سفارتی محاذ آرائی الزامات کی سیاست اور تلخ حقائق
--- روما محمود---
پاک بھارت تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط تنازعات، تلخ بیانات اور سفارتی کھینچا تانی سے بھری پڑی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں لفظی جنگ نے ایک نئی شدت اختیار کر لی ہے۔ دفترِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان محض ایک جوابی ردِعمل نہیں بلکہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ان دعوؤں کا آئینہ ہے جو اکثر 'تشویش' کے لبادے میں اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرا بی کا یہ دو ٹوک موقف کہ بھارت کے ریمارکس "طنزئیہ اور گمراہ کن" ہیں، اس سچائی کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اب محض بیانیہ سازی سے کام نہیں چلے گا، بلکہ زمینی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
اعلامیے میں جن اعداد و شمار کا ذکر کیا گیا ہے، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ سال 2025 میں بھارت میں 55 سے زائد مسلمانوں کا ہجوم کے ہاتھوں قتل (Lynching) اور 2026 کے ابتدائی تین ماہ میں یہ تعداد 19 تک پہنچ جانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہاں اقلیتوں کے گرد گھیرا کس حد تک تنگ ہو چکا ہے۔
جب مذہبی مقامات، خاص طور پر مساجد کو انتہا پسند گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے اور ریاست مجرموں کو کٹہرے میں لانے کے بجائے خاموش تماشائی بنی رہے، تو اسے "ریاستی سرپرستی" کے سوا کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
بھارتی وزارتِ خارجہ اکثر پاکستان کے حوالے سے بیانات جاری کرتے ہوئے یہ بھول جاتی ہے کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں پھینکے جاتے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی متعدد رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے خلاف تشدد اب انفرادی واقعات نہیں رہے بلکہ یہ ایک "نارمل" عمل بنتا جا رہا ہے۔ گھروں کی مسماری، عبادت گاہوں پر حملے اور روزگار کے ذرائع کی بندش اس منظم امتیاز کا حصہ ہیں جسے عالمی برادری اب مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔
پاکستان کا مطالبہ نہایت سادہ اور منطقی ہے۔
بھارت اپنے آئینی اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرے۔ دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانے سے بہتر ہے کہ اپنے ملک کے اندر بسنے والی اقلیتوں کو وہ تحفظ فراہم کیا جائے جس کا حق انہیں بھارت کا اپنا آئین دیتا ہے۔ انتہا پسندی کی یہ لہر نہ صرف بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کر رہی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
سفارتی سطح پر اس طرح کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تک بھارت اپنی پالیسیوں میں اخلاص اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سنجیدگی نہیں لاتا، خطے میں کشیدگی کم ہونا ناممکن ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی ادارے ان دستاویزی شواہد کا نوٹس لیں جن کا ذکر پاکستانی دفترِ خارجہ نے کیا ہے، تاکہ انسانیت کے خلاف بڑھتے ہوئے ان جرائم کا راستہ روکا جا سکے۔
کیا آپ چاہیں گے کہ میں اس کالم کے لیے کوئی مناسب سرخی تجویز کروں یا اس کے کسی خاص حصے پر مزید تفصیل لکھوں؟

Comments