کیا یہ صرف سفارت کاری ہے یا کوئی نتیجہ خیز ملاقات ہے ۔
---روما محمود---
اتوار، 29 مارچ 2026
کو اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیوں کا ایک بھرپور اور تاریخی سنگم دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی دارالحکومت اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، جہاں مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ (US-Israel war on Iran) کے خاتمے اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم چار فریقی سفارتی مشاورت جاری ہے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میزبانی میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا چار فریقی اجلاس (Quadrilateral Consultations) منعقد ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں شرکت کرنے والے وزرائے خارجہ یہ ہیں.
پاکستان: محمد اسحاق ڈار
سعودی عرب: شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود
ترکیہ: حکا ن فیدان (Hakan Fidan)
مصر: ڈاکٹر بدر عبدالعاطی (Badr Abdelatty)
یہ دو روزہ مشاورت (29 اور 30 مارچ) کا مقصد ایران جنگ کو ختم کرنے، امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی راہ ہموار کرنے، اور خطے میں استحکام لانے کی کوشش ہے۔
اجلاس میں علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی کی کوششیں، اور سیاسی حل کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہو رہا ہے۔
وزرائے خارجہ نےوزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور علاقائی امور پر مشاورت ہوئی۔
پاکستان اس وقت امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر فریقین کے درمیان پیغام رسانی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی تھی۔
ماہرین کے مطابق اسلام آباد اب مشرق وسطیٰ بحران میں (diplomatic hub) کا درجہ حاصل کر چکا ہے، جو پاکستان کی غیر جانبدار اور فعال کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ سرگرمیاں ایران جنگ کے 30ویں دن سامنے آئی ہیں، جب علاقائی طاقتیں مل کر امریکہ اور ایران کو سفارت کاری کی طرف راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پاکستان کی کوششوں کو علاقائی اور عالمی سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
اس دن اسلام آباد کی سڑکیں، ہوائی اڈے اور وزارت خارجہ کی عمارت سفارتی وفود، سیکورٹی کے سخت انتظامات اور میڈیا کی سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔
یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جو خطے میں امن کی بحالی میں اس کا مثبت اور ذمہ دارانہ کردار واضح کرتا ہے۔
امید کی جاتی ہے کہ یہ مشاورت نتیجہ خیز ثابت ہوگی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

Comments