اذان اللہ سب سے بڑا ہے ۔آو نماز کے لئے آو ، آو کامیابی کے لیے آو ۔

 



--- روما محمود---



طلوعِ فجر کے دھندلے اجالوں سے لے کر رات کی سیاہی کے گہرے ہونے تک، فضاؤں میں ایک ایسی صدا گونجتی ہے جو صدیوں سے انسانی روح کو بالیدگی اور معاشرے کو ایک انوکھا نظم و ضبط عطا کر رہی ہے۔

یہ 'اذان' ہے.

اذان کیا ہے ؟ 

اللہ کی طرف سے پکار ہے ۔

آو نماز کے لیے آو 

آو کامیانی کی طرف آو۔

اذان میں ایک راز ہے جو اس کو غور سے سننے والے کو ملتا ہے ۔


 
محض نماز کا بلاوا نہیں، بلکہ کائنات کے سب سے بڑے سچ 'توحید' کا وہ اعلانِ عام ہے جو ہر روز پانچ مرتبہ کرہ ارض کے ہر کونے میں سنائی دیتا ہے۔

اذان کی ابتدا مدینہ منورہ میں ہوئی جب مسلمانوں کو باجماعت نماز کے لیے جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مشاورت کے بعد اللہ تعالیٰ نے صحابیِ رسول حضرت عبداللہ بن زیدؓ کو خواب میں اذان کے کلمات سکھائے، جن کی تائید حضرت عمر فاروقؓ نے بھی کی۔ جب مسجدِ نبوی کی چھت پر کھڑے ہو کر حضرت بلال حبشیؓ نے پہلی بار اپنی بلند اور سوز بھری آواز میں 'اللہ اکبر' کی صدا بلند کی، تو گویا تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہوا۔ وہ آواز جو صدیوں پہلے صحرائے عرب سے اٹھی تھی، آج بھی دنیا کے ہر طول و عرض میں مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشتی ہے۔

تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹیں تو مدینہ منورہ کی وہ فضا یاد آتی ہے جہاں پہلی بار حضرت بلال حبشیؓ کی پرسوز آواز نے فضائے بسیط میں 'اللہ اکبر' کی ضرب لگائی تھی۔ وہ آواز جو صحرائے عرب کی تپتی ریت سے اٹھی تھی، آج دنیا کے ہر طول و عرض میں مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشنے کا استعارہ بن چکی ہے۔

اذان کا ہر لفظ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو مادی دنیا کے جھمیلوں، کاروباری مصروفیات اور نفسانی خواہشات سے نکال کر ایک ایسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے جس کا تعلق براہِ راست خالقِ کائنات سے ہے۔

معاشرتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اذان ایک بہترین 'ٹائم مینجمنٹ' اور سماجی یگانگت کا نظام ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں افراتفری اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہے، اذان کی آواز ایک 'توقف' (Pause) کا کام کرتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ وقت ساکن نہیں بلکہ رواں ہے اور ہر گزرتا لمحہ ہمیں اپنی اصل ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرواتا ہے۔ یہ رنگ، نسل، زبان اور طبقے کی تفریق کو مٹا کر سب کو ایک ہی مرکز اور ایک ہی صف کی طرف بلاتی ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں انسان اسکرینوں کا اسیر ہو کر رہ گیا ہے، اذان کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ جب موبائل کی رنگ ٹونز اور نوٹیفیکیشنز کے شور میں مؤذن کی آواز گونجتی ہے، تو یہ دراصل ایک پیغام ہوتا ہے کہ "فلاح" ٹیکنالوجی یا مادی ترقی میں نہیں بلکہ اپنے رب کے حضور سر بسجود ہونے میں ہے۔

یہ آواز ہمیں غفلت کی نیند سے جگانے کا وہ مستقل ذریعہ ہے جو کسی بیٹری یا چارجنگ کا محتاج نہیں۔

بدقسمتی سے ہم نے اذان کو صرف ایک روایتی آواز سمجھ لیا ہے، حالانکہ یہ ایک ایسا الہامی پکار ہے جو انسانی ضمیر کو بیدار رکھنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

اگر ہم صرف اذان کے کلمات اور اس کے پیغام پر غور کریں، تو ہمارے معاشرے میں پھیلی بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان اس عہد کی تجدید ہے جو کائنات کی بنیاد ہے۔

اذان محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ یہ ہماری ثقافت، ہماری شناخت اور ہمارے روحانی وجود کی بقا ہے۔ یہ وہ نغمہ ہے جو کسی ساز کا محتاج نہیں، بلکہ براہِ راست دل کی گہرائیوں پر دستک دیتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس پکار کی روح کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں کو اسی نظم و ضبط میں ڈھالیں جس کا درس ہمیں ہر روز پانچ مرتبہ دیا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔