حکام شامل ہو سکتے ہیں  جلد ہی اسلام آباد پہنچنے والا ہے۔ پاکستان نے واشنگٹن کا 15 نکاتی امن منصوبہ تہران تک پہنچا دیا ہے، جس میں پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام کی نگرانی، میزائل حدود اور ہرمز آبنائے میں جہاز رانی کی آزادی جیسے اہم امور شامل ہیں۔ 

ایرانی حکام نے اس منصوبے پر غور کیا ہے، البتہ اعتماد کی کمی کی وجہ سے براہ راست مذاکرات میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، پاکستان کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ترکی و مصر بھی اس عمل میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔



پاکستان کی ثالثی، موقع یا چیلنج؟

یہ سفارتی سرگرمیاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی پختگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک طرف امریکہ سے قریبی تعلقات (فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان رابطے اس کی مثال ہیں) اور دوسری طرف ایران کے ساتھ تاریخی اور مذہبی روابط — یہ دونوں عناصر پاکستان کو منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور مصر جیسے اہم علاقائی کھلاڑی بھی پاکستان کو ثالث کے طور پر قبول کر رہے ہیں۔ یہ چار فریقی اجلاس اسی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ثالثی کا کردار آسان نہیں۔ ایران-امریکہ کے درمیان خلیج بہت گہری ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایرانی تنصیبات پر حملے، حوثیوں کی کارروائیاں اور خطے میں امریکی فوجی تعیناتی ۔

 یہ سب عوامل امن کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ پاکستان کو اپنے قومی مفادات کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہمارا ملک توانائی بحران، معاشی دباؤ اور داخلی استحکام کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ اگر یہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوئیں تو نہ صرف خطے میں امن آئے گا بلکہ پاکستان کو معاشی فوائد بھی ملیں گے — تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، سرمایہ کاری آئے گی اور عالمی سطح پر ہمارا وقار بڑھے گا۔

اس کے برعکس، ناکامی کی صورت میں پاکستان کو دونوں طرف سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے اعتماد کی بات کی ہے، امریکی انتظامیہ نے بھی "پانچ دن" کی مہلت کا ذکر کیا ہے۔ اس لیے اسلام آباد کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق دار کی قیادت میں جاری یہ کوششیں نہ صرف موجودہ بحران بلکہ مستقبل کی علاقائی سفارتکاری کے لیے ایک نمونہ ثابت ہو سکتی ہیں۔



آج اسلام آباد مشرق وسطیٰ کے سفارتی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ سعودی، ترک اور مصری وزرائے خارجہ کی آمد، ایرانی حکام کے رابطے اور امریکی وفد کی متوقع آمد — یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نے خاموشی سے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی متحرک خارجہ پالیسی اور فوج کے سربراہ کی سفارتی مصروفیات نے یہ ممکن بنایا ہے۔

عالمی تاریخ گواہ ہے کہ ایسے بحرانوں میں ثالثی کرنے والے ممالک نہ صرف امن کے معمار بنتے ہیں بلکہ خود کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ پاکستان اگر اس موقع کو درست طور پر استعمال کرے تو نہ صرف خطے میں امن کا معمار بن سکتا ہے بلکہ اپنے معاشی اور سیاسی تمکنت کو بھی بلند کر سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ چار فریقی اجلاس اور ممکنہ امریکہ-ایران مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے۔

امید ہے کہ اسلام آباد کی یہ سفارتی سرگرمیاں صرف خبروں کی سرخیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ حقیقی امن کی بنیاد رکھیں۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ خطے کا ذمہ دار کھلاڑی ہے — نہ صرف اپنے مفادات کا بلکہ علاقائی استحکام کا بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔